سعودیہ سے موخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی جولائی سے شروع ہوجائے گی،مشیر خزانہ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ بھی ادا کیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ بھی ادا کیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو یکم جولائی سے ہر ماہ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا تیل ادھار دے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹوئٹر' پر جاری اپنے بیان میں حفیظ شیخ نے کہا کہ ریاض، پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر 3 برس تک سالانہ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کے تعاون سے مؤخر ادائیگیوں کے توازن کی پوزیشن مستحکم ہوگی‘۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے عوام کی مسلسل مدد پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یکم جولائی سے پاکستان کو ہر ماہ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا تیل فراہم کرے گا۔

خیال رہے کہ وزارت خزانہ نے گزشتہ روز ہی اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر وضاحت کی تھی کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں ہے، لہٰذا ان کے نام سے منسوب ٹوئٹر اکاؤنٹ اور اس پر شائع ہونے والی تمام معلومات کو جعلی سمجھا جائے۔

تاہم ایک روز بعد یعنی آج ہی ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ تشکیل دیا اور اس سے پہلی ٹوئٹ ’سعودیہ سے موخر ادائیگیوں‘ سے متعلق تھی۔

مشیر خزانہ کی ٹوئٹ کے بعد وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے اچھی خبر ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ 'ریاض کے تعاون سے پاکستان کی مؤخر ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن بہتر ہوگی‘۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت پر سعودی ولی عہد اور سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سہولت سے زرمبادلہ کے آوٹ فلو کا دباؤ کم ہو گا اور مارکیٹ پر بھی مثبت اثر ہو گا۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا تھا۔

سعودی عرب سے پاکستان کو پیکیج کی مد میں تیل کی فراہمی سے متعلق معاہدے پر عملدرآمد جنوری سے متوقع تھا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں خواتین ملازمین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

تاہم معاہدہ 3 سال کے لیے ہوا اس میں 9 ارب ڈالر تک کا خام تیل درآمد کیا جاسکتا ہے۔

معاہدہ کی رو سے متحدہ عرب امارات سے ایک لاکھ 10 ہزار بیرل یومیہ خام تیل وصولی شامل ہے جس میں سے 60 ہزار بیرل پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) جبکہ 50 ہزار بیرل نیشنل ریفائنری لمیٹیڈ (این آر ایل) کے لیے مختص ہے۔

پارکو اور این آر ایل اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) میں پاکستانی روپے میں خام تیل کی خریداری کے لیے ادائیگی کریں گی جبکہ آرامکو کو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ بطور تیسری پارٹی ڈالر میں ادائیگی کرے گی۔

بعد ازاں ایس بی پی سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کو اس کی ادائیگی 12 ماہ کے فرق سے کرے گا، مثال کے طور پر جنوری 2019 کی ادائیگی جنوری 2020 میں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد کا دورہ چین، 10ارب ڈالر سے زائد کا معاہدہ

خیال رہے کہ 1998 میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب اسلام آباد کو بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہوا تھا، تب بھی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو اسی طرح کا پیکیج دیا گیا تھا۔

اس پیکیج کی مد میں پاکستان کو 3 ارب 50 کروڑو ڈالر (اس وقت ڈالر کی قیمت کے مقابلے میں ایک سو 90 ارب روپے) کا خام تیل سعودی عرب نے دیا تھا۔

اس پیکیج کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی ادائیگی کا بڑا حصہ گرانٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور جسے سعودی عرب کو واپس نہیں کیا گیا تھا۔