• KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:50pm
  • LHR: Maghrib 7:08pm Isha 8:44pm
  • ISB: Maghrib 7:18pm Isha 8:58pm
  • KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:50pm
  • LHR: Maghrib 7:08pm Isha 8:44pm
  • ISB: Maghrib 7:18pm Isha 8:58pm

جناح ہاؤس حملہ: عمران خان کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار، گھر پر تحقیقات کی درخواست

شائع May 31, 2023
عمران خان نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
عمران خان نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش نہ ہوئے اور زمان پارک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر تحقیقات کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنی جان کو لاحق سنگین سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے تحریری بیان کے ساتھ اپنی وکلا کی ٹیم بھیجی تاہم جے آئی ٹی نے عمران خان کی قانونی ٹیم سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کامران عادل کی زیرسربراہی جے آئی ٹی نے عمران خان کو گزشتہ روز شام 4 بجے ذاتی طور پر پیش ہونے کو کہا تھا، 9 مئی کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ پر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل سمیت 20 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم سابق وزیراعظم نے گزشتہ روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے تحریری بیان کے ساتھ اپنی وکلا کی ٹیم بھیج دی۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ وکلا عمران خان کا تحریری بیان جمع کرانے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر کے دفتر پہنچے، جب جے آئی ٹی اراکین کو علم ہوا کہ عمران خان تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے نہیں آرہے تو انہوں نے ایک مختصر میٹنگ کی اور پھر وکلا سے ملنے سے انکار کردیا، بعدازاں عمران خان کی قانونی ٹیم نے میڈیا کو تصدیق کی کہ جے آئی ٹی نے تحریری بیان وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تحریری بیان میں سابق وزیراعظم نے استدعا کی تھی کہ انہیں موصول ہونے والے سمن میں جواب دینے کے لیے انتہائی محدود وقت دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے درپیش سیکیورٹی خطرات پہلے سے ہی آپ کے علم میں ہیں اور آج مجھے ضمانت کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت اور لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونا ہے، میں نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں اے ٹی سی سے پہلے ہی ضمانت حاصل کر لی ہے۔

انہوں نے درخواست کی کہ سیکیورٹی خدشات اور حفاظتی انتظامات کی مد میں ریاست اور مجھ پر پڑنے والے بھاری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مجھے آپ کی سہولت کے مطابق کسی بھی تاریخ/وقت پر زمان پارک میں واقع میری رہائش گاہ پر پوچھ گچھ کی سہولت فراہم کردی جائے تو میں اسے سراہوں گا۔

انہوں نے اس سلسلے میں عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی جے آئی ٹی کی جانب سے ایسا کیا جاچکا ہے، لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے جے آئی ٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ مجھے میری رہائش گاہ پر ہی پوچھ گچھ کی سہولت فراہم کریں کیونکہ ذاتی طور پر پیش ہونے یا ویڈیو لنک/سوالنامے کے ذریعے تحقیقات میں شامل ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت 4 مقدمات میں عمران خان کے ضمانتی مچلکے جمع

عمران خان نے 9 مئی کو جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور تھانہ شادمان پر حملے سمیت 4 فوجداری مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے 11 روز بعد ضمانتی مچلکے جمع کرادیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی 9 مئی کے احتجاج سے جڑے 3 مقدمات میں بانڈز جمع کرانے کے لیے اپنے ضامن ایڈووکیٹ محمد حبیب کے ہمراہ اے ٹی سی کے سامنے پیش ہوئے۔

19 مئی کو جج اعجاز احمد بٹر نے عمران خان کی تینوں مقدمات میں ایک، ایک لاکھ روپے کے ضمانت مچلکوں کے عوض 2 جون تک ضمانت منظور کی تھی، تاہم عمران خان کی عدم دستیابی کی وجہ سے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے جا سکے تھے۔

26 مئی کو جج نے ضمانتی مچلکے مسترد کر دیے تھے کیونکہ عمران خان کے ضامن شہروز نے مقدمے کی کارروائی کے دوران عمران خان کی پیشی کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایڈووکیٹ محمد حبیب 27 مئی کو ضامن کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن جج نے عمران خان کی غیر موجودگی میں ایک بار پھر ضمانتی مچلکے مسترد کردیے تھے۔

گزشتہ روز عمران خان اور ایڈووکیٹ محمد حبیب جج کے روبرو پیش ہوئے اور ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا عمل مکمل کیا۔

بعد ازاں عمران خان اور ان کے ضامن لاہور ہائی کورٹ پہنچے اور پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی سڑک حادثے میں موت کے بارے میں حقائق اور شواہد چھپانے کے کیس میں ضمانتی مچلکے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کے دفتر میں جمع کرائے، مذکورہ کیس میں جسٹس انوارالحق پنوں نے عمران خان کی ضمانت منظور کی تھی۔

سابق وزیراعظم سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان عدالتوں میں پیش ہوئے اور صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

کارٹون

کارٹون : 16 جولائی 2024
کارٹون : 15 جولائی 2024