خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور میں 2 اہم چیک پوسٹس کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا جبکہ قلعہ روڈ پر گورنر ہاؤس کے قریب بنائی گئی سیکیورٹی دیوار کو بھی منہدم کردیا گیا، اس کے علاوہ صوبے کی متعدد چیک پوسٹس کو ختم کردیا گیا۔

پشاور کی سٹی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک چیک پوسٹ خیبر روڈ پر صوبائی اسمبلی کے نزدیک قائم ہے جبکہ دوسری چیک پوسٹ یونیورسٹی روڈ پر گورا قبرستان کے قریب موجود ہے جنہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی چیک پوسٹس ختم کرنے کا فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے شہر کا اچانک دورہ کرنے کے بعد کیا گیا جہاں انہوں نے 9 مئی کو پشاور سمیت پورے صوبے سے رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت دی تھی۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز جاوید اقبال نے اس موقع پر پولیس اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں باہمت رہیں۔

مزید پڑھیں: اپردیر: فوجی چیک پوسٹ کو پولیس کے حوالے کردیا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو عوام کے ساتھ شائستگی کے ساتھ پیش آنا چاہیے، اور عوام کو بھی قانون کے نفاذ میں پولیس کا ساتھ دینا چاہیے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سیکیورٹی صاحبزادہ سجاد نے اس موقع پر پولیس اہلکاروں کو کنٹونمنٹ کے علاقے میں موجود چیک پوسٹ کی اہمت کے بارے میں بریف کیا۔

علاوہ ازیں قلعہ روڈ پر تعمیر کی گئی کنکریٹ کی دیوار کو بھی گرا دیا گیا ہے، اس کے علاوہ شہر میں 8 مختلف مقامات سے بیریئر بھی ہٹا دیے گئے ہیں جن میں شیر شاہ سوری روڈ، خیبر روڈ اور ویسٹ کنٹونمنٹ پولیس سنہری مسجد روڈ شامل ہیں، جبکہ ایم پی اے ہاسٹل کے بالمقامل سول سیکریٹریٹ کے سامنے موجود دیوار کو بھی گرادیا گیا۔

خیال رہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سول سیکریٹریٹ کا دروازہ فروری 2015 میں بند کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں فوج کی چیک پوسٹیں ایف سی کے حوالے کرنے کا آغاز

ڈان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران صوبے کے 11 اضلاع میں 101 سیکیورٹی چیک پوسٹس ختم کردی گئیں، جن میں 24 ایسی چیک پوسٹس بھی شامل تھیں جنہیں پولیس اور فوج مشترکہ طور پر چلا رہے تھے۔

پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے ماتحت 4 سیکیورٹی چیک پوسٹس، صرف پولیس کے زیرِ انتظام 59 چیک پوسٹس اور ہائی وے پر 9 چیک پوسٹس کو ختم کردیا گیا ہے۔

صرف صوبائی دارالحکومت میں 34 چیک پوسٹس ہیں جن میں سے زیادہ تر پولیس کے کنٹرول میں ہیں، تاہم جن علاقوں میں چیک پوسٹس بند کی گئی ہیں ان میں حیات آباد فیز ون، فور اور سیون، خیبر روڈ، سول کوارٹرز، آر اے بازار، پولو گراؤنڈ، ارباب روڈ، گلبرگ، پشتخارہ، سفید ڈہری، اچینی، میچنی گیٹ، ریلوے روڈ یونیورسٹی ٹاؤن کینال روڈ کے علاقے شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس نے چیک پوسٹس ختم کرنے کے احکامات جاری کردیے

اس کے علاوہ مردان میں بھی تھانہ شیرگڑھ کی حدود میں شنگو ناکہ ختم کردیا گیا جبکہ نوشہرہ میں بھی 4 چیک پوسٹس ختم کردی گئی ہیں۔ چاسدہ میں موٹروے انٹرچینج، سردار یاب، منڈا ہیڈورک، جمابد اور حاجی زئی کے علاقے سے 10 چیک پوسٹس ختم کردی گئیں۔

سوات میں 10 چیک پوسٹس، بونیر میں 7، چترال میں 10 اور ہنگو میں 15 چیک پوسٹس ختم کردی گئیں ہیں، جبکہ ہزارہ ڈویژن میں ضلع بٹگرام سے بھی 2 چیک پوسٹس کو ختم کردیا گیا ہے۔

صوبائی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پولیس اور فوجی چیک پوسٹس کو قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتنی چیک پوسٹس کو ختم کیا جاچکا ہے اس حوالے سے پولیس یا فوج ہی احسن انداز میں جواب دے سکتی ہے۔


یہ خبر 17 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی