کراچی: نسلہ ٹاور کے باہر متاثرین، بلڈرز کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2021
پولیس نے شیلنگ کی—فوٹو: ڈان نیوز
پولیس نے شیلنگ کی—فوٹو: ڈان نیوز

کراچی میں نسلہ ٹاور کے باہر متاثرین اور بلڈرز کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے جہاں پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

سپریم کورٹ نے شاہراہ فیصل اور شارع قائدین کے سنگم میں تعمیر نسلہ ٹاور کو فوری مسمار کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کیا شادی ہالز، سینما دفاع کیلئے ہیں؟ چیف جسٹس کی عسکری زمین کے کمرشل استعمال پر سرزنش

جس کے بعد ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔

ایس ایس پی جنوبی کے مطابق حالات معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کے شیل فائر کیے گئے۔

مظاہرین شاہراہ فیصل بلاک کرنے کی کوشش کر رہے تھے جہاں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے سڑک بند کرنے کی کوشش ناکام بنا دی اور مظاہرین گلیوں میں منتشر ہوگئے۔

ڈپٹی چیئرمین آباد کے مطابق ان کا ہاتھ توڑ دیا گیا ہے اور متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈان نیوز سےبات کرتے ہوئے آباد کے چیئرمین محسن شیخانی نے بتایا کہ آباد نے آج اپنا کاروبار بند کردیا ہے، ہم نسلہ ٹاور کے باہر پرامن احتجاج کے لیے آئے تھے لیکن ہم پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں پر تشدد کیا جارہا ہے، پاکستان میں کاروباری افراد کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے، جو پرامن کھڑا ہونا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو اپنا نکتہ نظر سے آگاہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کو مارا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کی ساری مشینری لے کر ابھی جائیں اور نسلہ ٹاور گرائیں، چیف جسٹس کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کا یہ حال ہوگیا، کاروبار کو لے کر چلنا بہت مشکل ہوگیا ہے، ابھی تو بلڈرز احتجاج کر رہے ہیں، پھر رئیل اسٹیٹ والے کریں گے اور پوری صنعت کرے گی، یہ کراچی سے شروع ہو کر حیدرآباد، اسلام آباد اور لاہور سمیت ہر جگہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم کاروبار نہیں کرسکتے ہیں، جب ہماری اپنی منظوری کی اہمیت نہ ہو اور غیرقانونی تعمیرات چلے تو پھر کاروبار کیسے ہوگا، کاروبار کے لیے مختلف صورت حال ہوجائے گی۔

محسن شیخانی نے کہا کہ مذاکرات بھی نہیں ہوئے اور کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے بلکہ مارا جارہا ہے، سب کو مارنے کی کوشش کی جارہی ہے، شیلنگ کر رہے ہیں، ڈنڈے مار رہے ہیں اور لوگوں کے ہاتھ توڑ دیے ہیں، پتا نہیں یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔

مطالبات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا کام عدالتوں میں اپنے احکامات کا دفاع کرنا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پالیسی بنائیں ریگولیشن لائیں، کوئی کمیشن بنائیں، کوئی ایسا ادارہ بنائیں تاکہ دوسرا کوئی ادارہ تنگ اور بیلک میل نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایک منظوری کا کیا مطلب ہوتا ہے، جب اپنی منظوریوں اور دستاویزات، این او سیز کو نہیں مانتے ہیں تو کاروبار کیسے ہوگا، کیا ہم غیرقانونی کام کریں؟

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور ایک ہفتے میں 'دھماکا خیز مواد' سے منہدم کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ پولیس احتجاج کے لیے سروس روڈ پر بھی نہیں آنے دے رہی ہے، کم ازکم لوگوں کو پتا تو چلے کہ کراچی والوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

محسن شیخانی نے کہا کہ کافی لوگ زخمی ہوگئے ہیں اور ہمارے سینئر نائب صدر کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے، کسی کو شیل لگے ہیں اور20 سے 25 لوگوں کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے اور وہ ہسپتال چلے گئے ہیں۔

وزیراعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ آکر بات کریں، محسن شیخانی

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ کسی سے بات کریں، ہمیں بتایا جائے ہم کیا کریں، کاروبار کریں یا بند کریں، کس طرح چیزوں کو لے کر چلیں، ہمیں کوئی لائحہ عمل نہیں بتائیں گے تو صنعت، لوگوں اور سرمایہ کاری کو کیسے تحفظ ملے گا، حالانکہ ہم ان سب کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں تحفظ نہیں ملا تو کیا ہوگا، گھروں سے نکال کر منظور شدہ عمارت کو توڑ دیا جائے گا اور حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول تحفظ نہیں دے گی، سندھی مسلم سوسائٹی جس نے زمین دی، وہ لوگ تحفظ نہیں دیں گے تو پھر کیا ہوگا۔

محسن شیخانی نے کہا کہ ان چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے، قانون نام کی کوئی چیز ہوگی تو کام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نہیں آرہا تو ہم اپنا کاروبار تو بند کرسکتے ہیں، کوئی ہمارے گھروں میں تو نہیں بھیجے گا، اگر کوئی نہیں آیا تو ہم اپنی سرمایہ کاری یہاں سے باہر لے کر چلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور کے بلڈرز کو خریداروں کی رقم 3 ماہ میں واپس کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ چند لوگ پنجاب، دبئی اور دیگر ممالک منتقل ہوجائیں گے، کم از کم وہاں قانون تو ہوگا، سرمایہ کاری ہمیشہ ڈائریکشن پر کی جاتی ہے، جہاں موقع ملے گا وہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اداروں سے کہہ رہے ہیں کہ بیٹھیں، پالیسی بنائیں اور ایک لکیر کھینچیں اور چیزوں کو حتمی شکل دیں کہ ہم آگے کیسے چلیں گے۔

محسن شیخانی نے کہا کہ پالیسی بنانا حکومتوں کا کام ہے، حکومت کو آنا چاہیے، وزیراعلیٰ، وزیراعظم اور گورنر کو یہاں آنا چاہیے، ان لوگوں کو یہاں آکر دیکھنا چاہیے کہ کاروباری برادری کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے۔

نسلہ ٹاور گرانے کے احکامات

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 16 جون کو 15 منزلہ عمارت گرانے کے لیے ابتدائی احکامات دیے تھے، جس کو سروس روڑ پر تعمیر کرنے پر تجاوزات قرار دیا تھا۔

بعد ازاں 19 جون کو تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے بلڈر کو حکم دیاتھا کہ وہ رہائشی اور کمرشل متاثرین کو تین مہینوں کے اندر ادائیگی کریں۔

جس کے بعد نسلہ ٹاور کے بلڈرز نے اپیل دائر کی جس کو گزشتہ ماہ مسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: یہ شہر ہے ہی نہیں کچرا ہے، چیف جسٹس کراچی تجاوزات کیس میں حکومت سندھ پر برہم

سپریم کورٹ نے 25 اکتوبر کو کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ وہ کنٹرول دھماکے کے ذریعے ایک ہفتے کے اندر نسلہ ٹاور گرادیں اور رپورٹ پیش کریں اور اس حوالے سے کمپنیوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے اخراجات سے آگاہ کریں اور ان میں سے دو کمپنیوں کو شارٹ لسٹ بھی کیا گیا تھا۔

ان حکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو نوٹسز جاری کیے تھے کہ وہ 15 منزلہ عمارت 27 اکتوبر تک خالی کریں ورنہ متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

جس کے بعد تمام رہائشیوں نے 28 اکتوبر تک اپنے اپارٹمنٹس خالی کردیے تھے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں نسلہ ٹاور گرانے کا کام شروع کردیا گیا تھا جبکہ عدالت نے کمشنر کراچی کو احکامات کی بجاآوری میں ناکامی پر سرزنش کی تھی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے آج (جمعہ 26 نومبر کو) کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران کمشنر کراچی کو احکامات دیے ہیں کہ نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے میں گرادیں۔

تبصرے (0) بند ہیں