’بیرسٹر سیف دہشت گردوں کے ساتھی ہیں‘، مالاکنڈ جرگے کا عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2022
<p>مالاکنڈ امن جرگے نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا— فائل فوٹو: اے پی پی</p>

مالاکنڈ امن جرگے نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا— فائل فوٹو: اے پی پی

مالاکنڈ ڈویژن کے امن جرگے نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرسٹر محمد علی سیف کو ان کے عہدے سے ہٹائے کیونکہ وہ ’دہشت گردوں کے ساتھی‘ ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف کے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار حسین بابک کے بارے میں ریمارکس اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔

سوات قومی جرگہ کے زیراہتمام گرینڈ جرگہ کا اجلاس سیدو شریف کے ودودیہ ہال میں اتوار کو منعقد ہوا۔

اس موقع پر ملاکنڈ ڈویژن کے عمائدین اور سیاستدانوں نے کہا کہ وہ کسی بھی ضلع میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

جرگے سے سوات، بونیر، شانگلہ، اپر دیر، لوئر دیر اور مالاکنڈ کے اضلاع کے سیاسی رہنماؤں، عمائدین، ماحولیاتی ماہرین، تاجروں کی فیڈریشنز اور ہوٹل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں، وکلا اور کارکنوں نے خطاب کیا۔

ان میں عوامی نیشنل پارٹی ضلع شانگلہ کے متوکل خان، جماعت اسلامی سوات کے اختر علی خان، بونیر قومی جرگہ کے سید لئیق باچا، جہان عالم خان، ملک جہانگیر خان اور ملک بہرام خان ضلع دیر، پیپلز پارٹی سوات کے عرفان حیات چٹان، قاری محمود شامل تھے۔

اس کے علاوہ جرگے میں جے یو آئی (ف) کے سوات قومی جرگہ کے مختیار یوسفزئی، مسلم لیگ (ن) کے صادق عزیز، حاجی زاہد خان، ضلع مالاکنڈ کے اعجاز خان، کیو ڈبلیو پی کے شیر بہادر، حسین شاہ، ایوب اشعری، ڈاکٹر خالد محمود اور دیگر عمائدین نے شرکت کی۔

مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ایک کروڑ سے زائد لوگ رہتے ہیں اور ہر کوئی دہشت گردوں کی حقیقت سے بخوبی واقف ہے، اس لیے وہ امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے فریب میں نہیں آسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی دہشت گردی کے بدترین دور کا سامنا کیا ہے اور یہاں اس کے پس پردہ لوگوں کو دیکھا ہے، ریاست کو مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے اور خطے میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست مکینوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی تو مالاکنڈ کے لوگ اپنی حفاظت کا خود منصوبہ بنائیں گے۔

مقررین نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت نے سوات ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کی منصوبہ بندی سے قبل ماحولیاتی ماہرین سے مشاورت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ کے مطابق کسی منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے ایک مناسب سروے کرنا ضروری ہے لیکن سوات ایکسپریس وے فیز II کے معاملے میں خیبر پختونخوا حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔

زراعت اور ماحولیات کے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں شروع ہونے والے ایکسپریس وے کی تنگ وادی میں تعمیر ماحولیاتی تباہی ثابت ہو گی جس کے نتیجے میں سیلاب جیسی قدرتی آفات آئیں گی اور لوگوں اور علاقے کی قدرتی خوبصورتی متاثر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے کہ دریائے سوات کے دونوں جانب نئی سڑکیں بنانے کے بجائے موجودہ سڑکوں کو توسیع اور ان میں ترمیم کی جائے، زرعی ماہر فضل مولا زاہد نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو کم کرنے کے لیے مدین سے کالام تک دریا کے مشرقی جانب ایک نئی سڑک بنانے کی فوری ضرورت ہے۔

مقررین نے کہا کہ ایکسپریس وے ہزاروں لوگوں کو ان کے گھروں اور کھیتی باڑی سے محروم کر دے گا اور ان کے لیے مالی مسائل پیدا ہوں گے۔

مالاکنڈ اور دیر کے شرکا نے کہا کہ حکومت دریائے سوات کے ساتھ ایکسپریس وے کو دوبارہ ڈیزائن کرے ورنہ عوام چکدرہ سے ملاکنڈ کے تمام اضلاع تک سڑک بلاک کر دیں گے۔

جرگے کے ارکان نے کہا کہ وہ حکومت کو مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دیں گے اور آئین کے آرٹیکل 247-اے کے تحت مالاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے ڈویژن میں پائیدار امن کے لیے مالاکنڈ قومی جرگہ کے تحت مشترکہ تحریک چلانے کا اعلان کیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں