’امریکا، پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی مضحکہ خیز کوشش کر رہا ہے‘

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2018

ای میل

وفاقی وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری — فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری — فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے پاکستان کا نام مذہبی آزادی کی خلاف ورزی سے متعلق ’بلیک لسٹ‘ میں ڈالنے پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی مضحکہ خیز کوشش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کا بازو مروڑنے اور بھارت کو اقلیتوں کے مذہبی حقوق سلب کرنے کی اجازت دینے کی یہ کوشش ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو یورپ میں مذہبی آزادی پر لگائی جانے والی سنگین قدغن دکھائی نہیں دیتی جبکہ اس اقدام کے ذریعے پاکستان پر دباؤ کی مضحکہ خیز کوشش کی جارہی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یورپی یونین میں گرجا گھر اور عبادت گاہیں پابندیوں کی زد میں ہیں جبکہ یورپ میں مسلمان خواتین کے حجاب لگانے کے ساتھ ساتھ بعض علماؤں کے داخلے پر بھی پابندیاں ہیں۔

مزید پڑھیں: مذہبی آزادی کی خلاف ورزی: پاکستان، امریکا کی 'بلیک لسٹ' میں شامل

ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اس طرف بھارت میں مسلمانوں پر مسلسل تشدد کیے جارہے ہیں اور ان کی مذہبی آزادی نشانے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) گائے کے ذبیح پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سکھوں کے لیے کرتار پور راہداری کھولنے کے بعد بھی امریکی اقدام سیاسی بلیک میلنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مسلمانوں کو اجمیر شریف جیسے مذہبی مقامات کی زیارت کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ پاکستان ہندو زائرین کا خیر مقدم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو واچ لسٹ میں رکھنے پرامریکا سے وضاحت چاہتے ہیں،پاکستانی سفیر

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ٹرمپ انتظامیہ کو پیغام دیا کہ اگر وہ پاکستان میں مسیحی گرجا گھروں کی موجودگی سے لاعلم ہے تو پاکستان انہیں ان کے بارے میں بتانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کیتھولک، میتھوڈیسٹ، اینگلیکن، لوتھرن، بیپٹسٹ، پریس بائیٹیرین اور پینٹیکوسٹل نامی گرجا گھروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہی میں ایوینجلیکل، رینیولسٹ اور سالویشن آرمی وغیرہ جیسے گروہ ان گرجا گھروں سے منسلک ہیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور انہیں ان کے مذہبی تقاضوں کی روشنی میں شادی اور طلاق کی مکمل اجازت ہے۔

مزید پڑھیں: ’کوئی ٹرمپ کو سمجھائے کہ امریکا نے کس طرح مشرق وسطیٰ کو غیرمستحکم کیا‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف امریکی اقدام حقائق کی بجائے مکمل طور پر سیاسی وجوہات پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو وزیراعظم پاکستان کا عوام سے کیا گیا وعدہ یاد دلانے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ’پاکستان کسی بھی بیرونی طاقت کے لیے کرائے کا فوجی نہیں بنے گا‘۔

انہوں نے پڑوس میں امریکی ایڈونچر کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکا اب افغانستان میں اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرے، تاکہ یہاں بگڑتی ہوئی صورتحال کو سدھارا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سیاست دانوں کا ڈونلڈ ٹرمپ کے الزام پر شدید ردِعمل

وفاقی وزیر نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا کہ ’اگر امریکا مذہبی آزادی میں سنجیدہ ہے تو پھر وہ بھارت میں مودی سرکار اور یورپی یونین میں اپنے اتحادیوں کے اقلیتوں کے ساتھ طرز عمل پر بھی نگاہ ڈالے‘۔

یاد رہے کہ 11 دسمبر کو امریکا نے مبینہ طور پر اقلیتوں سے نامناسب رویے اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے 'بلیک لسٹ' ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ 'کانگریس کی مرتب کردہ سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جن کے حوالے سے خصوصی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔'