سعودی ولی عہد کا دورہ چین، 10ارب ڈالر سے زائد کا معاہدہ

اپ ڈیٹ 22 فروری 2019

ای میل

توانائی، ای کامرس سے متعلق 35 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے — فوٹو: اے پی
توانائی، ای کامرس سے متعلق 35 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے — فوٹو: اے پی

براعظم ایشیا میں سعودی کا عرب کا اثر و رسوخ بڑھانے کے خواہشمند سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے چین کے دورے کے دوران 10 ارب ڈالر مالیت کے تیل کے معاہدے اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 35 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ریاض کے قومی آئل ایجنٹ سعودی آرامکو کے مطابق سعودی ولی عہد نے سعودی-چینی مشترکہ کوششوں کے تحت شمالی مشرقی صوبے لیاؤننگ میں ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 10 ارب ڈالر مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی نے توانائی، کان کنی، ٹرانسپورٹیشن اور ای کامرس سے متعلق مفاہمت کی 35 یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کا اعلان بھی کیا۔

سعودی ولی عہد نے اپنے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور نائب وزیر اعظم ہان زینگ سے ملاقاتیں کیں۔

مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد چین کے دورے پر پہنچ گئے

محمد بن سلمان سے ملاقات میں چینی صدر نے کہا کہ ’چین، سعودی عرب کا اچھا دوست اور شراکت دار ہے۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’سعودی عرب اور چین کے تعلقات ایک طویل عرصے سے قائم ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’چین کے ساتھ تبادلے کے اتنے طویل عرصے کے باوجود ہمیں چین کے ساتھ کبھی کوئی مسائل پیدا نہیں ہوئے‘۔

سعودی تھنک ٹینک عربیہ فاؤنڈیشن کے سینئر تجزیہ کار نجاح العتیبی نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ، مشرق میں سعودی عرب کا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ہے۔

چین، سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے پر غور کر رہا ہے کیونکہ وہ، اپنے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو وسیع کرنا چاہتا ہے جبکہ ریاض کی تمام تر توجہ ’سعودی وژن 2030‘ پر مرکوز ہے۔

نجاح العتیبی نے کہا کہ ’سعودی عرب تیل کے بغیر معیشت کو فروغ دے رہا ہے جس کے لیے اسے تکنیکی ماہرین سمیت مختلف سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے، جس میں چین بھی شامل ہے‘۔

سعودی ولی عہد نے چینی صدر کو بتایا کہ مزید ترقی اور مشترکہ طور پر درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے دونوں منصوبوں میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی پر ہمیں تکلیف ہوتی ہے، سعودی وزیرخارجہ

چینی نائب وزیر اعظم ہان زینگ کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، انفراسٹرکچر، فنانس اور جدید ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو بڑھانے کی تجویز دی گئی۔

خیال رہے کہ چین، سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

ریاستی نشریاتی ادارے 'سی سی ٹی وی' کے مطابق شی جن پنگ نے سعودی ولی عہد کو بتایا کہ ’چین، سعودی عرب کی جانب سے معیشت کے توسیع اور معاشی اصلاحات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ چین، سعودی عرب کی جانب سے استحکام اور حفاظتی اقدام کے فروغ میں کیے جانے والے اقدامات کی بھی حمایت کرتا ہے۔

قومی سلامتی، خلیجی ریاست اور چین کے درمیان تعاون کی ایک اہم وجہ ہے۔

قبل ازیں سعودی ولی عہد نے چین کے نائب وزیر اعظم ہان زینگ سے ملاقات کی تھی۔

چین کی سرکاری خبر ایجنسی 'ژنہوا' کی رپورٹ کے مطابق ہان زینگ نے محمد بن سلمان سے ملاقات میں کہا کہ ’دونوں ممالک کو انسداد دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شراکت داری کو بڑھانا چاہیے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا چاہیے‘۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’سعودی عرب ملک کو محفوظ بنانے میں چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے‘۔

سی سی ٹی وی کے مطابق محمد بن سلمان نے کہا کہ ’چین اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔'

مزید پڑھیں: 'مانچسٹر یونائیٹڈ کی خریداری'، سعودی ولی عہد نے تردید کردی

انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب، چین کا احترام کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے اور بیجنگ کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کا خواہشمند ہے‘۔

خیال رہے کہ ریاض نے چین کے صوبے سنکیانگ میں ایغور اور دیگر مسلم اقلیتی برادریوں کے ساتھ سلوک پر خاموشی اختیار کی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد 17 فروری کو ایشیا کے 5 ممالک کے دورے پر سب سے پہلے پاکستان پہنچے تھے جہاں سے ان کی واپسی 18 فروری کو ہوئی تھی۔

بعد ازاں محمد بن سلمان 19 فروری کو دو روزہ دورے پر بھارت گئے تھے جہاں سے وہ 21 فروری کو چین پہنچے۔

چین کے بعد محمد بن سلمان جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے اور وہاں بھی ان کی سربراہان مملکت اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات متوقع ہے۔

زیادہ مصروفیات اور چند نامعلوم وجوہات کی وجہ سے انہوں نے انڈونیشیا اور ملائیشیا کا دورہ منسوخ کردیا تھا۔