یاسمین راشد کی بیٹی کا میڈیکل یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدے پر تقرر، تنقید کی زد میں

اپ ڈیٹ 23 فروری 2021

ای میل

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (کے ای ایم یو) میں مبینہ طور پر نئے تخلیق کردہ عہدے پر صوبائی وزیر صحت ٖڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی کے انتخاب پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے جو اسے من پسند فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ ینگ ڈاکٹرز نے حکومت پنجاب کی جانب سے میو ہسپتال کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ کے تحت کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور مذکورہ تعیناتی کے تقریباً 40 روز بعد اس کا نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا۔

اس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کی بیٹی ڈاکٹر عائشہ علی کو ادارے میں ایک نیا شعبہ بنا کر صرف وزیر صحت کو خوش کرنے کے لیے 'ایڈجسٹ' کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور: صوبائی وزیر کی وزارت میں برادر نسبتی اہم عہدے پر تعینات

انہوں نے مزید کہا کہ عائشہ علی کو کانٹریکٹ کے بجائے مستقل ملازم کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

جس پر سوشل میڈیا صارفین نے صحت اور دیگر حکام پر مذکورہ تعیناتی پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، 12 جنوری کو جاری ہونے والی نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر عائشہ علی کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے سیلیکشن بورڈ نے گریڈ-19 کے 'فیٹل میڈیسن' اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر منتخب کیا تھا۔

میو ہسپتال کے سربراہ اور ڈین آف سرجری اینڈ الائیڈ پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان نے من پسند قرار دیئے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس عہدے پر تقرر کے لیے مکمل قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کیا گیا۔

مزید پڑھیں: چکوال کی بااثر سیاسی شخصیت نے پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرلی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'اس عہدے کے اشتہار کے جواب میں جنہوں نے اپلائی کیا تھا ان سب میں ڈاکٹر عائشہ علی سب سے زیادہ قابل اور تجربہ کار فرد تھیں' بلکہ کسی اور اُمیدوار کے پاس درکار قابلیت ہی نہیں تھی۔

ڈاکٹر اسلم خان نے مزید کہا کہ 'یہ اُمیدوار برطانیہ میں کام کرتے ہوئے بھاری معاوضہ حاصل کررہی ہیں، ان کے وطن واپس آنے کے فیصلے اور گائنی اینڈ آبسٹیٹرکس میں جدید سب اسپیشیلٹی قائم کرنے کے ارادے کو سراہا جانا چاہیے'۔

ڈاکٹر عائشہ علی کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر کا مزید کہنا تھا کہ 'انٹرویو کے وقت انہیں معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ یاسمین راشد کی بیٹی ہیں، ہم ان کی قابلیت، تجربے، اعتماد اور ہر رکن کے سوالات کا جواب دینے کے طریقے سے متاثر ہوئے'۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی شکست، پرویز خٹک کے بھائی کو صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس عہدے کے انٹریو اور انتخاب سے قبل اس کا اشتہار قومی اخبارات میں شائع کروایا گیا تھا جو ضروری ہے، قانون کے مطابق سلیکشن پینل یہ دیکھے بغیر کہ اُمیدوار وزیر کی بیٹی ہے یا نہیں، تمام اُمیدواروں کی درخواست قبول کرنے کا پابند ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جس سب اسپیشیلٹی پر ڈاکٹر عائشہ علی کو منتخب کیا گیا ہے وہ ان 4 ڈسِپلنز میں شامل ہے جنہیں اعلیٰ قابلیت اور تجربے والے ڈاکٹرز تعینات کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔