سیلاب متاثرین کیلئے ملنے والی امداد گوداموں میں ذخیرہ کی جارہی ہے، سینیٹر

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2022
— فائل فوٹو: اے ایف پی
— فائل فوٹو: اے ایف پی

نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب سے بے گھر ہونے والے خاندان اب بھی کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے کے ساتھ خوراک کی کمی کے علاوہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر کبیر احمد شاہی کے ساتھ دیگر رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کی کہ وہ سیلاب متاثرین کو این جی اوز کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نصیر آباد ڈویژن میں سیلاب کا پانی تاحال موجود ہے اور لوگوں کے پاس اپنے گھروں کو واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں، انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی اہلکار مستحق متاثرین کو امدادی سامان فراہم کرنے کے بجائے امدادی سامان کو گوداموں میں رکھ کر بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں اہم معاشی ذرائع کو شدید نقصان ہوا، رپورٹ

انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل پارٹی نصیر آباد، کچھی اور بولان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔

نیشنل پارٹی کے رہنما نے سوال اٹھایا کہ وہ امدادی سامان کہاں گیا جو این جی اوز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر غیر ملکی کاؤنٹیز نے فراہم کیا، جب کہ بلوچستان میں متاثرین کو خیمے، مچھر دانی وغیرہ جیسا کوئی امدادی سامان نہیں ملا۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی متاثرین کو ڈونرز، این جی اوز اور مقامی انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ متاثرین کی بلاواسطہ مدد نہیں کر سکتے، خیمے اور ضرورت کی چیزیں دستیاب ہیں جو متاثرین کے بجائے منظور شدہ لوگوں کو دی جارہی ہیں، قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ آبپاشی کیرتھر، پیٹ فیڈر اور دیگر نہروں کی صفائی کا کام شروع کرے۔

تبصرے (0) بند ہیں