سیلاب متاثرین کیلئے تمام امدادی اشیا ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، مریم اورنگزیب

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2022
ان کا کہنا تھا کہ فلاحی اداروں و مخیر کام کرنے والوں کو این ڈی ایم اے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا — فوٹو: ڈان نیوز
ان کا کہنا تھا کہ فلاحی اداروں و مخیر کام کرنے والوں کو این ڈی ایم اے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے مچھردانیوں، کشتیوں سمیت تمام امدادی اشیا کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔

مریم اورنگزیب نے متاثرین سیلاب کی امدادی اشیا پر ٹیکس استثنیٰ دینے سے متعلق کابینہ کے فیصلے کی تفصیلات جاری کر دیں۔

جمعرات کو جاری کردہ بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی کابینہ نے 30 اگست 2022 کو ٹیکس استثیٰ کی منظوری دی تھی، سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مچھردانیوں، کشتیوں سمیت تمام امدادی اشیا کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 30 اگست 2022 کو وفاقی کابینہ کی جانب سے ٹیکسز سے استثنیٰ دینے کی منظوری پر فوری عمل ہوا تھا، وزارت خزانہ اور فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) نے عمل درآمد کا ‘ایس آر او’ بھی جاری کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلیوں کےخلاف ‘پائیدار نظام’ پر زور، سیلاب سے مزید 18 افراد جاں بحق

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ضابطے کے تحت فلاحی و مخیر کام کرنے والوں کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ 2 ستمبر کو ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے دعویٰ کیا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی 2 لاکھ روپے کی کشتی پر 4 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا ہے، وفاقی حکومت کو شرم نہیں آتی۔

اس حوالے سے اتوار کو ایک ٹوئٹ میں وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل نے کہا تھا کہ ابھی فیصل ایدھی سے بات ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایدھی کا کوئی امدادی سامان کسٹم میں نہیں پھنسا ہے، سوشل میڈیا پر زیر بحث امپورٹڈ ریسکیو بوٹ پر ادا کی جانے والی ڈیوٹی کے بارے میں استفسار پر فیصل ایدھی نے تصدیق کی ہے کہ یہ معاملہ 2020 کا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں رواں برس آنے والے تباہ کن سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، سیلاب گھر، اسکول، ہسپتال، پاور ہاؤس اور لوگوں سمیت راہ میں آنے والی ہر چیز کو بہا کر لے گیا، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ 14 جون سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 343 ہوگئی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ اس وقت سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے، اس کے بعد خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب ہیں، امدادی کام جاری ہیں، ہمیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق سے صوبوں تک سب مل کر اس صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اتنی بڑی آفت ہے کہ اگر ہم ہر گھر تک پہنچنے کو کوشش کریں بھی تو فوری طور پر نہیں پہنچ پائیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں