پاکستان کی بھارت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش

04 جنوری 2018

اسلام آباد: پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام مسائل پر بات چیت ہونی چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، نئی دہلی کے ساتھ تمام مسائل پر بات کرنا چاہتا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ قوموں اور ممالک کے درمیان مسائل کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی ڈرون حملے کا بھرپور جواب دینے کو تیار ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے گوادر میں چین کے فوجی اڈے قائم کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گوادر یا اس کے نواحی علاقوں میں چین کی جانب سے فوجی اڈے بنانے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے 192 پاکستانی زائرین کو خواجہ نظام الدین اولیاء کے عرس کے لیے آخری وقت میں ویزے جاری کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا عمل دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کو نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: والدہ اور اہلیہ کی دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادیو سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء کے عرس پر ویزے دینے سے انکار کیا گیا، جو برادریوں کو قریب لانے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اسی طرح بھارت نے اپنی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو بھی پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم ، غیر قانونی آپریشن اور جعلی انکاؤنٹرز کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں حال ہی میں 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا،اس کے علاوہ بھارت نے طاقت کا استعمال کیا اور پیلیٹ گن کے استعمال سے مزید 2 کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق ابھی تک نظر بند ہیں جبکہ ہزاروں حریت رہنماؤں اور شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بھٹ، نعیم احمد خان اور دیگر کارکنان مختلف جیلوں میں قید ہیں جو قابل مذمت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومت پاکستان نے 58 شہریوں اور 399 ماہی گیروں سمیت 457 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی، اور یہ اقدام پاکستان اور بھارت کے درمیان 21 مئی 2008 کو ہونے والے قونصلر رسائی کے معاہدے کی دفعات کے مطابق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان 8 جنوری 2018 کو 146 ماہی گیروں کو بھی رہا کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے بیت المقدس کے امریکی فیصلے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالخلافہ سمجھتے ہوئے فلسطین کے 2 ریاستی حل کی حمایت کی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ کا کرارا جواب

فلسطینی سفیر کی جانب سے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں شرکت کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی سفیر پہلے بھی پاکستان میں مختلف پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے 29 دسمبر 2017 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے چرچ میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاء پر افسوس کا اظہار کیا، اور کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (پمز) میں افغان ہیلتھ پروفیشنلز (اے ایچ ایف) کے ڈاکٹرز کی ایک سالہ تربیت کا آغاز کیا گیا ہے، پاکستان کی جانب سے منعقد کیے گئے اس تربیتی پروگرام کا مقصد افغانستان کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے جلال آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی بھی مذمت کی، اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے افغان شہریوں کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ جاپان کے وزیر خارجہ نے 3 سے 4 جنوری کے دوران پاکستانی دورا کیا، اس دوران انہوں نے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت خطے و عالمی مسائل پر بات کی گئی۔

تبصرے (0) بند ہیں