ایف بی آر کا بےنامی اکاؤنٹس رکھنے والوں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2019

ای میل

بےنامی اکاؤنٹس کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے، اراکین ایف بی آر — فائل فوٹو / اے ایف پی
بےنامی اکاؤنٹس کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے، اراکین ایف بی آر — فائل فوٹو / اے ایف پی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بےنامی اکاؤنٹس اور جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف یکم اپریل سے کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔

ایف بی آر کے رکن اِن لینڈ ریونیو پالیسی ڈاکٹر حامد عتیق سرور اور رکن اِن لینڈ ریونیو آپریشنز سیما شکیل نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران بتایا کہ 'اسٹیٹ بینک کل تک بےنامی اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرے گا، جبکہ بےنامی اکاؤنٹس کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔'

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے لیے ٹیکس وصولی کا 2 ہزار 566 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن جولائی سے فروری تک 2 ہزار 330 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، یوں 236 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 75 ارب روپے کا ٹیکس کم ہوا، تنخواہوں کی مد میں 35 ارب روپے، حکومتی اخراجات کم ہونے سے 55 ارب روپے جبکہ ٹیلی کام سیکٹر سے 35 ارب روپے ٹیکس کم ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: بے نامی جائیداد رکھنے والوں کیلئے سخت سزائیں تیار

ایف بی آر اراکین نے بتایا کہ '6 ہزار 800 نئے ٹیکس چوروں کی نشاندہی کی ہے، 6 ہزار 400 نان فائلز کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں جبکہ ٹیکس چوروں سے 3 ارب 80 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔'

اراکین کا کہنا تھا کہ 'جعلی انوائسز پر 9 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، 2 ٹیکس چوروں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 78 جائیدادیں اور 46 گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں جن کی نیلامی کی جائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے ایف بی آر کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے اظہار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم صرف ایف بی آر نہیں بلکہ کئی دیگر اداروں سے بھی ناخوش ہیں، جبکہ ایف بی آر میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔'

انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے مطالبے پر وزیر اعظم نے 'ایمنسٹی اسکیم' پر غور کا کہا ہے۔

مزید پڑھیں: بے نامی ٹرانزیکشنز اور جائیداد پر ایف بی آر کی وضاحت

حامد عتیق اور سیما شکیل کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف لگژری گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے کارروائی جاری ہے، سابق صدرکو ایف بی آر نے نوٹس بھیجا ہوا ہے، جبکہ ہمارا کراچی آفس اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ 11 مارچ کو حکومت نے 'بے نامی ایکٹ 2019' نافذ کردیا تھا جس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو فرضی افراد کے نام سے رجسٹر جائیدادیں، مہنگی گاڑیاں اور بینک اکاؤنٹس ضبط کرنے کا اختیار مل گیا تھا۔

اس قانون کے تحت ٹیکس ادائیگی سے بچنے کے لیے فرضی ناموں پر رجسٹرڈ تمام بے نامی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی جاسکیں گی۔

خیال رہے کہ بے نامی ایکٹ کا نفاذ 2 سال کی تاخیر کے بعد کیا گیا ہے۔

’بے نامی‘ کی اصطلاح عموماً ایک شخص کے نام پر دوسرے شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے جائیداد یا اثاثے رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق استعمال کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 30 بے نامی اکاؤنٹس سے 10 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف

تاہم اکثر مرتبہ بے نامی کا لفظ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ اثاثوں کی ملکیت کو چھپانے، سرکاری فیس یا ٹیکسز کی ادائیگیوں کے خاتمے سے متعلق استعمال کیا جاتا ہے۔

قوانین کے تحت حکومت نے منقولہ اور غیرمنقولہ اثاثوں کے 'وسل بلورز' کے لیے بھاری نقد انعامات کا اعلان بھی کیا۔