کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل دوسرے ماہ بھی منفی

اپ ڈیٹ 23 فروری 2021

ای میل

مسلسل دوسرے ماہ کرنٹ اکاؤنٹ منفی رہا—فائل فوٹو:
مسلسل دوسرے ماہ کرنٹ اکاؤنٹ منفی رہا—فائل فوٹو:

کراچی: ملک میں مسلسل دوسرے ماہ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ ہے اور یہ حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ وہ اسے صفر پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دسمبر 2020 کے 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 64.84 فیصد سکڑ گیا۔

تاہم مالی سال 21-2020 کے پہلے 7 ماہ کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے ساتھ مثبت ہے تاہم ہر ماہ سرپلس کے ساز میں کمی ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں: مزید پڑھیں: کورونا کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل 5ویں ماہ سرپلس

واضح رہے کہ مالی سال 20 کے 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈھائی ارب ڈالر تھا جبکہ پورے مالی سال 2020 میں یہ 2 ارب 97 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکومت 2018 میں 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرتے ہوئے رواں سال سرپلس میں لانے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن رجحان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مالی سال 2021 کے آخر تک کرنٹ اکاؤنٹ منفی ہوسکتا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ ہوا لیکن برآمدات اس تجارتی فرق کو ختم کرنے کے اس حد تک بہتر نہیں ہوسکیں، اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے 7 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 14 ارب 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں معمولی سی کم ہوکر 13 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک دیکھی گئیں۔

تاہم درآمدات میں مزید اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 21 کے 7 ماہ میں 27 ارب 63 کروڑ 90 ارب ڈالر کو پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 26 ارب 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں، زیر جائزہ عرصے میں مال کی تجارت پر بیلنس 13 ارب 74 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ میں رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا خسارہ تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مال اور خدمات کی تجارت پر بیلنس گزشتہ سال کے 13 ارب 49 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 14 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خسارے پر ریکارڈ کیا گیا۔

ادھر حکومت کی جانب سے برآمدات کو بڑھانے کے لیے مختلف مراعات فراہم کی جارہی ہیں لیکن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ترقی سست ہے اور ابھی تک گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم ہے، مزید یہ کہ ٹیکسٹائل ملک کے لیے برآمدات کا 55 سے 60 فیصد حاصل کرکے دیتی ہے لیکن کپاس کی پیداوار کی بدترین کارکردی نے صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں بیرونی قرضوں کی سروسنگ 7 ارب ڈالر رہی

ٹیکسٹائل ملرز کہتی ہیں کہ رواں مالی سال کے آخر تک کپاس کی درآمدات کی لاگت 3 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ تجارتی فرق مزید بڑھے گا اور بالآخر کرنٹ اکاؤنٹ منفی میں جاسکتا ہے، اب تک ٹیکسٹائل ملرز ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کپاس درآمد کرچکے ہیں۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ جنوری کا خسارہ دسمبر کے خسارے (65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) سے کم تھا، اگر خسارہ ہر ماہ 20 سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان رہتا ہے تو مالی سال 2021 کے اختتام تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر یا نہ ہونے کے برابر ہوسکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آجاتا ہے تو غیرملکی سرمایہ کاری اور برآمدات دونوں بڑھیں گی اور اس سے رواں مالی سال کے لیے ملک کو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رکھنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔


یہ خبر 23 فروری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی