سعودی عرب میں خواتین ملازمین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

18 فروری 2019

ای میل

سعودی عرب کی نصف ملازمتین خواتین کے پاس ہیں، رپورٹ—فوٹو: عرب نیوز
سعودی عرب کی نصف ملازمتین خواتین کے پاس ہیں، رپورٹ—فوٹو: عرب نیوز

سعودی عرب میں گزشتہ چند سال سے معاشی اصلاحات پروگرام کی وجہ سے جہاں بیرون ممالک کے افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

وہیں حیران کن طور پر مقامی افراد کی جانب سے ملازمتیں کرنے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سعودی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع مقامی افراد کو دیے جانے کا منصوبہ ہے، جس کے تحت اب ریکارڈ تعداد میں مقامی نوجوان ملازمتیں کرنے لگے ہیں۔

سعودی عرب میں گزشتہ 2 سال میں جہاں مرد حضرات ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوا، وہیں خواتین کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

سعودی حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر کے ملازموں کی نصف تعداد خواتین پر مبنی ہے۔

عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں سعودی عرب کے محکمہ شماریات کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے کے دوران سعودی عرب میں 2 لاکھ 60 ہزار ملازمین کا اضافہ ہوا۔

زیادہ تر خواتین سیلز کے شعبے میں نوکریاں کر رہی ہیں—فوٹو: زاویہ
زیادہ تر خواتین سیلز کے شعبے میں نوکریاں کر رہی ہیں—فوٹو: زاویہ

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں سیلز اور اس طرح کی دیگر نوکریوں میں 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو ملازمتیں ملیں، جن میں سے 48 فیصد ملازمتیں خواتین کی دی گئیں۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2 لاکھ 60 ہزار ملازمین میں سے ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد ملازمین خواتین تھیں۔

محکمہ شماریات کے مطابق 2017 کی پہلی سہ ماہی میں 44 ہزار سعودی عرب کے افراد نے ملازمتین حاصل کی تھیں اور 2018 کی تیسری سہ ماہی تک ملازموں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

گزشتہ برس کی تیسری سہ ماہی تک سعودی عرب کے تمام علاقوں میں خواتین ملازمین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے ’سعودی گزٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں خواتین ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 6 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

سعودی حکومت نے خواتین کی ملازمتوں کے لیے درجنوں منصوبوں کا اعلان کیا ہے—فوٹو: سعودی گزٹ
سعودی حکومت نے خواتین کی ملازمتوں کے لیے درجنوں منصوبوں کا اعلان کیا ہے—فوٹو: سعودی گزٹ

رپورٹ کے مطابق کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں خواتین کی خود مختاری اور ملازمتوں کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار میں ریاست مکہ کے منسٹری برانچ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل نوال عبداللہ التھبیان نے بتایا کہ سعودی عرب کی خواتین ملازمین نہ صرف محنت سے آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ وہ ایسے کام بھی سر انجام دے رہی ہیں جو ان کے لیے چیلنج تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی حکومت نے خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے 344 ارب ریال کی سرمایہ کاری سے 499 نئے منصوبے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے مطابق اس وقت سعودی حکومت 4 سے زائد بچوں کی والدہ خواتین ملازمین کو مراعتیں بھی دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی مراعات کے تحت 13 ہزار سے زائد خواتین ملازمین فائدہ حاصل کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے معاشی اصلاحات اور وژن 2030 کے تحت ہی گزشتہ برس خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیے جانے سمیت انہیں سرکاری عہدوں پر تعینات بھی کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس ہی سعودی عرب میں خواتین کے لیے پہلے فیشن ویک کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

مجموعی طور پر سعودی عرب میں 6 لاکھ خواتین ملازمت کر رہی ہیں—فوٹو: ٹریڈ عربیہ
مجموعی طور پر سعودی عرب میں 6 لاکھ خواتین ملازمت کر رہی ہیں—فوٹو: ٹریڈ عربیہ