نوخیز اتحادی حکومت کو اپنی ہی صفوں سے تنقید کا سامنا

قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ جارحانہ مؤقف جمعیت علمائے اسلام ف نے اختیار کیا—تصویر: این اے/انسٹاگرام
قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ جارحانہ مؤقف جمعیت علمائے اسلام ف نے اختیار کیا—تصویر: این اے/انسٹاگرام

11 ہفتے پرانے حکمران اتحاد میں اس وقت دراڑیں نظر آنے لگیں جب یکے بعد دیگرے تقریباً تمام اتحادی جماعتوں نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے ’رویےکی تبدیلی‘ پر قومی اسمبلی میں اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے قبل کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ جارحانہ مؤقف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) نے اختیار کیا، جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد کی اہم جماعتوں میں سے ایک اور مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کلیدی شراکت دار تھی۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات اسد محمود، جن کا تعلق جے یو آئی (ف) سے ہے، نے رباہ کیس میں وفاقی شرعی عدالت (ایف ایس سی) کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے حکومتی فیصلے پر احتجاج کیا۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں بھی مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اپنایا جاتا ہے، خواجہ آصف

یہ شکایت کرتے ہوئے کہ حکومت نے یہ فیصلہ ان کی پارٹی سے مشاورت کے بغیر کیا ہے، جے یو آئی ف کے رہنما نے اشارہ دیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے وضاحت نہ پیش کی تو ان کی جماعت حکمران اتحاد چھوڑنے کی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ وزارت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کیا بینک ان کی ہدایات کے تحت عدالت گئے تھے، ’اگر انہوں نے یہ کام خود کیا ہے، تو پھر انہیں کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ ایسے فیصلوں کے خلاف کس بنیاد پر اپیل میں جائیں۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسد محمود نے کہا کہ کوئی بھی حکومتی وزیر تنہا فیصلے نہیں کر سکتا، آپ ہم سے مشورہ کیے بغیر اپیل دائر نہیں کر سکتے۔

وہ ایک پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر رہے تھے جب اسمبلی میں وفاقی بجٹ 23-2022 کے سلسلے میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے گرانٹس کے مطالبات کی منظوری دی جا رہی تھی۔

مزید پڑھیں: جولائی میں کچھ دنوں کے لیے لوڈشیڈنگ بڑھ سکتی ہے، شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج کوئی وزارت سولو فلائٹ لینا چاہتی ہے تو اسے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے، ہم نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لیا ہے، ہم اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزاریں گے اور ہم ایسے فیصلوں سے خود کو دور کرتے ہیں۔

اس اقدام کے خلاف احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے انہوں نے حکومت سے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر اپیل واپس لی جائے اور اس حوالے سے خاص طور پر اعلان کیا جائے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پروڈکشن آرڈرز جاری ہونے کے باوجود علی وزیر کو اسمبلی میں پیش کرنے میں حکومت کی ناکامی پر احتجاج کیا۔

وزیراعظم کا اتحادی اراکین کیلئے عشائیہ

دوسری جانب وزیراعظم نے گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اہم فیصلوں پر اتحادی جماعتوں کو متحد رکھنے کے لیے اراکین سے ملاقات کی اور اچھے دن آنے کی امید کا اظہار کیا۔

انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا اور ملک کو بے مثال معاشی تنزلی اور سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کا عزم ظاہر کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’اتحادی حکومت 14 ماہ میں ضرور تبدیلی لائے گی، ہم ملک کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے عزم کے ساتھ کام کریں گے‘۔

تبصرے (0) بند ہیں