اسلام آباد: وزارتِ دفاع کی جانب واضح کیا گیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی جارحیت کرنے کی کوشش کی تو اسے اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت کو اس کے خیال، پیمانے اور جگہ سے قطع نظر کسی بھی جارحیت، غلط اندازے یا مہم جوئی کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ نئی دہلی کو اسلام آباد پر بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگانے کے بجائے پاکستان مخالف ریاستی اسپانسر جاسوسی کا جواب دینا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ دنیا کے سامنے بلوچستان سے گرفتار ہونے والا ’را‘ کا افسر کلبھوشن یادیو زندہ ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی بھارت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش

سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی سزا کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ بھارت سمجھوتہ ایکسپریس کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے 42 پاکستانیوں کو انصاف فراہم کرنے اور قاتل کو سزا دینے میں ناکام ہوگیا ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے قول و فعل سے خطے میں عدم توازن پیدا کر رہا ہے، جہاں وہ ایک جانب ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے بے بنیاد بیانات دے رہا ہے اور وہیں اس نے لائن آف کٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر گزشتہ برس غیر مسلح عام شہریوں پر پانچ گناہ زیادہ حملے کیے جس میں متعدد شہری مارے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج ہر طرح کی جارحیت سے نمٹنے اور ملکی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور انداز میں تیار ہے، اور پاکستانی قوم کی حمایت سے مسلح افواج زمین، سمندر اور فضا میں ہر وقت چوکنا ہے اور پاکستان کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گی۔

پاکستان مخالف حکومت کے زیر اثر اگر بھارت کی جانب سے کسی مہم جوئی کا آغاز ہوا تو وہ جنوبی ایشیا کے استحکام پر بری طرح اثر انداز ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ’بھارت، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث‘

خیال رہے کہ چند روز قبل عسکریت پسندوں کی جانب سے مقبوضہ جموں میں بھارتی فوج کے کیمپ سنجوان پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 5 فوجی سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فوجی کیمپ پر بھارتی فوج اور دہشتگردوں کے درمیان دو دن سے جاری فائرنگ کے تبادلے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی جانب سے فوجی کمیپ پر حملہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا۔

گزشتہ روز بھارت کی وزیر دفاع نرملا ستھیارامان نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو جموں کے حصے سنجوان میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کی قیمت چکانا پڑے گی۔

بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ سنجوان میں فوجی کیمپ پر حملے میں جیش محمد کے عسکریت پسند ملوث تھے اور پاکستان کی جانب سے ان دہشت گردوں کو مدد فراہم کی گئی تھی۔

مقبوضہ کشمیر میں کیمپ پر حملے کا بھارتی الزام مسترد، دفترخارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمد فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے الزام پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی اب بھارت کا معمول بن چکا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے دھمکی آمیز لہجے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید نقصان پہنچے گا کیونکہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی الزامات قبل از وقت اور نامناسب ہیں جب بھارت خود تسلیم کرتا ہے کہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ بھارت خود ہی منصف اور جلاد کا کردار ادا کرتا ہے۔

انھوں نے بھارتی دھمکی آمیز لہجے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ایل او سی پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ماحول پہلے سے کشیدہ ہے جس کو مزید نقصان پہنے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔