ان دنوں ایوانِ اقتدار میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کے بارے میں خاصی بات چیت چل رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کو نادرا اور الیکشن کمیشن نے مشترکہ طور پر ووٹنگ کے لیے ویب بیس طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ اس طریقہ کار کی بدولت کوئی بھی پاکستانی شہری جو بیرونِ ملک مقیم ہے وہ پولنگ اسٹیشن پر آئے بغیر دنیا میں کہیں سے بھی اپنے ووٹ کا حق حاصل کرسکتا ہے، آئیے اس طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہیں۔

سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹر اندراج کا طریقہ کار

الیکشن کمیشن اور نادرا کے بنائے گئے اس طریقہ کار کے تحت الیکشن کے دن اب سمندر پار پاکستانی مذکورہ نظام کے ذریعے گھر بیٹھے بذریعے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ ووٹر لسٹ کے مطابق متعلقہ حلقے میں باآسانی ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس نظام کے تحت ووٹ ڈالنے کے خواہشمند سمندر پار پاکستانیوں کے پاس نائیکوپ کارڈ، مشین ریڈیبل پاکستانی پاسپورٹ اور ای میل ایڈریس ہونا ضروری ہے۔

ووٹ ڈالنے کیلئے سمندر پار پاکستانیوں کو سب سے پہلے آن لائن ووٹنگ سسٹم میں اپنا اندراج کرنا ہوگا۔ اندراج کیلئے ویب سائٹ www.overseasvoting.gov.pk پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا، جس کے لیے ای میل اور موبائل نمبر کا اندراج کرنا ضروری ہوگا۔

بعد ازاں اس اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے ویب سائٹ پر ’لاگ اِن‘ کرکے اندراج کے بٹن کو منتخب کیا جائے گا۔ خود کار نظام سب سے پہلے ووٹر کی اہلیت بطور سمندر پار پاکستانی جانچے گا اور پھر مندرجہ ذیل معلومات درج کرنی ہوں گی۔

نائیکوپ کے 13 ہندسوں کا اندراج

نائیکوپ کارڈ کی تاریخ اجراء

مشین ریڈ ایبل پاکستانی پاسپورٹ نمبر

اور مشین ریڈ ایبل پاکستانی پاسپورٹ پر شائع شدہ ٹریکنگ نمبر

اہل ووٹر کی صورت میں، خودکار نظام ووٹر کی اہلیت کی تصدیق کیلئے متعلقہ ڈیٹا سے 2 سوالات پوچھے گا۔

کامیاب تصدیق کے بعد خودکار نظام خواہشمند ووٹر کی فراہم کردہ ای میل پر بطور کامیاب سمندر پار پاکستانی ووٹر کے اندراج کا پیغام بھیجے گا اور خودکار نظام ووٹر کا نام متعلقہ حلقے کی مقامی ووٹر لسٹ سے خارج کردے گا۔

پڑھیے: انتخابات 2018: 'اوورسیز ووٹ نہیں دے سکیں گے'

ووٹنگ کا طریقہ کار

انتخابات سے قبل، خود کار نظام ووٹر کو فراہم کی گئی ای میل پر ’ووٹر پاس‘ بھیجے گا۔

انتخابات کے دن، ووٹر اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے ’لاگ اِن‘ کرے گا اور ’ووٹ ڈالیے‘ کے آپشن کو چُنے گا۔

’ووٹر پاس‘ کو استعمال کرتے ہوئے ووٹر متعلقہ قومی اور صوبائی اسمبلی کا حلقہ منتخب کرتے ہوئے اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ ڈالے گا۔

نتائج

ووٹنگ کا وقت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن پاکستان آن لائن ووٹنگ سسٹم کی رپورٹنگ کو فراہم کرے گا۔ ریٹرننگ آفسر اِسی آن لائن ووٹنگ سسٹم کی رپورٹنگ کے ذریعے ہی متعلقہ حلقہ جات کے نتائج دیکھ سکے گا اور پرنٹ کرسکے گا اور قانون کے مطابق آن لائن ڈالے گئے ووٹوں کو حلقے کے مجموعی نتائج کا حصہ بنایا جائے گا۔

جس دن اس طریقہ کار کا اعلان ہوا حسبِ معمول نیوز رومز اور پریس کلبوں میں اس پر بحث چھڑ گئی۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے یہ بات تو تقریباً ہر صحافی ہی کررہا تھا مگر اس کے طریقہ کار پر لوگوں کو اعتراض تھا۔ چند کا اعتراض تھا کہ ووٹ کا حق ہونا چاہیے مگر ایسے پاکستانی کا نہ ہو جو کہ دہری شہریت رکھتا ہو۔ پاکستان میں دہری شہریت رکھنے والا سیاسی عہدہ نہیں رکھ سکتا ہے نہ ہی سرکاری ملازمت اختیار کرسکتا ہے تو سرکار کے بنانے اور بگاڑنے میں کس طرح اپنا ووٹ استعمال کرسکتا ہے۔

دوستوں کی رائے اپنی جگہ اور اس حوالے سے بعض حلقوں میں پائے جانے والے جذباتی رویے کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس معاملے پر ایک جامع اور سیر حاصل بحث کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔ الیکشن کمیشن اور نادرا کے اعلان کردہ طریقہ کار اور عمومی طور پر سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حوالے سے چند نکات اٹھا رہا ہوں تاکہ تصویر کے دوسرے رخ کو بھی دیکھ لیا جائے۔

پڑھیے: سمندر پارپاکستانیوں کو ووٹ کا حق: پی ٹی آئی کی فریق بننے کی درخواست مسترد

پہلا نکتہ

پاکستان میں سیاسی محاذ میں کافی زیادہ گرما گرمی نظر آتی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کے بجائے ایک دوسرے سے ذاتی دشمنی اور نفرت بھی ہے۔ اس نفرت اور دشمنی کا اظہار گاہے بگاہے سیاسی جلسوں میں ہوتا رہا ہے۔ کبھی کوئی سیاسی رہنما اسٹیج سے جلاؤ گھیراؤ کی صدا بلند کرتا ہے تو اکثر کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا جا رہا ہوتا ہے اور اس طرح سوشل میڈیا پر ایسی ایسی جھوٹی اور نفرت انگیز خبروں کا بازار گرم ہے کہ اللہ معافی۔

سیاسی عدم برداشت کا یہ رجحان نہ صرف ملک کے اندر دیکھنے میں آتا ہے بلکہ اس کا اظہار بیرونِ ملک بھی اکثر دیکھنے کو ملتا ہے، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی وڈیوز موجود ہیں اور شاید آپ نے دیکھی بھی ہوں گی۔

اگر مجوزہ طریقہ کار کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دیا گیا تو جس انداز میں پاکستان میں الیکشن مہم چل رہی ہوگی اسی انداز میں الیکشن مہم بیرونِ ملک بھی چلائی جارہی ہوگی۔ وہی الزامات، وہی دشنام طرازی اور وہی کردار کشی ایسے میں ملک کے اندر موجود کشیدہ ماحول بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی منتقل ہوجائے گا۔ جس سے ممکنہ طور پر پاکستانی کمیونٹی میں باہمی اختلافات اور تشدد کے واقعات رونما ہونے کا اندیشہ موجود ہے جو کہ وہاں مقیم پاکستانیوں کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔

1970ء کی دہائی سے قبل بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اور صرف پاکستانی تھے مگر اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کا بیرونی ونگ قائم کیا تو اس کی دیکھا دیکھی تمام سیاسی جماعتوں کے بھی ونگز بیرونِ ملک قائم ہوگئے۔ ماضی میں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر علاقائی جماعتوں کے سیاسی ونگز نے پاکستان کے خلاف جس طرح کے مظاہرے اور لابنگ کی ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے اور کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔

پڑھیے: ووٹ کا حق

دوسرا نکتہ

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ خلیجی ملکوں، یورپ اور امریکا میں نہ صرف پاکستان کے سفیر کے طور پر جانے جائیں بلکہ وہ خطے کی دیگر قومیتوں سے بھرپور مقابلے کی استعداد رکھتے ہوں۔

اگر سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا گیا تو ان کا زیادہ تر وقت باہمی اختلافات اور چپقلش میں گزرنے کا خدشہ ہے، جس سے ان کو اصل مقابلے کے لیے تیار رہنے اور مل کر کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

خصوصاً خلیجی ملکوں میں پاکستانیوں کو بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور دیگر قومیتوں سے ملازمت کی مارکیٹ میں مقابلے کا سامنا ہے اور مضبوط لابی گروپ ہی اس مقابلے میں پاکستان اور پاکستانیوں کو کھڑا رکھ سکتا ہے۔ یہ کام پاکستانی کمیونٹی اسی وقت کرسکتی ہے جب وہ متحد ہو اور کسی پارٹی کے پرچم یا رنگ کے بجائے تمام پاکستانی ایک سبز ہلالی پرچم کے نیچے جمع ہوں۔

دوسری بات یہ ہے کہ خلیجی ملکوں میں سمندر پار پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد مقیم ہے، جس میں غیر ہنرمند، ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی شامل ہیں مگر خلیجی ملکوں میں بادشاہت کی وجہ سے وہاں پاکستان جیسی سیاست کو کسی طور پسند نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔ اگر وہ سیاسی ماحول جو کہ پاکستان میں موجود ہے اس کی جھلک خلیجی ملکوں میں نظر آئی، کہ کسی نے انتخابی عمل میں حصہ لیتے ہوئے اپنی پارٹی کا جھنڈا لہرایا اور جھگڑا ہوا تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس سے پاکستانیوں کو کتنا نقصان ہوگا۔

خلیجی ملکوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں کیا رائے پائی جاتی ہے، اس کا اظہار متحدہ عرب امارات کے پولیس چیف اپنے ٹوئٹ میں کرچکے ہیں۔ اس سکڑتے اسپس میں جہاں بھارت، بنگلہ دیش، فلپائن، اور دیگر ملکوں کی لیبر فورس سے مقابلہ ہو وہاں سیاست اچھے گل کھلاتی نظر نہیں آتی ہے۔

تیسرا نکتہ

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ طریقہ کار کے مطابق انہیں پولنگ اسٹیشن آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کوئی پولنگ اسٹیشن ہوگا ہی نہیں۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے انہیں اسمارٹ فون لیپ ٹاپ یا ڈیکس ٹاپ کی ضرورت ہوگی۔

سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ملکوں خصوصاً سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں تبدیل ہونے والے معاشی حالات کی وجہ سے کمانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ان کی تنخواہ اس قدر کم ہے کہ سعودی عرب میں رہنے کا خرچہ تنخواہ سے پورا کریں تو گھر بھیجنے کو کچھ نہ بچے اس لیے یہ پاکستانی یا تو اوور ٹائم لگا کر یا پارٹ ٹائم دیگر کام کرکے اضافی رقم کماتے ہیں اور اس طرح کچھ رقم گھر بھیج پاتے ہیں۔

ایسے میں کسی بھی پاکستانی کے پاس اسمارٹ فون ہونا ایک نہایت ہی ناقابل فہم بات ہے۔ ان کے پاس کمپیوٹر تک رسائی کیا ہوگی اکثریت کے پاس تو اسمارٹ فون بھی نہیں ہیں۔ اگر کسی ایک کے پاس فون ہے تو اس کے کمرے میں موجود تمام افراد اسی فون کے ذریعے اپنے اپنے گھروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں مقیم پاکستانی کس طرح ووٹ کا حق استعمال کریں گے؟ لگتا ہے کہ نادرا اور الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کا طریقہ کار غالباً یورپ اور امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو مد نظر رکھ کر مرتب کیا ہے اور خلیجی ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو نظر انداز کردیا ہے۔ اگر یہ طریقہ کار لاگو کیا گیا تو 60 فیصد سے زائد سمندر پار پاکستانی ووٹنگ کے حق سے محروم رہیں گے۔

پڑھیے: "سمندر پار پاکستانی الیکشن کا حصہ ہونگے"

چوتھا نکتہ

پاکستانیوں کی بڑی تعداد جو بیرونِ ملک مقیم ہے اس کے مسائل پاکستان میں قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے حلقے سے مختلف ہوتے ہیں، بلکہ ان کے مسائل کے لیے بیرونِ ملک حکومت کے ساتھ ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے جس سے متعلقہ ملک میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ انہیں اپنے آبائی حلقے کی سیاست سے جوڑ دے۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنے حلقہ انتخاب سے طویل عرصے سے دور ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں اپنے اپنے حلقوں کی سیاسی صورتحال کا ادارک کم ہی ہوتا ہے۔ اب ایک ایسا شخص جو کہ اپنے حلقہ انتخاب سے براہ راست منسلک نہیں ہے اس کو اس حلقہ انتخاب پر اثر انداز ہونے کا موقعہ کیوں دیا جائے۔

اور اگر یہ موقع دیا بھی جائے مگر مخصوص حلقہ انتخاب میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے ووٹ کسی اور فرد کو دیا جبکہ جیت ان کا مخالف گیا تو کیا وہ شخص اپنے مخالفین کے لیے کوئی سہولت پیدا کرسکے گا۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ سمندر پار پاکستانی کے ووٹ سے کوئی فرد رکن قومی یا صوبائی اسمبلی بن گیا ہے تو وہ کس طرح اپنے ووٹر کی معاونت کرسکے گا۔ ووٹر اور نمائندے کے درمیان کس طرح رابطہ ممکن ہوگا اور کس انداز میں معاملہ متعلقہ فورم تک پہنچے گا؟

پانچواں نکتہ

سمندر پار پاکستانیوں کو اگر ووٹ کا حق دیا جائے گا اور وہ اپنے ووٹ سے کسی بھی حلقہ انتخاب کا نتیجہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھیں گے تو اس حلقہ انتخاب میں کتنے پاکستانی ووٹرز ہیں اور ان کا اتا پتہ کیا ہے، یہ معلومات ہر امیدوار کو فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ اس عمل کی وجہ سے ایک تو سمندر پار پاکستانی کی شناخت عام ہوجائے گی اور اس شناخت کو سماج دشمن عناصر بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

دوسری قباحت یہ ہے کہ تمام امیداوار اگر متعلقہ ووٹر سے جو کہ بیرونِ ملک فون یا ای میل پر رابطہ کرنے اور اپنا اپنا منشور بتانے کی کوشش کریں گے تو ملک سے دور شب روز محنت مزدوری میں لگے ان پاکستانیوں کا وقت اور توانائی سیاست کے نذر ہوجائے گی۔

پڑھیے: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ووٹ خطرے میں

چھٹا نکتہ

ایک انتخاب کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار بھی ایک جیسا ہونا چاہیے۔ اگر کوئی پاکستانی پاکستان میں اپنے حلقہ انتخاب سے باہر کام کررہا ہے تو اس کو ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا کاروبار بند کرکے یا کام کاج چھوڑ کر اپنے آبائی حلقے میں آنا پڑے گا جبکہ سمندر پار پاکستانی نہایت سہولت سے بغیر کسی لائن میں لگے ووٹ کا حق استعمال کرسکتا ہے۔ ایک طرف ووٹ پرچی پر ڈالا جائے گا اور ایک ایک پرچی گن کر فیصلہ ہوگا تو دوسری طرف الیکٹرانک ووٹنگ ہوگی جو کہ انتخابی عمل میں دہرے معیار اور طریقہ کار کو ظاہر کرے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ تمام ووٹرز کو ایک جیسا پولنگ کا ماحول فراہم کیا جائے یا تو انتخابات میں ووٹنگ پرچی پر کی جائے یا پھر اس کے لیے مکمل الیکٹرانک نظام متعارف کرادیا جائے۔

ساتواں نکتہ

سمندر پار پاکستانی کو ووٹ کے حق کے ساتھ نمائندگی کا حق بھی دیا جائے۔

اگر سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان کو نمائندگی بھی دینی ہوگا اس مقصد کیلئے سمندر پار پاکستانیوں کو اپنے اپنے حلقہ جات کے بجائے بطور سمندر پار پاکستانی ووٹر رجسٹر کیا جائے۔ پارلیمنٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کی نشستوں کو مختص کیا جائے، جس طرح خواتین کو مخصوص نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے نمائندگی کے لیے نشستیں مخصوص کی جائیں۔

سمندر پار پاکستانیوں کو کسی فرد کو ووٹ ڈالنے کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ ڈلوایا جائے اور ان ووٹوں کے تناسب سے ہر پارٹی کو اس کی نشست دی جائے۔ اس طرح سمندر پار پاکستانیوں کو نہ صرف ووٹ کا حق حاصل ہوگا بلکہ انہیں نمائندگی بھی مل جائے گی اور وہ کسی بھی وقت حکومت یا اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اپنے مسائل کو اجاگر کرسکیں گے، اس کے علاوہ انہیں متعلقہ سفارت خانے میں بھی دفتر فراہم کیا جائے۔ یہ منتخب پاکستانی اپنے اپنے ملک میں کمیونٹی کو منظم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے مقامی سطح پر ویلفیئر، اپنی حکومت سے رابطے کے علاوہ متعلقہ ملک میں پاکستانیوں کو درپیش مسائل زیادہ بہتر طریقے سے حل کرسکیں گے۔

اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے اور ووٹ کے ساتھ ساتھ نمائندگی کے حق پر بھی بات کی جائے۔