Dawn News Television Logo

پنجاب کی سیاست اور عدالتی کارروائیاں: ماضی، حال اور ممکنہ مستقبل

اسمبلی تحلیل ہو، تحریک عدم اعتماد یا پھر گورنر راج کا نفاذ ہو، یہ بات یقینی ہے کہ گیند ایک بار پھر سے عدالتی کورٹ میں جائے گی۔
شائع 03 دسمبر 2022 05:42pm

سابق وزیرِاعظم عمران خان نے جب اسمبلی تحلیل کرنے اور استعفوں کا اعلان کیا، اس کے بعد پنجاب میں نیا سیاسی دنگل شروع ہوگیا ہے۔ کوئی اسمبلی کی تحلیل پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے تو کوئی اسمبلی کو بچانے کے لیے ترکیب لڑا رہا ہے۔

اسمبلی کی تحلیل کو روکنے کے لیے تحریک عدم اعتماد اور گورنر راج لگانے کی تجاویز پر مشاورت بھی ہو رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں تمام فریق سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی سیاسی چال کا توڑ ڈھونڈنے میں مصروف ہیں تاکہ مخالف فریق کو مات دی جاسکے۔

وکلا بھی اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی آرا متضاد ہیں لیکن وہ اس نکتے پر لگ بھگ متفق ہیں کہ دونوں صورتوں میں معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں جاسکتا ہے اور اسی طرح سیاسی تنازع سلجھایا جاسکتا ہے۔

ایسا ہوتا ہے تو نہ یہ پہلی مرتبہ ہوگا اور نہ ہی کوئی نئی بات ہوگی کیونکہ ماضی میں اسمبلی کی تحلیل، عدم اعتماد کا معاملہ، وزیرِ اعلیٰ کی سبکدوشی، وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے اجلاس کا انعقاد، وزیرِ اعلیٰ کی حلف برداری اور اسپیکر کی رولنگ سے پیدا ہونے والے وہ تمام سیاسی تنازعے جو عدالت میں نمٹائے گئے ان کی ایک تاریخ ہے۔

ماضی میں اسی طرح تنازعات کو سلجھانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ چند ماہ پہلے کی بات ہو یا پھر 30 برس پہلے کا کوئی سیاسی اقدام ہو، تنازعات کے سامنے آنے پر کسی ایک سیاسی جماعت نے مخالف سیاسی جماعت کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

کچھ عرصے پہلے ہی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے اجلاس بلانے، نئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے حلف اور پھر قائم مقام اسپیکر کی رولنگ جیسے معاملات اعلیٰ عدلیہ نے نمٹائے بلکہ ابھی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی ایک درخواست لاہور ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے۔

1993ء میں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے اسپیکر صوبائی اسمبلی نے بغاوت کردی اور اپنی جماعت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کی حکومت ختم کردی۔

  1993ء میں نواز شریف کی حکومت برطرف کی گئی— تصویر: ڈان
1993ء میں نواز شریف کی حکومت برطرف کی گئی— تصویر: ڈان

منظور وٹو نے غلام حیدر وائیں کی حکومت تو گرا دی لیکن ان کے لیے خود وزارتِ اعلیٰ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا اور مسلم لیگ (ن) نے بغاوت کرنے والے کے خلاف عدم اعتماد پیش کردی۔ اسی دوران اس وقت کے گورنر چوہدری الطاف حسین نے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔

پھر کیا تھا اسمبلی کی تحلیل کو آج کے وزیرِ اعلیٰ اور اس وقت مسلم لیگ (ن) کا حصہ رہنے والے پرویز الہیٰ نے گورنر پنجاب کے اس اقدام کو چیلنج کیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے یہ تنازع زیرِ سماعت آیا کہ جب کسی وزیرِ اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد آجائے تو پھر گورنر پنجاب صوبائی اسمبلی کو تحلیل نہیں کرسکتے۔ اعلیٰ عدلیہ نے اس نکتے پر کارروائی کی کہ آیا اسمبلی پہلے توڑی گئی یا پھر پہلے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔

عدالت میں ہونے والے تفصیلی دلائل کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کو بحال کر دیا لیکن عدالتی حکم زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا اور چند گھنٹوں کے اندر گورنر پنجاب چوہدری الطاف حسین نے پھر صوبائی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔

پنجاب میں اس رسہ کشی کے دوران ہی سپریم کورٹ کے فل بینچ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا اور صدرِ مملکت کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کے خلاف فیصلہ دے دیا۔

  سپریم کورٹ کے حکم پر نواز شریف کی وفاقی حکومت بحال ہوئی— تصویر: ڈان
سپریم کورٹ کے حکم پر نواز شریف کی وفاقی حکومت بحال ہوئی— تصویر: ڈان

پرویز الہیٰ نے پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے پر دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ان کی درخواست پر سماعت کے لیے فل بنچ بھی تشکیل دیا گیا لیکن عدالتی کارروائی کسی نتیجے پر پہنچتی اس سے پہلے ایک سیاسی فارمولے کے تحت صدرِ مملکت غلام اسحٰق خان اور نواز شریف مستعفی ہوگئے اور ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کردیا گیا۔

1993ء کے انتخابات کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ جونیجو اور پیپلز پارٹی نے مل کر حکومت بنائی۔ منظور وٹو وزیرِ اعلیٰ بن گئے لیکن یہ سیٹ اپ بھی زیادہ دیر نہ چلا۔ پیپلز پارٹی نے ہی منظور وٹو کو عدم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جس پر منظور وٹو منظر سے غائب ہوگئے اور ان کی جگہ سردار عارف نکئی کو وازتِ اعلیٰ مل گئی۔

وزیرِ اعلیٰ کے منصب سے سبکدوشی کے بعد اس بار منظور وٹو نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس پر ابتدائی طور پر 2 رکنی بینچ نے سماعت کی لیکن کوئی قابلِ ذکر پیشرفت نہیں ہوسکی۔

مارچ 1996ء میں سپریم کورٹ نے ججوں کے تقرر کے بارے میں فیصلہ دیا اور اس فیصلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تبدیل ہوئے اور نئے چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں فل بنچ تشکیل دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے تفصیلی سماعت کے بعد منظور وٹو کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کردیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں۔

اس سے پہلے کہ منظور وٹو اعتماد کا ووٹ لیتے، صدرِ مملکت فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کردی۔ قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کردیا گیا اور ملک بھر میں نگراں حکومتیں بن گئیں۔

وکلا تحریک کے دوران وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج لگا دیا اور صوبے کے امور اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو دے دیے گئے۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا جس میں نواز شریف اور ان کے بھائی وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

گورنر راج کے نفاذ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ارکان پنجاب اسمبلی نے صوبائی اسمبلی کے باہر علامتی اجلاس منعقد کیے۔ کچھ عرصے کے بعد گورنر راج کو ختم کردیا گیا اور اس طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو دوبارہ اقتدار مل گیا۔

  صدر آصف زرداری نے پنجاب میں گورنر راج لگایا اور  صوبے کے امور گورنر سلمان تاثیر کے حوالے کردیے— تصویر: اے ایف پی
صدر آصف زرداری نے پنجاب میں گورنر راج لگایا اور صوبے کے امور گورنر سلمان تاثیر کے حوالے کردیے— تصویر: اے ایف پی

رواں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کے جانے کے ساتھ ہی پنجاب اسمبلی میں بھی خوب ہلچل ہوئی اور معاملہ اعلیٰ عدلیہ تک پہنچ گیا۔

سردار عثمان بزدار کے وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا انعقاد بھی ایک مسئلہ بن گیا۔ آخرکار لاہور ہائی کورٹ نے اجلاس کروانے کا حکم دیا اور پھر بھی ایک ہنگامہ خیز اجلاس ہوا جس میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کو وزیرِ اعلیٰ چن لیا گیا۔

مگر اس انتخاب کے بعد بھی معاملات حل نہیں ہوئے اور گورنر پنجاب سرفراز عمر چیمہ نے صوبے کے نئے وزیرِ اعلیٰ سے حلف لینے سے انکار کیا تو نو منتخب وزیرِ اعلیٰ اس معاملے کو لےکر عدالت پہنچ گئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے حلف برداری کے معاملے کو نمٹانے کے لیے ہدایات جاری کیں لیکن معاملہ جوں کا توں ہی رہا۔

آخرکار ایک نئی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو نئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب یعنی حمزہ شہباز سے حلف لینے کا حکم دیا۔

حمزہ شہباز کے انتخاب اور پھر حلف برداری کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو اس پر لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سماعت کی۔ بینچ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے دوبارہ رائے شماری کروانے کی ہدایت کی اور یہ پابند کیا کہ ووٹنگ کے دن 11 بجے تک گورنر پنجاب وزیرِ اعلیٰ سے حلف لیں۔

یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ فل بنچ کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ عدالتی حکم پر دوبارہ انتخاب ہوا تو قائم مقام اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ سے انتخاب پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا گیا تو عدالت نے دوست محمد مزاری کی رولنگ کو کالعدم اور پرویز الہیٰ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ گورنر کے حلف نہ لینے کی صورت میں صدرِ مملکت عارف علوی حلف لیں۔

  وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ پر تنازع کھڑا ہوا
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ پر تنازع کھڑا ہوا

پنجاب کی تاریخ کا یہ بھی نیا باب تھا جب حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے حلف گورنر پنجاب کے بجائے 2 مختلف آئینی عہدیداروں نے لیا۔ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے انکار کے بعد عدالتی حکم پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے حمزہ شہباز سے حلف لیا تو گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے انکار پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی صدرِ مملکت عارف علوی نے پرویز الہیٰ سے حلف لیا۔

مسلم لیگ (ن) کی مختصر معیاد کی حکومت نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی پنجاب اسمبلی کی اپنی عمارت کے بجائے قریبی واقع سرکاری عمارت ایوانِ اقبال منعقد کیا اور اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی عدالتی جنگ ابھی بھی ختم نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے اسپکیر پنجاب اسمبلی سبطین خان کے انتخاب اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے اسمبلی میں داخلے کے خلاف الگ الگ درخواستیں زیرِ سماعت ہیں اور اب اسمبلی کی تحلیل کے خدشے پر مسلم لیگ (ن) نے ان کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔

اسمبلی تحلیل ہو، تحریک عدم اعتماد یا پھر گورنر راج کا نفاذ ہو، یہ بات یقینی ہے کہ گیند ایک بار پھر سے عدالتی کورٹ میں جائے گی اور عدالتی کارروائی ایک آدھ دن میں ختم ہونے کے کوئی امکان یا آثار نہیں ہوں گے۔


عباد الحق گزشتہ 30 برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ آپ بی بی سی سمیت ملکی و بین الاقوامی صحافتی اداروں سے منسلک رہے ہیں جہاں آپ سیاسی و عدالتی امور کو کور کرتے رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔