'دیہی آبادی کی شہروں کی جانب منتقلی سے مسائل میں اضافہ'

اپ ڈیٹ 17 اگست 2018

ای میل

کراچی: پاکستان میں رہائشی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے مرتب کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں عوام کی دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب منتقلی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی منصوبہ بندی دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ سیاسی جماعتیں بھی عوام کو چھت فراہم کرنے کے سیاسی وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے تحت ایشیئن کولیشن آف ہاؤسنگ رائٹس کے لیے مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ 2 محققین عارف حسن اور حمزہ عارف نے مشترکہ طور پر تیار کی۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 2.4 فیصد فی برس کے اعتبار سے بڑھ کر 20 کروڑ 77 لاکھ ہوچکی ہے جبکہ شہری آبادی میں 2.7 کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا جو تقریباً 7 کروڑ 55 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو بڑھتی آبادی سے کن مسائل کا سامنا ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں پہلی مرتبہ فٹ پاتھوں، چوراہوں، کھلے ہوٹلوں، پلوں کے نیچے اور کھُلے آسمان تلے لوگوں کو سوتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ میں اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت ان افراد کو سر پر چھت فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے وہ لوگ کچی آبادیوں میں جا کر مقیم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جگہ کی کمی، مہنگائی میں اضافے اور گنجائش نہ ہونے کے باعث شہر کے وسط میں رہائش اختیار کرنا مشکل ہے۔

سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسوائے ٹھیکیداروں کو قرضوں کی فراہمی، اس پر لاگو ٹیکس میں کمی اور کچی آبادی کو ریگولزائز کرنے علاوہ پالیسی کے مطابق بہت کم سفارشات پر عمل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سکڑتے وسائل اور برباد ہوتی ماحولیات کا درد

رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شہروں کی توسیع کے سبب قیمتی زرعی رقبہ سکڑ رہا ہے، جس کے باعث شہری ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ پانی کے ذخائر میں کمی اور اس میں آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی کچی آبادیوں کے باعث جغرافیائی صورتحال، جنگلات اور پانی کا قدرتی بہاؤ بھی تباہ ہورہا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر سیلاب کی آمد اور درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے، خاص کر گنجان آباد علاقے اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور اگر اس معاملے پر توجہ نہ دی گئی تو ماحولیات کو مزید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زوال پذیر زراعت

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ عدالتوں کی جانب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھروں کی کمی، غیر قانونی آبادکاری کے خاتمے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بدعنوانی کے مسائل کا نوٹس لیے جانے میں اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ عدالتوں نے پانی کی قلت اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا نوٹس لے کر اس پر خصوصی ٹریبونیل بھی قائم کیے تاہم عدالتیں اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سول سوسائٹی کی حمایت سے شہری علاقوں میں منتقلی کے خلاف تحریک کا آغاز کر کے اس تشویشناک صورتحال پر سیاسی حکام اور عدالتوں کی توجہ مبذول کروائی جائے تاکہ اس ضمن میں قوانین پر عمل درآمد ہوسکے۔


یہ خبر 17 اگست 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی