وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کی مالی معاونت کیلئے نئی ڈیڈ لائن دے دی

<p>کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں میاں بیوی، ان کے 4 کمسن بچے اور کار ڈرائیور ملیر ندی میں ڈوب گئے—فوٹو:پی پی آئی</p>

کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں میاں بیوی، ان کے 4 کمسن بچے اور کار ڈرائیور ملیر ندی میں ڈوب گئے—فوٹو:پی پی آئی

وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کو 50 ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے کے لیے ‘نئی ڈیڈ لائن’ دے دی جب کہ اس سے قبل انہوں نے حکام کو 3 روز میں رقم فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے نقد امداد فراہم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستحقین کو ان کا جائز معاوضہ مل سکے۔

انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو جنوبی سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرنے کی بھی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ملیر ندی میں کار بہہ جانے سے بچہ جاں بحق، 6 لاپتا افراد کی تلاش جاری

انہوں نے سیلاب متاثرین کو خوراک، ادویات اور صاف پانی کی فوری فراہمی کے علاوہ ان کے لیے رہائش گاہ کے انتظامات کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا۔

وزیراعظم نے صوبائی اور وفاقی محکموں کو نقصان کے تخمینے کے لیے 3 ہفتوں کے اندر جوائنٹ سروے کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت امدادی فنڈز دینے والے عالمی اداروں اور دیگر فلاحی تنظیموں سے رابطے میں ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک نے ایمرجنسی ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کے تحت سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے فنڈز دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سندھ میں مزید 13 اموات

کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں میاں بیوی، ان کے 4 کمسن بچے اور کار ڈرائیور ملیر ندی میں ڈوب گئے، ڈوبنے والے 2 بہن بھائیوں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: مختلف علاقوں میں تیز بارش، کرنٹ لگنے سے ایک شہری جاں بحق

ایک اور حادثے میں، گڈاپ ٹاؤن میں سیلاب کے دوران ماں اپنے 2 بچوں کو بچاتے ہوئے ڈوب گئی۔

ان حادثات کے علاوہ شہر میں بارش کے دوران دیگر حادثات میں مزید 3 افراد ڈوب گئے جب کہ 4 افراد کو کرنٹ لگ گیا۔

سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی بارش کے دوران مختلف حادثات پیش آئے، لاڑکانہ میں 100 سے زائد کچے مکانات گر گئے جس کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہوئے۔

مسلسل بارشوں سے حیدرآباد، دادو، جامشورو، لاڑکانہ، سانگھڑ، بدین، میرپورخاص اور عمرکوٹ کے اضلاع کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال رہی۔

بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع

بلوچستان بھر میں مزید 4 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ مسلسل بارشوں اور سیلاب نے مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: بارش سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی مشکلات برقرار، مزید 10 افراد جاں بحق

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں بارشوں اور سیلاب کے دوران جاں بحق افراد کی کل تعداد 200 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ملک سے صوبے کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، بلوچستان کو پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی سڑکیں بند پڑی ہیں۔

کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سکھر شاہراہیں پہلے ہی بند ہیں جب کہ ریلوے سروس گزشتہ 4 روز سے تعطل کا شکار ہے۔

شیرانی کے ڈپٹی کمشنر اعجاز احمد جعفر نے بتایا کہ ژوب ڈیرہ اسماعیل خان ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دناسر کے قریب روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل کے مستقل حل کیلئے منصوبے کا اعلان کریں گے، وزیراعظم

مقامی انتظامیہ کے حکام کے مطابق نصیر آباد میں 25 سے زائد دیہات مکمل طور پر زیر آب ہیں جب کہ سیکڑوں کچے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔

نصیر آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین نے بتایا کہ لہری ریور میں سیلاب کا رخ غیر آباد علاقے کی جانب موڑ کر ڈیرہ مراد جمالی کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا جب کہ ڈیرہ مراد جمالی کے گرد حفاظتی بند مضبوط کرکے سیلاب کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

ڈی جی خان

کوہ سلیمان رینج میں گزشتہ 4 ہفتوں کے دوران پہاڑی پر جاری بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے نے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں سیکڑوں انسانی بستیاں ختم کردیں جب کہ اس دوران ایک درجن سے زائد افراد زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔

ٹھٹہ لغاری کینال کے حفاظتی بند ٹوٹنے سے کلر والا، ریٹارا، جٹ والا، ٹبی قیصرانی، بنبھن دونا، قاضی والا، ڈامرہ، جھڑ، بھٹ والا اور ڈیرہ غازی خان میں درجنوں چھوٹی بستیاں زیر آب آگئیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: مون سون بارشوں کے نتیجے میں 90 افراد ہلاک، 4 ہزار مکانات تباہ

سرکاری خبر رساں اداے اے پی پی نے بتایا کہ پاک فوج نے بلوچستان اور پنجاب کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کارروائیاں جاری رکھیں اور متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے دستے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، نصیر آباد اور لسبیلہ میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔

تبصرے (0) بند ہیں