سانحہ ساہیوال:وزیراعظم کی متاثرین کے ورثا سے ملاقات، امدادی چیک تقسیم

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2019

ای میل

سانحہ ساہیوال کے ورثا سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی موجود تھے — فوٹو: ڈان نیوز
سانحہ ساہیوال کے ورثا سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی موجود تھے — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال کے لگ بھگ تین ماہ بعد متاثرین کے ورثا سے ملاقات کی جس میں انہوں نے ورثا سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔

سانحہ ساہیوال کے ورثا سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی موجود تھے۔

عمران خان نے ورثا میں 3 کروڑ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے اور ان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے ورثا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کے ضیاع کا کسی صورت ازالہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن حکومت متاثرین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے حصول کے لیے حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔

عمران خان نے واقعے کے لگ بھگ 3 ماہ بعد متاثرین کے ورثا سے ملاقات کی ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ ساہیوال: متاثرہ خاندان کا جے آئی ٹی کی تفتیش پر عدم اطمینان

سانحہ ساہیوال

واضح رہے کہ 19 جنوری کو ساہیوال کے قریب ٹول پلازہ پر سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن کے بارے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دہشت گرد تھے، تاہم سی ٹی ڈی کے بدلتے بیانات، واقعے میں زخمی بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات سے واقعہ مشکوک ہوگیا تھا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کی تحویل سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں جبکہ ابتدائی طور پر پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

فائرنگ کے دوران کار میں موجود بچے بھی زخمی ہوئے تھے، جنہوں نے ہسپتال میں بیان میں دیا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور جارہے تھے کہ اچانک ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔

واقعے میں محفوظ رہنے والے بچے کا کہنا تھا کہ کار میں مارے جانے والے افراد میں ان کے والدین، بڑی بہن اور والد کے دوست شامل تھے۔

بچے نے بتایا تھا کہ ان کے والد کا نام خلیل احمد تھا اور جنہوں نے فائرنگ سے قبل اہلکاروں سے درخواست کی تھی کہ ہم سے پیسے لے لو لیکن فائرنگ نہیں کرو لیکن ا س کے باوجود اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر پولیس نے ساہیوال میں جعلی مقابلے میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ ’اس واقعے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ ساہیوال کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہوں، وزیراعظم

یاد رہے کہ واقعے میں ہلاک افراد کے لواحقین کے مطالبے پر سی ٹی ڈی کے 16 نامعلوم اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا جبکہ حکومت کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی تھی۔

بعد ازاں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ذیشان کے دہشت گردوں سے روابط تھے اور وہ دہشت گرد تنظیم داعش کا حصہ تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کے مؤقف کے مطابق ساہیوال میں آپریشن 100 فیصد انٹیلی جنس، ٹھوس شواہد اور مکمل معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔

راجہ بشارت نے کہا تھا کہ ’ذیشان کے کچھ عرصے سے داعش کے ایک خطرناک نیٹ ورک سے تعلقات تھے، یہ نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی کے افسران کےقتل، علی حیدر گیلانی کے اغوا اور فیصل آباد میں 2 پولیس افسران کے قتل میں ملوث تھا‘۔

تاہم وزیر قانون کے اس بیان پر ذیشان کے لواحقین نے شدید احتجاج کیا تھا اور ان کی میت کی تدفین کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ذیشان کے بھائی احتشام نے کہا تھا کہ جب تک وزیر قانون مستعفی نہیں ہوتے میت یہیں رکھی رہے گی کیونکہ ان کا بھائی دہشت گرد نہیں تھا۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے ذیشان کے لواحقین سے مذاکرات کیے گئے، جس کے بعد احتجاج ختم ہوگیا تھا۔

دوسری جانب سانحے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن مکمل ہونے پر ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی تھی۔

رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل اور اس کے اہل خانہ بے گناہ تھے جبکہ ذیشان کے حوالے سے انہوں نے مزید تفتیش کیلئے مہلت طلب کی تھی۔

خیال رہے کہ صوبائی وزیر راجہ بشارت نے ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے آپریشن کو 100 فیصد درست قرار دیا تھا۔