کووڈ 19 ویکسینز حاملہ خواتین کے لیے نقصان دہ نہیں، تحقیق

12 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کووڈ 19 ویکسین کے استعمال سے حاملہ خواتین کے آنول کو نقصان نہیں پہنچتا اور اس کا استعمال حمل کے دوران محفوظ ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ آنول کسی طیارے کے بلیک باکس جیسا ہوتا ہے، اگر حمل کے دوران کچھ بھی غلط ہوتا ہے، تو ہمیں اس میں تبدیلیوں سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ معاملہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے ہم بتا سکتے ہیں کہ کووڈ ویکسین سے آنول کو نقصان نہیں پہنچتا۔

طبی جریدے جرنل اوبیسٹرک اینڈ گائنالوجی میں شائع تحقیق میں پہلی بار آنول پر کووڈ ویکسینز کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

محققین نے بتایا کہ ویکسین کی تقسیم اب اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں ہم ان کے حوالے سے لوگوں میں ہچکچاہٹ کو دیکھ رہے ہیں، بالخصوص حاملہ خواتین میں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ تحقیق کے نتائج ابتدائی ہیں مگر ہمیں توقع ہے کہ اس سے لوگوں میں یہ خدشات کم ہوں گے کہ ویکسین سے حاملہ خواتین کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 84 ایسی حاملہ خواتین کے آنول کو دیکھا گیا جن کی ویکسینیشن ہوچکی تھی اور نتائج کا موازنہ 116 ویکسین استعمال نہ کرنے والی حاملہ خواتین کے آنول سے کیا گیا۔

ان سب خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوچکی تھی اور اس موقع پر ہی یہ جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

ان محققین کی ایک تحقیق کے نتائج گزشتہ سال مئی میں جاری ہوئے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے حاملہ خواتین کے آنول کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس حوالے سے محققین نے بتایا کہ حاملہ خواتین کو ویکسینیشن سے کووڈ سے محفوظ رکھ کر اس پیچیدگی سے بچایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح اپریل 2021 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ویکسینیشن سے حاملہ خواتین میں اینٹی باڈیز بنتی ہیں جو وہ اپنے بچوں میں بھی منتقل کردیتی ہیں۔

نئی تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ جب تک نومولود بچوں کی ویکسینیشن نہیں ہوتی، اس وقت تک ان کی ماؤں سے اینٹی باڈیز ان کو منتقل کرنا ہی واحد ذریعہ ہے۔

تحقیق کے دوران مختلف عناصر کا جائزہ لینے پر دریافت کیا گیا کہ ویکسین استعمال کرنے والی خواتین کے آنول میں آنے والی تبدیلیاں ان خواتین کی طرح ہی تھیں جو کووڈ 19 سے محفوظ رہی تھیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کی مکمل تصدیق کے لیے زیادہ بڑی تحقیق کی ضرورت ہوگی جس میں کم از کم ایک ہزار خواتین کو شامل کیا جائے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں