فرشتہ قتل کیس: ملزمان کی نشاندہی کیلئے پولیس کی عوام سے مدد کی اپیل

ای میل

پولیس کے مطابق اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا — فائل فوٹو/ شٹر اسٹاک
پولیس کے مطابق اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا — فائل فوٹو/ شٹر اسٹاک

فرشتہ قتل کیس میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے عوام سے مدد مانگ لی۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کیے جانے والے اشتہار کے مطابق اطلاع دینے والے کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسلام اباد پولیس کا کہنا تھا کہ اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں: فرشتہ قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کا آغاز، لواحقین کے بیانات قلمبند

ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انویسٹی گیشن اسلام آباد ڈاکٹر سید مصطفیٰ تنویر کی جانب سے فرشتہ قتل کیس میں عوام سے مدد کی اپیل کی گئی۔

اسلام آباد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کردی
اسلام آباد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کردی

اسلام آباد پولیس نے اشتہار میں عوام سے اپیل کی ہے کہ 'عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ گذشتہ دنوں فرشتہ کے قتل کے افسوس ناک واقعہ میں ملوث افراد سے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی معلومات کیسی شہری کے پاس ہوں تو وہ اسلام آباد پولیس کے فون نمبرز پر اطلاع دیں'۔

فرشتہ قتل کیس

خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن کی رہائشی 10 سالہ فرشتہ 15 مئی کو گھر سے باہر نکلی لیکن واپس گھر نہ پہنچی تھی۔

بچی کی گمشدگی کے بعد اہلِ خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کی تلاش کی اور اندراجِ مقدمہ کے لیے پولیس سے رابطہ کیا لیکن پولیس نے اہلِ خانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کے بجائے کہا کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔

جس کے بعد رکنِ قومی اسمبلی کی مداخلت اور ان کی جانب سے مذکورہ معاملہ انسپکٹر جنرل پولیس محمد عامر ذوالفقار خان کے سامنے اٹھانے پر گمشدگی کے 4 روز بعد 19 مئی کو واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: فرشتہ قتل کیس: وزیر اعظم کے حکم پر پولیس افسران گرفتار

مقدمے کے اگلے ہی روز بچی کی مسخ شدہ لاش تمہ گاؤں کی جھاڑیوں سے برآمد ہوئی جب گاؤں کے کچھ افراد نے لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی، بعدازاں متاثرہ بچی کے والد غلام نبی نے اس کے کپڑوں کی مدد سے لاش کی شناخت کی۔

پولیس کے مطابق لاش 4 روز پرانی تھی اور امکان ظاہر کیا گیا کہ اسے گینگ ریپ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم اس کی تصدیق اور لاش کی حتمی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرلیے گئے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنا بھی باقی ہیں۔

لواحقین کے احتجاج کرنے پر تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا جبکہ پولیس حکام نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی تردید کی۔

22 مئی کو وزیر اعظم عمران خان نے 10 سالہ بچی فرشتہ کے اغوا، مبینہ ریپ اور قتل کے کیس میں ایس ایچ او شہزاد ٹاﺅن اسلام آباد کی گرفتاری میں تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز اور انسپکٹر جنرل پولیس سے وضاحت طلب کر لی تھی۔

پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے شہزاد ٹاؤن کے سب ڈویژنل پولیس افسر کی معطلی اور سپرنٹنڈنٹ پولیس (دیہی علاقہ جات) کی برطرفی کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: 10 سالہ بچی کا زیادتی کے بعد قتل،اہلخانہ کا شدید احتجاج،2 ملزمان گرفتار

جس پر پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شہزاد ٹاؤن تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) اور اس کیس کے تفتیشی افسر کو گرفتار کرلیا تھا۔

23 مئی کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں مبینہ ریپ کے بعد قتل کی جانے والی معصوم فرشتہ کے کیس کی جوڈیشل انکوائری کا آغاز کردیا گیا تھا۔

مذکورہ کیس سے متعلق ضلعی مجسٹریٹ نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اب اس کی عدالتی تحقیقات چیف کمشنر آفس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمیشنر وسیم کر رہے ہیں۔

انکوائری کے دوران فرشتہ کے لواحقین کا کہنا تھا کہ انہوں نے بچی کی گمشدگی کی رپورٹ جمع کروانے کے لیے 3 روز تک متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا لیکن تھانے کے ایس ایچ او نے بات کرنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔