لاہور ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کو ایک مؤثر قانون قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2018

ای میل

لاہورہائی کورٹ نے نیب آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے اور سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواستوں کا تفصیلی جاری کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے 24 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں نیب آرڈیننس کو ایک موثر قانون قرار دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ نیب آرڈیننس اس وقت لاگو ہے، اس کو نہ تو ختم کیا گیا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی گئی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر کی سزائیں کالعدم قرار دینے کی درخواستیں خارج

عدالت عالیہ کے فل بینچ نے فیصلے میں کہا کہ نیب آرڈیننس اس وقت تک برقرار ہے جب تک اس میں ترمیم نہ ہو یا اسے کسی دوسرے قانون سے تبدیل نہ کیا جائے۔

31 اگست 2018 کو لاہور ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو دی جانے والی سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں کو خارج کردیا تھا۔

یاد رہے کہ اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ اور دیگر نے نیب آرڈیننس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔

خیال رہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ 12 اکتوبر 1999 کو ملک میں مارشل لا لگایا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کل نیب نے تہلکہ مچا رکھا ہے جبکہ نیب آرڈیننس بننے کے 120 دن بعد غیر موثر ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف، مریم، صفدر کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں پر سماعت

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نیب کا قانون 18ویں ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے اور ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزا دی گئی جو ختم ہو چکا ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ مردہ قانون کے تحت نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کو سزا نہیں دی جاسکتی۔

30 اگست 2018 کو لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو نیب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف دائر اپیل پر درخواست گزار اور وفاقی حکومت کے وکلا نے دلائل مکمل کرلیے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: نواز شریف، مریم نواز کی سزا کے خلاف درخواست پر فل بینچ تشکیل

19 جولائی 2018 کو لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اکبر علی قریشی نے ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر لارجر بینچ کی تشکیل کیے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی تھی۔

4 اگست 2018 کو لاہور ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف دائر درخواستوں پر فل بینچ تشکیل دیا تھا۔

احتساب عدالت کا فیصلہ

خیال رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات پر مریم نواز کو والد کے اس جرم میں ساتھ دینے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں تھیں جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق تحقیقات میں نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر علیحدہ ایک، ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر نواز شریف کو 11 اور مریم کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔