طالبان نے افغانستان میں ’نئے آئین‘ کا مطالبہ کردیا

اپ ڈیٹ 05 فروری 2019

ای میل

کابل حکومت کے حکام مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں—فوٹو: اے ایف پی
کابل حکومت کے حکام مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں—فوٹو: اے ایف پی

روس میں سینئر افغان سیاست دانوں کے ساتھ غیر معمولی مذاکرات میں طالبان نے جنگ زدہ افغانستان کے لیے ’نئے آئین‘ کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ماسکو میں افغان رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران طالبان نے افغانستان کے لیے ’اسلامی نظام‘ کا وعدہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: قطر: امریکا اور طالبان کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ بحال

طالبان رہنماؤں، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، اپوزیشن رہنما اور قبائلی علما مذاکراتی عمل میں شامل ہیں تاہم کابل حکومت کے حکام مذاکرات کا حصہ نہیں۔

طالبان وفد کے ترجمان شیر محمد عباس نے ماسکو میں کہا کہ ’کابل حکومت کا آئین غیر موزوں ہے جسے مغربی ملک سے حاصل کیا گیا اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اسلامی آئین چاہتے ہیں اور نیا منشور اسلامک اسکالرز تشکیل دیں گے‘۔

واضح رہے کہ طالبان، افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو امریکی کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں۔

شیر محمد عباس نے بتایا کہ ’جنہوں نے افغانستان میں 1996 سے 2001 کے دوران شرعی قانون کی پابندی کی وہ ’طاقت کی اجارہ داری‘ نہیں، چاہتے لیکن ’اسلامی نظام‘ کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’طالبان وعدہ کرتے ہیں کہ افغانستان سے افیون کی کاشت کا خاتمہ کردیں گے اور جان لیوا جھگڑوں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں گے‘۔

امن مذاکرات میں دو خواتین نے بھی شرکت کی جنہوں نے امکان ظاہر کیا کہ طالبان شریعت کے مطابق طالبات کی تعلیم کے مواقع دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیئے

میزبان گروپ کے سربراہ محمد غلام جلال نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ تمام فریقین سمجھوتے کے لیے آمادہ ہیں اور یہ ایک اچھی شروعات ہے‘۔

واضح رہے کہ طالبان امن مذاکرات سے متعلق دوسرا دور امریکا کے ساتھ 25 فروری کو قطر میں کریں گے۔