کراچی: امن و امان برقرار رکھنے کیلئے نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2021
پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کی تھی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی تھی—فائل/فوٹو: پی پی آئی
پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کی تھی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی تھی—فائل/فوٹو: پی پی آئی

کمشنر کراچی نے نسلہ ٹاور کے اطراف میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کردیا۔

کمشنر کراچی اقبال میمن کی جانب سےجاری احکامات کے مطابق نسلہ ٹاور کے اطراف میں 4 افراد سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے۔

مزید پڑھیں: کراچی: نسلہ ٹاور کے باہر متاثرین، بلڈرز کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج

اس سےقبل جمعےکو نسلہ ٹاور گرانے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی، جس پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ 15 منزلہ رہائشی عمارت کو مسمار کردیا جائے جو شاہراہ فیصل اور شارع قائدین کے سنگم پر واقع ہے جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ تجاوز کرکے سروس روڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے 27 نومبر کی تاریخ کے ساتھ جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نسلہ ٹاور گرانے کا کام بھرپور انداز میں جاری ہے تاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق جلد سے جلد کام مکمل کیا جائے۔

اس سے قبل جمعے کو بتایا گیا تھا کہ خدشہ ہے کہ حالات خراب ہوجائیں اور چند لوگ رکاوٹیں عبور کر کے خود کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ڈان ڈاٹ کام کو موصول ہونے والے نوٹس کے مطابق ڈپٹی کمشنر شرقی کی جانب سے ٹاور کے انہدام کے دوران لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کی درخواست قابل عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا شادی ہالز، سینما دفاع کیلئے ہیں؟ چیف جسٹس کی عسکری زمین کے کمرشل استعمال پر سرزنش

کمشنر کراچی نے احکامات میں کہا کہ ‘میں متعلقہ انتظامی عملہ، انجینئرز، مزدور اور ٹھیکیدار کے علاوہ نسلہ ٹاور کے اطراف اور اندر لوگوں کے جمع ہونے اور رکاؤٹیں عبور کرنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کرتا ہوں تاکہ انہدام کے کام کی تکمیل کے دوران امن و امان کے حوالے سے کسی قسم کے ناخوش گوار واقعے سے بچاجائے’۔

ڈپٹی کمشنر اور فیروز آباد کے اسسٹنٹ کمشنر کو خلاف ورزی کرنے والے خلاف ایس ایس پی سے مشاورت کے ساتھ کارروائی کرنے اور تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

قبل ازیں جمعے کو پولیس اور رینجرز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی جبکہ متاثرین اور بلڈرز کی جانب سے نسلہ ٹاور گرانے کا کام روکنے کی کوشش کی جارہی تھی اور اس کچھ دیر قبل سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو ٹاور ایک ہفتے کے اندر مسمار کرنے کے لیے کام میں تیزی لانے کی ہدایت کی تھی۔

عہدیداروں اور عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نسلہ ٹاور پہنچے اور نرسری کے قریب چورنگی پر شاہراہ فیصل بلاک کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں فورسز نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی۔

پولیس ترجمان نے کہا تھا کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور پولیس نے مظاہرین کو روڈ سے ہٹادیا جبکہ آباد کےچیئرمین محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کی گئی۔

مزید پڑھیں:کراچی کی ساری مشینری لے کر ابھی جائیں اور نسلہ ٹاور گرائیں، چیف جسٹس کا حکم

محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ 20 سے 25 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

نسلہ ٹاور گرانے کے احکامات

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 16 جون کو 15 منزلہ عمارت گرانے کے لیے ابتدائی احکامات دیے تھے، جس کو سروس روڑ پر تعمیر کرنے پر تجاوزات قرار دیا تھا۔

بعد ازاں 19 جون کو تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے بلڈر کو حکم دیاتھا کہ وہ رہائشی اور کمرشل متاثرین کو تین مہینوں کے اندر ادائیگی کریں۔

جس کے بعد نسلہ ٹاور کے بلڈرز نے اپیل دائر کی جس کو گزشتہ ماہ مسترد کردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 25 اکتوبر کو کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ وہ کنٹرول دھماکے کے ذریعے ایک ہفتے کے اندر نسلہ ٹاور گرادیں اور رپورٹ پیش کریں اور اس حوالے سے کمپنیوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے اخراجات سے آگاہ کریں اور ان میں سے دو کمپنیوں کو شارٹ لسٹ بھی کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: یہ شہر ہے ہی نہیں کچرا ہے، چیف جسٹس کراچی تجاوزات کیس میں حکومت سندھ پر برہم

ان حکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو نوٹسز جاری کیے تھے کہ وہ 15 منزلہ عمارت 27 اکتوبر تک خالی کریں ورنہ متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

جس کے بعد تمام رہائشیوں نے 28 اکتوبر تک اپنے اپارٹمنٹس خالی کردیے تھے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں نسلہ ٹاور گرانے کا کام شروع کردیا گیا تھا جبکہ عدالت نے کمشنر کراچی کو احکامات کی بجاآوری میں ناکامی پر سرزنش کی تھی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے آج (جمعہ 26 نومبر کو) کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران کمشنر کراچی کو احکامات دیے ہیں کہ نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے میں گرادیں۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں