پنجاب: یونیورسٹی آف ایجوکیشن نے ’اسکول مِلک پروگرام‘ کا آغاز کردیا

اپ ڈیٹ 22 دسمبر 2021
منصوبے کی افتتاحی تقریب پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی — تصویر: فیس بک
منصوبے کی افتتاحی تقریب پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی — تصویر: فیس بک

لاہور: یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی جانب سے 90 اسکولوں میں ’اسکول مِلک پروگرام‘ نامی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت یونیورسٹی کے وسائل سے 85 لاکھ روپے کی لاگت سے اسکول کے بچوں کو مفت دودھ فراہم کیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی افتتاحی تقریب پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی۔

تقریب میں پنجاب کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سرفراز، وزیر برائے لائیو اسٹاک حسنین بہادر دریشک، وزیر برائے سماجی بہبود یاور عباس بخاری، یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور فرائیز لینڈ اینگرو پاک لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر علی احمد خان نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں غذائی قلت کا شکار بچوں سے متعلق اہم انکشافات

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے پبلک اسکول سپورٹ پروگرام کے تحت تیار کیا گیا یہ منصوبہ اٹک اور شیخوپورہ کے دور دراز علاقوں میں موجود 90 پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بچوں میں غذائی قلت کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کے وژن کی روشنی میں اس منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے وسائل سے 85 لاکھ روپے کی لاگت سے اسکول کے بچوں کو مفت دودھ فراہم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بچوں میں غذائی قلت سے نمٹنے کے منصوبے کی منظوری

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کی غذائیت کو بہتر بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیمی کامیابیوں کو بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ فرائیز لینڈ اینگرو پاک لمیٹڈ دودھ کی سپلائی چین کے حوالے سے منصوبے کے تحقیقی حصے کی مدد کرے گا اور تحقیق کے لیے وسائل فراہم کرے گا۔

علاوہ ازیں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن مشترکہ طور پر دودھ کی فراہمی سے بچوں کی غذائی حالت اور ان کی اسکول کی کارکردگی پر اس منصوبے کے اثرات کے حوالے سے تحقیق کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے 5 سال سے کم عمر 40 فیصد بچوں کو نشوونما میں مشکلات کا سامنا

صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا کہ غذائی قلت ایک عالمی مسئلہ ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت، نشوونما میں کمی اور کم وزن کا شکار ہے، انہوں نے نے کہا کہ ’یہ منصوبہ ان کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پاسکتا ہے‘۔

منصوبے کے فوکل پرسن ڈاکٹر انتظار حسین بٹ نے شرکا کو منصوبے کی تفصیلات کے حوالے سے بریفنگ دی۔

بعد ازاں فرائیز لینڈ اینگرو پاک لمیٹڈ، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

تبصرے (0) بند ہیں