پاکستان، امریکا کا افغانستان میں قیام امن کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2018

ای میل

امریکی عہدیدار ایلس ویلز جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تبادلہ خیال کررہی ہیں—فوٹو: آن لائن
امریکی عہدیدار ایلس ویلز جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تبادلہ خیال کررہی ہیں—فوٹو: آن لائن

اسلام آباد: پاکستان اور امریکا کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں جاری رکھنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے پاکستان کے دورے کے دوران جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’ملاقات میں دونوں جانب سے خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ مفاد کے حصول کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے امریکی سفیر کی پاکستان آمد

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی عہدیدار اور آرمی چیف کی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین مختلف سطحوں پر تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

خیال رہے کہ ایلس ویلز نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستانی حکام کی مدد حاصل کرنے کے سلسلے میں پاکستان کا 3 روزہ دورہ کیا، جس میں انہوں نے وزیر خارجہ شمشاد اختر، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اختر سے ملاقات کی۔

دورے کے دوران امریکی عہدیدار نے تاجر رہنماؤں اور دیگر ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

اس سے قبل انہوں نے افغانستان کو دورہ کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شمولیت سے انکار ناقابلِ قبول امر ہے جبکہ انہوں نے افغانستان سے باہر رہنے والے طالبان پرامن عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی لگایا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے ساتھ نہ دیا تو افغانستان میں اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا،امریکا

بظاہر اس بات سے ان کی مراد وہ طالبان تھے جو مبینہ طور پر پاکستان میں موجود ہیں اور جن کے خلاف امریکا بارہا کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

امریکی سفیر نے اپنی ملاقاتوں میں خاص طور پر پاکستان کے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے عزم کو دوہرایا۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایلس ویلز کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی پالیسی برائے جنوبی ایشیا اور افغانستان کا تسلسل ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ برس پیش کی گئی اس پالیسی میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کیلئے ’شدید دباؤ‘ ڈال رہا ہے، نکی ہیلے

خیال رہے کہ امریکا کی نئی حکمت عملی کے پیش نظر دونوں ممالک کے تعلقات میں پہلے ہی تناؤ کی کیفیت جاری ہے اور دونوں ہی جانب سے دیرینہ اتحاد کے باوجود تعلقات معمول پر نہیں لائے جاسکے۔

تاہم دونوں ہی فریقین کی جانب سے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، اس ضمن میں پاک فوج نے گزشتہ ماہ اپنے اس اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنگ میں کامیابی کے بعد امریکی فورسز افغانستان سے چلی جائیں گی، جبکہ امریکا نے افغانستان میں موجود دہشت گرد ملا فضل اللہ کو انجام تک پہنچایا جو پاکستان کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں متحارب گروہوں کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان سے افغان تنازع کا پر امن حل نکلنے کی امیدوں کو تقویت ملی تھی، تاہم اب طالبان کی جانب سے لڑائی کا دوبارہ آغاز کیے جانے اور افغان حکومت کے دہشت گردی کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے اعلان سے صورتحال دوبارہ بگڑتی نظر آرہی ہے۔


یہ خبر 4 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی