'جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ امریکا کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہے'

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2019

ای میل

پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، جس کے لیے ہم اسلام آباد کے مشکور ہیں— فوٹو بشکریہ روبرٹ پلاڈینو ٹوئٹر اکاؤنٹ
پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، جس کے لیے ہم اسلام آباد کے مشکور ہیں— فوٹو بشکریہ روبرٹ پلاڈینو ٹوئٹر اکاؤنٹ

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ واشنگٹن کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے لیے 5 بڑے سیکیورٹی رسک میں سے ایک قرار دیا تھا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈینو کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ اس وقت قومی سلامتی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، اور یہ تمام خدشات میں سرِ فہرست ہے۔

سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومیو کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے رابرٹ پلاڈینو کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے اسے ہر وقت مصروف رہنا ہے۔

مزید پڑھیں: ’امریکا، پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی مضحکہ خیز کوشش کر رہا ہے‘

انہوں مزید کہا کہ اس مسئلے کے اثرات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں اسی وجہ سے انتظامیہ اس حوالے سے اکثر سوچتی ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان نے کہا کہ مائیک پومپیو نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے اقدامات اٹھانے کی ضروت پر زور دیا تھا۔

رابرٹ پلاڈینو کا کہنا تھا کہ امریکا ترقی یافتہ پاکستان کا خواہاں ہے جو خطے کے امن و استحکام میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے پلاڈینو کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، جس کے لیے ہم اسلام آباد کے مشکور ہیں۔

'امریکا پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہشمند'

ایک روز قبل واشنگٹن میں یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے امریکا کے نائب سیکریٹری برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل کا کہنا تھا کہ امریاک ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتا ہے اور ایسی ہی خواہش افغانستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الزام تراشیوں کے باوجود امریکا، پاکستان کے ساتھ ’نئے تعلقات‘ کا خواہاں

خیال رہے کہ ڈیوڈ ہیل اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل پاکستان میں امریکا کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد سے پہلے سے زیادہ گہرے تعلقات چاہتا ہے کیونکہ پاکستان پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ اور جمہوری ملک بنتا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم دونوں ممالک باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، امریکی اور پاکستانی ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کے خواہشمند ہیں اور یہی ہم افغانستان کے لیے چاہتے ہیں'۔

ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی میں یہی نکتہ اہم ہے جس میں افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا بھی شامل ہے، تاہم یہاں تک پہنچنے کے لیے امریکا طالبان کے ساتھ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے ذریعے 4 نکاتی مسودے پر مفاہمت کررہا ہے جن میں انسدادِ دہشت گردی کی یقین دہانی، فوج کا انخلا، بین الافغان بات چیت اور جامع جنگ بندی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان، امریکا کا افغانستان میں قیام امن کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

پاکستان میں امن و استحکام کو افغانستان سے جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ہم اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔'

انہوں نے پاکستانی قوم کی ترقی کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے عالمی معیشت میں اہم کردار دا کر سکتا ہے۔

ڈیوڈ ہیل کا کہنا تھا کہ 2018 میں پاک-امریکا تجارت ریکارڈ 6 ارب 60 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی تھی اور اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

'وزیراعظم عمران خان نے احسن انداز میں پاک بھارت کشیدگی ختم کی'

اس موقع پر پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر رچرڈ اوسلن نے پاک - بھارت کشیدگی کو ختم کرنے اور امریکا طالبان بات چیت کو فروغ دینے میں اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی افغستان میں امن لانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، چین کے قرضوں کے باعث مشکلات میں پھنسا ہے، امریکا

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'یہی ہمارے تعلقات کی بنیاد ہے، میرا خیال ہے کہ یہ ایک بہت اچھی چیز ہے۔'

پاک-بھارت کشیدگی کے حوالے سے باتے کرتے ہوئے سابق امریکی سفیر نے کہا کہ اس کشیدگی کو ختم کرنے میں پاکستان نے احسن کردار ادا کیا۔

انہوں نے امریکی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن اور اس کی نوعیت کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہیں گے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ اسلام آباد کے مستقبل کے لیے بھی بہت اہم ہیں۔'

ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بین الاافغان بات چیت کو ممکن بنائے جو مثبت پیش رفت ہوگی۔

'دونوں ممالک تعلقات کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں'

یوم پاکستان کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات سرد مہری کے دور سے گزر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی کم کروانے میں امریکا نے بھی اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: افغان مفاہمتی عمل، امریکا پاکستان کی مدد کا متلاشی

پاکستانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک تعلقات کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں اور مشکلات سے نکلنے میں دونوں کے عزائم بھی مشترکہ ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات 'اس وقت بہت اچھے ہیں' اور وہ جلد نئی پاکستانی قیادت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے۔