• KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 8:59pm
  • KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 8:59pm

فلسطین-اسرائیل تنازع: فیصلہ کن موڑ بھی، آخری موقع بھی!

مسجد اقصیٰ کے مینار اور قبۃ الصخریٰ، غزہ کی گلیاں، مغربی کنارا اور بیت المقدس بھی مسلم دنیا کی حمایت کے منتظر ہیں۔
شائع October 12, 2023

یہ پہلا موقع تھا کہ جب فلسطینی مزاحمتی تنظیم (حماس) نے اسرائیل پر یکبارگی اتنا بڑا حملہ کیا ہو۔ یہ حملہ صرف اسرائیل ہی کے لیے نہیں بلکہ اس کے سرپرستوں کے لیے بھی غیرمتوقع طور پر نقصان دہ ثابت ہوا۔

حماس کے راکٹ حملوں سے اب تک ایک ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی اور شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کو محض تین چار دنوں میں بہت بڑا معاشی دھچکا لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے مرکزی بینک کو رقم اکٹھا کرنے کی فوری ضرورت پیش آگئی ہے۔ شہروں میں انفرااسٹرکچر کے نقصانات کے علاوہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو لگنے والی ٹھیس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جوکہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اسرائیل کبھی مکمل طور پر محفوظ ملک بن پائے گا؟

اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکا کے لیے بڑا اور سب سے اہم نقصان یہ ہوا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا فوجی قوت ہونے کا رعب فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹوں نے آناًفاناً خاکستر کردیا ہے۔ موساد کے علاوہ میزائل حملوں کو فضا میں ہی ناکارہ کر دینے والا جدید ترین اسرائیلی دفاعی نظام بھی فلسطینی راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا۔ اس دفاعی نظام کے بھاری اخراجات خطے کے امیر عرب ملکوں سے پورے ہونے کی کوشش بھی اب خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اسرائیل کی عسکری اہلیت اور طاقت کا بھرم ٹوٹ جانا اس کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے کیونکہ اسی فوجی طاقت نے عربوں کی آبادی والے اس خطے میں اسرائیلی ریاست کی دھاک بنا رکھی تھی۔ اسی اسرائیلی دھاک نے بعض ممالک کے لیے خوف کا الاؤ اور کچھ لوگوں کے لیے امید کے دیے جلا دیے تھے۔ نارملائزیشن کے سفر میں بھی اس دھاک کا کردار غیر اہم نہیں تھا۔ مگر اب ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصے میں یہ خبریں آنا شروع ہوجائیں کہ نارملائزیشن کا امکان بھی قدرے کم ہوگیا ہے اور یہ بات امریکا میں بھی اہل حل وعقد نے بھی محسوس کی ہے۔

اسرائیل کی عسکری اہلیت اور طاقت کا بھرم ٹوٹ جانا اس کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے— تصویر: رائٹرز



سوال یہ ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے یہ اتنا بڑا فیصلہ یا درست الفاظ میں کہیں تو اتنا بڑا رسک کیوں لیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے اس معاملے کو دونوں پہلوؤں سے دیکھنا اورجائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ اسرائیل کی جان پر بن آنے والے اس حملے کے اثرات خود فلسطینیوں پر، عالم عرب پر، مشرق وسطیٰ پر، حتیٰ کہ یورپ وامریکا پر کیا ہوں گے اور بدلتی ہوئی دنیا میں تبدیلی کی رفتار پر اس سے کتنا اثر پڑے گا؟

یہ بھی ضروری ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے کہ آخر اس مسئلے کا بیج کس نے بویا، زمین کس نے تیار کی، پانی کس نے دیا اور پھل کس کس نے کھانے کے خواب دیکھے تھے۔ مگر 7 اکتوبر 2023ء کے دن فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اس حد کو چھو گیا کہ اس نے 56 اسلامی ممالک کے ہوتے ہوئے بھی خود ایک قدم اٹھا لیا اور اگلے ہی روز لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ بھی حماس کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔

مسئلہ فلسطین کی تاریخ میں فلسطینیوں کی تباہی کے جگہ جگہ حوالے موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے نے بنیادی طور پر جنم ہی تباہی وبربادی سے لیا تھا اور یہ تباہی و بربادی دونوں عالمی جنگوں کے باعث یورپی اقوام پر مسلط ہوئی تھی۔ جنگ زدہ یورپ معاشی، سیاسی اور سماجی عدم استحکام سے دوچار ہو رہا تھا۔ ایسے میں دو خدشات اور خطرات کا اہل یورپ اور امریکا کو سامنا تھا۔


یورپ اور امریکا نے یہودیوں کو پناہ کیوں نہیں دی؟


کیا پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ بہتر نہیں تھا کہ بظاہر دولت مند اور محنتی قرار دیے جانے والے یہودیوں کو یورپ میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے تاکہ تباہ حال یورپ کو فائدہ ہوتا؟ انہیں یورپ سے دور رکھ کر یورپ کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات یہودیوں کے ہاتھ جانے سے روکنا کیوں بہتر سمجھا گیا؟ یورپی ممالک میں انہیں جگہ دینے کے بجائے فلسطینی عربوں پر یہودیوں کو ایک عذاب کی طرح کیوں مسلط کردیا گیا؟

یورپ ہی نہیں امریکا بھی اپنے خطے میں ان یہودیوں کے جمع ہونے، منظم ہونے اور مؤثر ہونے کے خوف میں مبتلا تھا۔ اس سے کلی مفر ممکن نہ تھا تاہم تعداد اور رفتار میں کچھ کمی ضرور کی جا سکتی تھی تاکہ ان کی بڑی تعداد کو مشرق وسطیٰ کی راہ دکھا دی جائے۔ اس کا اظہار کئی دہائیوں قبل امریکی صدر ٹرومین کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم ایٹلی کو لکھے گئے ایک خط میں بھی کیا گیا تھا۔ اپنے خط میں ٹرومین نے زور دیا تھا کہ یورپ میں مختلف پناہ گزین کیمپوں میں موجود یہودیوں کو بے بسی اور کسم پرُسی سے ریلیف دلایا جائے اور برطانیہ فوری طور پر ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں بسائے۔

امریکی صدر ٹرومین (بائیں) نے برطانوی وزیر اعظم ایٹلی (دائیں) کو لکھے خط میں زور دیا کہ برطانیہ یہودیوں کو فلسطین میں بسائے— تصاویر: وکیپیڈیا



لیکن اسرائیل کا بیج بونے والے برطانیہ کے وزیر خارجہ ارنیسٹ بیون کا خیال یہ تھا کہ امریکا اس لیے یہودیوں کو فلسطین میں بسانا چاہتا ہے تاکہ یہ یہودی کہیں نیویارک کا رخ نہ کرلیں۔ بہرحال حقیقت یہ ہے یہ مسئلہ صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ تمام یورپی ممالک کا تھا۔ اسی وجہ سے 1920ء کی دہائی سے ہی یہودی پناہ گزینوں کو فلسطین بھجوانے کی تیاری تیز تر کردی گئی جبکہ یورپی ممالک پہلی جنگ عظیم کے بعد سے ہی یہودیوں کو یورپ سے فلسطین کی طرف دوستانہ انداز میں دھکیلنے کی کوشش کررہے تھے۔


یہودیوں کو فلسطین منتقل کرنے کا برطانوی منصوبہ


برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک 1920ء کی دہائی سے پہلے ہی اس حوالے سے سوچ بچار شروع کر چکے تھے۔ اس لیے اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ آرتھرجیمز بالفور نے 2 نومبر 1917ء کو برطانیہ میں یہودی کمیونٹی کے سربراہ لائیونل والٹر راٹسچائلڈ کو خط لکھا تھا جس میں یہودیوں کو یورپ سے فلسطین میں بسانے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔

یہ خط تھا تو بہت مختصر مگر یہ اگلی صدی کے ایک بڑے عالمی تنازع کی بنیاد بنا۔ یہ خط لکھے جانے کے اگلے سال 1918ء کے اعداد وشمار کے مطابق فلسطین میں فلسطینی مسلمانوں کی آبادی 6 لاکھ 66 ہزار جبکہ مسلمانوں کے مقابلے میں فلسطین میں یہودی آبادی صرف 60 ہزار تھی۔ البتہ 1922ء میں یہودیوں کی تعداد 83 ہزار 724 تک پہنچ گئی۔ یوں مسلمانوں کی آبادی کے مقابلے میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی بڑھانے کا منصوبہ بروئے کار لایا گیا۔

آرتھر جیمز بالفور (بائیں) کی جانب سے لائیونل والٹر راٹسچائلڈ (دائیں) کو لکھاجانے والا خط— تصاویر: وکیپیڈیا



پہلی جنگ عظیم میں عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد سے برطانیہ اپنے زیر نگیں مشرق وسطیٰ میں تیل کے قدرتی ذخائر میں گہری دلچسپی لینے لگا تھا۔ بلکہ یہ برطانیہ اور اس کے اتحادی فرانس کا اہم ہدف بن گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پایا جانے والا تیل مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ رہنے پائے۔ اس تناظر میں یہودی ریاست کا قیام دوہرے فائدے میں تھا کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں امن برقرار نہیں رہتا اور تیل پر تنہا ملکیت کا خدشہ بھی باقی نہ رہتا۔


یہودیوں کی فلسطین منتقلی اور اسرائیل کا قیام


اسی ہدف کے حصول میں 1931ء تک فلسطین میں یہودیوں کو منتقل کرکے ان کی آبادی ایک لاکھ 74 ہزار 610 تک پہنچا دی گئی۔ پانچ برس بعد 1936ء میں یہ تعداد 3 لاکھ 84 ہزار 78 ہوگئی۔ 1946ء میں 5 لاکھ 43 ہزار جبکہ 1948ء میں 7 لاکھ 16 ہزار 700 تک پہنچ چکی تھی۔ گویا یورپ میں بھی یہودیوں کی آبادی کم ہورہی تھی تاکہ مستقبل میں یہ ان کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

یہ واضح رہے کہ فلسطین میں ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا کام خود بخود نہیں ہوا۔ 1917ء میں برطانوی وزیر خارجہ کے صیہونی کمیونٹی کے سربراہ کو لکھے گئے خط کے بعد 1919ء میں لارنس آف عریبیہ کے نام سے مشہور لیفٹیننٹ کرنل ٹی ای لارنس نے صیہونی رہنما وائزمین اور اردنی شہزادے فیصل بن حسین کے درمیان 3 جنوری کو معاہدہ کروایا۔ بعدازاں یہی وائزمین اسرائیل کا پہلا صدر بنا۔

آج سے 101 سال قبل یعنیٰ 1922ء میں فلسطین پر برطانیہ کا مینڈیٹ تسلیم کرلیا گیا تھا۔ عثمانی خلافت کے آخری دن چل رہے تھے اور 1925ء میں برطانوی سفیر نے فلسطین میں رہتے ہوئے ہی یہودیوں کی فلسطین منتقلی میں حائل قانونی مشکلات کو تقریباً ختم کردیا۔ عبرانی کو سرکاری زبان کا درجہ دلوایا جبکہ عبرانی یونیورسٹی قائم کرنے کی راہ بھی ہموار کی۔ یہودی نظام تعلیم ترتیب دیا گیا جبکہ یہودی مزدوروں کی یونین قائم کرنے میں بھی ان کا ہاتھ تھا۔

18 جون 1936ء کے ایک فلسطینی اخبار کا عکس— تصویر: وکیپیڈیا



برطانیہ نے 1917ء سے لے کر 1930ء تک فلسطین پر یہودی قبضے کے لیے کئی اقدامات اٹھا لیے تھے۔ اس لیے برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ اور سابق وزیراعظم آرتھر بالفور نے فلسطین کا دورہ کیا تو فلسطینیوں نے اس کا سیاہ جھنڈوں سے استقبال کیا۔ برطانوی راج اور اس کی سازشوں کے خلاف ’بغاوت براق‘ کے نام سے احتجاج کیا گیا۔ جبکہ اس احتجاج کے دوران 250 افراد بھی مارے گئے۔ بعد ازاں 3 فلسطینی مسلمانوں کو بغاوت براق کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔


فلسطینی تحفظِ آزادی کی تحریکیں


ایک طرف برطانیہ اور یورپی ممالک کی سرپرستی میں فلسطین پر یہودی قبضے کی راہ ہموار ہورہی تھی جبکہ دوسری جانب مزاحمتی تحریک بھی شدت اختیار کررہی تھی۔ عزالدین القسام کی فلسطین کے تحفظِ آزادی کی جدوجہد 1920ء کے بعد سے زیادہ نظر آنے لگی۔ انہیں 2 نومبر 1935ء کو برطانوی فوج نے قتل کردیا تھا۔ حماس کا عسکری ونگ انہی کے نام سے القسام بریگیڈ کہلاتا ہے تو ایک طرح سے حماس نے 1920ء کی دہائی سے شروع ہونے والی فلسطینی مزاحمت کی کوششوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

1930ء کی دہائی میں بھی فلسطین کی آزادی وتحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہیں۔ 1936ء میں فلسطینی عوام کی 6 ماہ تک ہڑتال جاری رہی۔ یہ ہڑتال بنیادی طور پر اعلان بالفور کے خلاف تھی جو 1917ء میں برطانوی وزیرخارجہ کے خط میں سامنے آیا تھا۔

6 ماہ تک جاری رہنے والی ہڑتال کے دوران فلسطینی جمع ہیں— تصویر: لائبریری آف کانگریس



1948ء آیا تو جولائی کے مہینے میں لیہی نامی یہودی دہشت گرد تنظیم نے دیر یاسین میں فلسطینی عربوں کا قتل عام کیا۔ 1940ء میں ادھر برصغیر میں قیامِ پاکستان کے لیے پُرامن جدوجہد جاری تھی اور قراردادِ پاکستان منظور کی گئی تھی جبکہ دوسری جانب فلسطین میں یہودی دہشت گرد تنظیموں نے اپنی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ تیز کردیا تھا۔ 22 جولائی 1940ء کو بیت المقدس میں بمباری کی گئی۔ یہ کارروائی یہودی دہشت گرد تنظیم ارگن نے کی تھی۔ بعدازاں اسرائیل کے قیام کے بعد ارگن کے دہشت گردوں کو اکٹھا کرکے سرکاری فوج میں شامل کیا گیا۔ مگر آج فلسطینیوں کے جائز اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے قانونی حق کے استعمال کو بھی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔


بانیانِ پاکستان کی فلسطین کی دوٹوک حمایت


یہی وہ دور ہے جب بانیانِ پاکستان نے قیامِ پاکستان سے بھی پہلے اسرائیل کے خلاف اپنا نقطہِ نظر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پوری یکسوئی کے ساتھ پیش کیا تھا اور وہ فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کرتے رہے۔ مسلم لیگ کی جانب سے یروشلم کے مفتی اعظم مفتی امین الحسینی کو خط لکھ کر فلسطین کی آزادی کے حق میں یقین دہانی کروائی گئی۔ 1938ء میں قاہرہ میں انٹر پارلیمان کانگریس کا انعقاد ہوا تو مسلم لیگ کے دو رکنی وفد کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھیجا گیا۔

بعدازاں لندن میں فلسطین سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں قائداعظم نے مسلم لیگ کی نمائندگی کی۔ وفد کی شرکت کے لیے قائداعظم نے برطانوی وزیراعظم کو خط بھی لکھا۔ قائد اعظم نے بعد ازاں برطانیہ کے وزیر اعظم اٹیلی کو بھی فلسطین میں یہودی آبادکاری کے خلاف خط لکھا۔ فلسطینی و عرب رہنما بھی قائداعظم کی جانب سے آزادیِ فلسطین کی حمایت کرنے پر ان کے شکر گزار رہے۔


اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی


عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے یہودی دہشت گردی کو روکنے کے بجائے 1947ء میں اپنی قرارداد 181 منظور کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی بات کی جس سے اسرائیل کی راہ ہموار ہوگئی۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکی دباؤ میں منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی اس قرارداد میں 5.5 فیصد یہودیوں کو فلسطین کے 56 فیصد حصے کا مالک بنا دیا گیا۔

فلسطینیوں نے اس قرارداد کو مسترد کردیا اور آج تک وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ حماس کے سربراہ اسمعٰیل ہانیہ نے اسی لیے اسرائیل پر تازہ حملے کو حتمی بنانے کا عندیہ دیا ہے کیونکہ انہیں مزاحمت کرتے ہوئے تقریباً ایک صدی گزر چکی ہے۔ یورپ اور امریکا نے اسرائیل اور یہودیوں کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بےدخل کردیا جبکہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے بھی انہیں بے دخل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا ساتھ دیا۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ— تصویر: وکیپیڈیا



14 مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا۔ یہ وہ دن تھا جب ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے۔ فلسطینیوں کے گھر ہی نہیں بلکہ پوری کی پوری آبادیاں حتیٰ کہ بعدازاں پناہ گزینوں کے لیے قائم ہونے والے کیمپس کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

فلسطینیوں نے 14 مئی کے تباہی اور سیاہی کے دن کو یوم نکبہ قرار دیا۔ اب ہر سال تمام فلسطینی 14 مئی کو یوم نکبہ مناتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے کشمیری 5 اگست کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔

اسرائیل کے قیام کے بعد ایک لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے— تصویر: اے پی



فلسطینیوں کی جدوجہد اور مزاحمت کا سلسلہ جاری رہا۔ مگر عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کی صرف بےحسی ہی نہیں بلکہ اس معاملے میں ان کی جانبداری بھی جاری ہے۔ اسی جانبداری کی وجہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی اسرائیل نے پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی۔

1964ء میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی زیرِ قیادت فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا قیام عمل میں آیا لیکن عربوں کے خلاف اسرائیلی جنگیں ہوتی رہیں۔ غزہ پر حملے ہوتے رہے اور مغربی کنارا تباہی سے دوچار ہوتا رہا۔ مگر عالمی طاقتوں نے جس کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو کے معاہدے کے ذریعے اسرائیل کی بالادستی کی صورت گری کی تھی، اسرائیل نے ایک دن بھی اس پر عمل نہیں کیا۔

بعد ازاں امریکا کی طرف سے معاہدہ ابراہم کو متعارف کروایا گیا۔ اس کے باوجود اوسلو معاہدے (1993ء-1992ء) پر عمل نہ ہو سکا اور اسرائیل بار بار معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتا رہا حتیٰ کہ آزاد فلسطینی ریاست کا خواب اوسلو معاہدے کے بعد بلدیاتی اختیارات کی حامل فلسطینی اتھارٹی تک محدود ہوکر رہ گیا۔


عرب ممالک پر ’نارملائزیشن‘ کا امریکی دباؤ


2006ء، 2008ء، 2014ء اور 2021ء اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی خونریزی کے سال تھے۔ یہ سال صابرہ اور شتیلہ کی یاد دلاتے رہے۔ حد تو یہ ہے کہ فلسطینی عوام کے جمہوری فیصلوں کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔

غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بنا دیا گیا۔ فلسطینیوں کے گھر، ان کی مساجد، اس کے تعلیمی ادارے حتیٰ کہ اسپتالوں کو بھی اسرائیل نے بمباری کرکے بار بار تباہ کیا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ ’انروا‘ بھی اس تباہی سے بار بار دوچار ہوا۔

مگر امریکا نے عرب دنیا کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ’نارملائزیشن‘ پر مجبور کیا۔ یہ سلسلہ 2020ء سے جاری ہے۔ ان تعلقات کی خبروں نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو ایک فیصلہ کُن لڑائی پر مجبور کردیا۔ فلسطینی نوجوانوں نے آزادی و الاقصیٰ پر سب کچھ قربان کرنے کی نیت سے اسرائیل پر آگے بڑھ کو حملہ کرنے کی ہمت کی ہے۔ یہ شہید احمد یاسین کی جہد اور قربانی کا نتیجہ ہے۔ 100 سال کے بعد بھی فلسطینی نوجوانوں کی ہمت جوان ہے جس نے عزالدین القسام کی بہادری کی یادیں تازہ کردی ہیں۔


حرفِ آخر


اب تک اسرائیل کے ایک ہزار سے زائد فوجی و شہری ہلاک ہوچکے ہیں جس پر امریکا سیخ پا ہے اور اسرائیل بےحال ہے۔ ساتھ ہی امریکا نے اسرائیل کی ہر ممکنہ مدد کا اعلان بھی کردیا ہے۔ اسلامی ممالک کی جانب سے فلسطین کی اخلاقی حمایت بھی ابھی بیانات تک ہی محدود ہے۔ یہ سفارتی، سیاسی، معاشی اور عسکری حمایت میں آخر کب تبدیل ہوگی؟ مسجد اقصیٰ کے مینار اور قبۃ الصخریٰ، غزہ کی گلیاں، مغربی کنارا اور بیت المقدس بھی مسلم دنیا کی حمایت کے منتظر ہیں۔

فلسطین کو آزاد ہونے میں کتنا وقت لگے گا، اس کا کچھ اندازہ نہیں لیکن مسلم دنیا سے اسرائیل کا خوف ختم ہونے کا ایک اچھا اور مضبوط آغاز ہوگیا ہے۔ گویا اس حملے نے نارملائزیشن کی تمام کوششوں کو ’ابنارملائز‘ کر دیا ہے۔

منصور جعفر

لکھاری کی مشرق وسطیٰ کی سیاست اور امن عمل سے متعلق تحریریں قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور ویب گاہوں میں شائع ہوتی ہیں۔ آپ کا ٹوئٹر ہینڈل یہ ہے: mansoorjafar@

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔