بنگلہ دیش میں بجلی کا بڑا بلیک آؤٹ، 80 فیصد ملک تاریکی میں ڈوب گیا

04 اکتوبر 2022
<p>— فوٹو: رائٹرز</p>

— فوٹو: رائٹرز

بنگلہ دیش میں گرڈ اسٹیشن میں خرابی کے بعد ہونے والے بڑے بلیک آؤٹ کی وجہ سے ملک کا 80 فیصد سے زائد حصہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پاور ڈیولپمنٹ بورڈ نے بتایا کہ 2 بجے کے قریب ملک کے 80 فیصد سے زائد حصے میں اچانک بجلی چلی گئی۔

بورڈ کے ترجمان شمیم احسن نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے شمال مغرب میں کچھ مقامات کے علاوہ ملک کا باقی حصہ بجلی سے محروم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: بجلی کی بچت کیلئے اسکولوں کی اضافی چھٹی، دفاتر کے اوقات کار محدود

شمیم احسن کا کہنا تھا کہ 13 کروڑ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے اور اب تک یہ بھی پتا نہیں چل سکا کہ فالٹ کس وجہ سے ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ابھی تفتیش جاری ہے تاہم ممکنہ طور پر اس کی وجہ تکنیکی خرابی تھی۔

جونیئر وزیر برائے ٹیکنالوجی جنید پلک نے فیس بک پر بتایا کہ دارالحکومت ڈھاکا میں 8 بجے تک بجلی بحال ہو جائے گی، جہاں پر 2 کروڑ 20 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔

روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب بنگلہ دیش حالیہ مہینوں میں بجلی کے بڑے بحران کا شکار ہے۔

جنوبی ایشیائی ملک میں بجلی کی طویل بندش پر عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا، بنگلہ دیش کو بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی ڈیزل اور گیس کی ادائیگی کے لیے مشکلات ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: توانائی بحران کے سبب بجلی کی فراہمی متاثر

بنگلہ دیش میں آخری بار نومبر 2014 میں بجلی کا طویل بلیک آؤٹ ہوا تھا، اُس وقت ملک کا تقریباً 70 فیصد حصہ تقریباً 10 گھنٹے تک بجلی سے محروم رہا تھا۔

یاد رہے کہ 23 اگست کو ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے بجلی کی بچت کے لیے اسکولوں ہفتے میں دو دن بند رکھنے اور دفاتر کے اوقات ایک گھنٹہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد حالیہ ہفتوں میں بنگلا دیش کی سڑکوں پر احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں میں روزانہ متعدد گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع کردی گی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں