اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آرٹی ایس) میں آنے والی رکاوٹوں اور تکنیکی خرابیوں کو دور کیا جائے اور ضمنی انتخابات میں ای ووٹنگ کا تجربہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ حالیہ انتخابات کے دوران نتائج ارسال کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آر ٹی ایس کا استعمال کیا تھا جس میں خرابی کے باعث انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی جو تنازع کا سبب بنا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کیلئے سافٹ ویئر بنایا جائے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور شہریوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا حق نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ ضمنی انتخابات کے دوران انتخابی سافٹ ویئر کا تجربہ کرنے سے متعلق اپنی تجاویز پیش کریں۔

دورانِ سماعت حالیہ انتخابات کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابی عمل کے دوران الیکٹرونک سسٹم کے استعمال سے منع نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے ساتھ قابلِ بھروسہ متبادل نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی خرابی کی صورت میں فوری طور پر متبادل استعمال کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے کیا مسائل پیدا ہوسکتے ہیں؟

اس دوران چیف جسٹس نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج میں تاخیر کی کیا وجہ تھی؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آر ٹی ایس بیٹھ گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی؟

جس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آر ٹی ایس خراب نہیں ہوا صرف سست ہوگیا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ رات ساڑھے گیارہ تک آر ٹی ایس ٹھیک چلتا رہا اور نتائج اپ لوڈ ہوتے رہے تاہم پچاسی ہزار پولنگ اسٹیشنز سے رزلٹ اپ لوڈ ہونا تھے جس کے باعث سسٹم سست روی کا شکار ہو گیا تھا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ نے اپنے افسران کو بطور ریٹرننگ افسر تعینات کر کے انتخابات میں بہت اہم کردار ادا کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات دنیا کے 5ویں بڑے انتخابات تھے۔

واضح رہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا) نے انتخابی نتائج کی ترسیل کے لیے الیکشن کمیشن سے 18 کروڑ روپے کے معاہدے کے بعد رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم تشکیل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا کی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلق افواہوں کی تردید

اس ضمن میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ ضمنی انتخابات کے دوران تقریباً 8 کروڑ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سافٹ ویئر کی جانچ کی جائے۔

اس کے ساتھ عدالت نے ای ووٹنگ کے عمل میں مکمل رازداری برتنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جس کی پوسٹل بیلٹ کی طرح انتخابی عمل کے اختتام پر گنتی کی جائے۔

علاوہ ازیں عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرے کیوں کہ یہ ان کا آئینی حق ہے۔

مزید پڑیھں: سمندر پارپاکستانیوں کو ووٹ کا حق: پی ٹی آئی کی فریق بننے کی درخواست مسترد

اس ضمن میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ضمنی انتخابات 15 سے 20 اکتوبر کو متوقع ہیں، جس میں کچھ حلقوں میں ای ووٹنگ کے لیے مرتب کردہ سافٹ ویئر کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔

تاہم عدالت نے حکم دیا کہ اس سلسلے میں کم از کم ایسے 50 حلقوں کا انتخاب کیا جائے جن میں کوئی تکنیکی مسائل پیدا نہ ہوں۔