ساہیوال: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کار سوار خواتین سمیت 4 'مبینہ دہشت گرد' ہلاک

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2019

ای میل

پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے ساہیوال کے قریب ایک کار پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 4 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، تاہم سی ٹی ڈی اور متاثرین کے متضاد بیانات کے بعد یہ کارروائی معمہ بن گئی۔

ساہیوال کے قریب قادر آباد کے علاقے میں جی ٹی روڈ پر پیش آنے والے اس واقعے کے فوری بعد ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کی تحویل سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گردوں کے سہولت کار تھے، تاہم پنجاب پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔

اس کارروائی کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس ساہیوال کے ترجمان نے بتایا کہ یہ لاہور سی ٹی ڈی کی کارروائی ہے، تاہم پولیس بچوں کو جائے وقوع سے اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے اس کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان شہباز گل نے سوشل میڈیا میں جاری ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ‘ساہیوال کے واقعے پر فوری طور پر وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا اور انہوں نے فوری انکوائری کا حکم دیا اور کہا ہے اصل حقیقت عوام کے سامنے لائے جائیں اورذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے’۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آئی پنجاب کو فون کرکے فوراً انکوائری کا حکم دیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے جس کے مختلف پہلو ہیں، جس میں ایک پہلو یہ ہے کہ شاید اس کار میں دہشت گرد سوار تھے اور انہوں نے خواتین کو ڈھال بنایا تھا’۔

ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ‘دوسرا پہلو شاید یہ ہے کہ اس میں عام شہری تھے جن پر فائرنگ ہوئی ہے اور جو بھی اس کی حقیقی شکل ہوگی اس کو سامنے لائیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس واقعے پر نوٹس لے چکے ہیں اور انکوائری رپورٹ مانگ چکے ہیں لیکن ہم بہت جلد اس کے جو بھی حقائق ہوں گے اس کو سامنے لائیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آئی جی پنجاب بھی اس پر اپنی انکوائری کر رہے ہیں اور بہت جلد ہم اس واقعے کے حوالے سے جو بھی خبر ہوگی آپ کو آگاہ کریں گے’

مزید پڑھیں: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کوئٹہ سے کالعدم تنظیم کا ٹارگٹ کلر گرفتار

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے رپورٹ آئی جی پنجاب کو ارسال کردی گئی۔

جے آئی ٹی کی تشکیل

پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ساہیوال کے قریب قادر آباد میں جی ٹی روڑ پر پیش آنے کے والے واقعے کی تفتیش کے لیے 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) پولیس سید اعجاز حسین شاہ جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے۔

جے آئی ٹی کے دیگر دو اراکین میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے شامل ہیں۔

جے آئی ٹی 3 روز میں تفتیشی رپورٹ محکمہ داخلہ میں جمع کرادے گی۔

سی ٹی ڈی کا بیان

سی ٹی ڈی نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'ہفتے کی دوپہر 12 بجے کے لگ بھگ ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی کی ٹیم نے ایک کار اور ایک موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی جس پر دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ کردی'۔

سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے فائرنگ میں ہلاک افراد میں خاتون بھی شامل ہے—فوٹو:ڈان نیوز
سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے فائرنگ میں ہلاک افراد میں خاتون بھی شامل ہے—فوٹو:ڈان نیوز

سی ٹی ڈی نے بتایا کہ 'ٹیم نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی تاہم جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو 2 خواتین سمیت 4 دہشت گرد اپنے ساتھیوں کی ہی فائرنگ سے ہلاک پائے گئے جبکہ ان کے 3 ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے'۔

سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ 'مارے جانے والے افراد دہشت گردوں کے سہولت کار تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا اور تین بچے بھی بازیاب کروائے گئے'۔

یہ بھی پڑھیں: علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث نیٹ ورک کے 2 دہشت گرد ہلاک

ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ فرار ہونے والوں کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے جن میں سے 2 کی شناخت شاہد جبار اور عبدالرحمٰن کے نام سے ہوئی ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ دہشت گرد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھی تھے۔

والدین اور بڑی بہن کو مارا گیا، زخمی بچے کا بیان

سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ کا نشانہ بننے والی کار میں بچہ بھی موجود تھا جو زخمی ہوئے تھے جنہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔

زخمی بچے نے ہسپتال میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور جارہا تھا کہ اچانک ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔

بچے نے اپنے بیان میں بتایا کہ کار میں مارے جانے والے افراد میں اس کے والدین، بڑی بہن اور والد کے دوست تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ والد کا نام خلیل احمد تھا اور ذیشان گاڑی چلا رہے تھے، جنہوں نے فائرنگ سے قبل اہلکاروں سے درخواست کی کہ ہم سے پیسے لے لو لیکن فائرنگ نہیں کرو، تاہم پھر بھی اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔

مارے جانے والے چاروں افراد لاہور کے رہائشی تھے اور واقعے کی خبر ملتے ہی ان کے گھر میں کہرام مچ گیا۔

مقتول خاندان کے اہلِ خانہ نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ خلیل احمد کا جنرل اسٹور تھا جو اپنے ذیشان نامی دوست کے ساتھ شادی میں بورے والا گیا تھا۔

خلیل احمد کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے کبھی مکھی نہیں ماری، وہ دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے۔

اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ خلیل احمد اور ان کی اہلیہ کو قتل کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے کار پر فائرنگ کی گئی جبکہ کار سے جوابی فائرنگ اور مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد کو جب گاڑی سے باہر نکالا جارہا تھا تو اس وقت کسی قسم کے ہتھیار بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔

واقعے کے بعد مقتول خاندان کے لواحقین ڈی ایچ کیو ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ مل کر سڑک اور لاہور میٹرو بس سروس کے ٹریک کو بلاک کردیا جس کے بعد میٹرو بس سروس معطل ہوگئی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی رمضان بھٹی اور ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن ذوالفقاربٹ نےمظاہرین سےمذاکرات کیے اور لاشوں کی حوالگی کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ دہشت گردوں نے انسانی ڈھال استعمال کی تاہم پنجاب حکومت ساہیوال واقعے پر تفصیلی بات کرے گی۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے، فیاض الحسن چوہان

ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ہم ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے یہ مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی حساس اداروں کی جانب سے کراچی میں گرفتار کیے گئے دہشت گرد کی نشاندہی پر کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مارے جانے والے افراد دہشت گرد نہیں ہیں تو سی ٹی ڈی اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بعد اگر یہ بات سامنے آتی ہے کہ مرنے والے افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے ہے تو معاملے کا رخ تبدیل ہوجائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے مذمت

قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ساہیوال میں کار سوار فیملی پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوس ناک اور ناقابل برداشت ہے، پنجاب حکومت واقعےکی تحقیقات کر کے اصل محرکات تک پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس عوام کی محافظ ہے، ایسے واقعات سے عوام کا اعتماد کم ہوتا ہے اس لیے پولیس نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔

شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے منیب الحق نے ساہیوال میں فائرنگ کے واقعے پر توجہ دلاؤ نوٹس پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ساہیوال میں قادر آباد ٹول پلازہ کے قریب فائرنگ سے 4 ہلاکتیں ہوئیں اور ایک بچہ بھی شدید زخمی ہوا اور فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں پر کسی تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔