حارث سہیل جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں فرق ثابت ہوئے، سرفراز

ای میل

پاکستان کو ورلڈ کپ میں اگلے تمام میچوں میں فتح درکار ہے— فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کو ورلڈ کپ میں اگلے تمام میچوں میں فتح درکار ہے— فوٹو: اے ایف پی

لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف حارث سہیل نے انگلش بلے باز جوز بٹلر کی طرح بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا اور دونوں ٹیموں میں بنیادی فرق ثابت ہوئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی کے لیے لکھے گئے کالم میں سرفراز احمد نے کہا کہ پچھلا ہفتہ بہت مشکل رہا کیونکہ ہم بھارت کے خلاف بری طرح ہارے، اس کے بعد ٹیم پر بہت تنقید ہوئی جو زیادہ تر جائز تھی، ہم نے غلطیاں کیں ، لہٰذا ہم اس کے مستحق تھے لیکن ہم نے اس تنقید کو مثبت لیا۔

سرفراز نے لکھا کہ ہم نے غلطیوں کے بارے میں سوچا اور یہ عہد کیا کہ انہیں دوبارہ نہیں دہرائیں گے، یہ ایک طرح سے خود احتسابی تھی، ان تمام میٹنگز کے بعد ہم پرعزم تھے کہ ہم کم بیک کر سکتے ہیں اور یہ جانتے تھے کہ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔

قومی ٹیم کے کپتان نے لکھا کہ انگلینڈ کے خلاف سری لنکا کی اپ سیٹ کامیابی ہمارے لیے حوصلہ افزا تھی اور اس نے یقینی طور پر ٹورنامنٹ کو اوپن کر دیا اور ہمیں یقین دیا کہ اگر ہم آخری چار میچز میں اپنی اہلیت کے مطابق کھیلیں تو جیت سکتے ہیں اور اسی مثبت سوچ کے ساتھ لارڈز پہنچے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ٹیم کس طرح سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے سب کچھ ہمارے حق میں گیا، ہم نے ایک مشکل پچ پر اچھا ٹاس جیتا، اس پچ پر بیٹنگ آسان نہیں تھی لیکن ہم نے ایک نڈر فیصلہ لیا۔ امام الحق اور فخر زمان نے 81 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا جس کے بعد پھر حارث سہیل اور بابر اعظم نے اننگز کو مضبوط کیا۔

سرفراز نے لکھا کہ حارث کی اننگز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، حارث کی اننگز میچ میں فرق بن گئی، وہ سخت حالات میں ورلڈ کپ کا صرف دوسرا میچ کھیل رہا تھا لیکن آخری پندرہ اوورز میں اس نے جوز بٹلر کی طرح کی بیٹنگ کی۔

سرفراز نے اپنے کالم میں بتایا کہ حارث میچ کھیلنے کے لیے بے تاب تھا، اس کی باڈی لینگویج اننگز کے آغاز سے ہی انتہائی مثبت تھی جبکہ حارث اور بابر کی شراکت نے ہمیں ایک اضافی فائدہ پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ حارث کی کارکردگی یہ سوال ذہن میں لاتی ہے کہ ہم نے پہلے میچ کے بعدحارث کو کیوں ڈراپ کیا؟ یہ اس لیے تھا کیونکہ ہم ایک مخصوص کمبی نیشن کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے، ہم نے ہمیشہ اس کی صلاحیتوں پر یقین کیا ہے لیکن چونکہ ہم مختلف کمبی نیشن کے ساتھ کھیل رہے تھے لہٰذا وہ فائنل 11 میں نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ: بھارت کے خلاف میچ کے بعد خودکشی کرنا چاہتا تھا، آرتھر

انہوں نے لکھا کہ حارث مستقبل کیلئے ایک اہم کھلاڑی ہے اور اس میں بہت ٹیلنٹ ہے لیکن اس کا کیریئر فٹنس مسائل سے دوچار رہا ہے، اب مجھے اْمید ہے کہ یہ اننگز حارث کے کیریئر کو پروان چڑھائےگی۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کالم میں لکھا کہ ہم نے جنوبی افریقہ کیخلاف بورڈ پر ایک اچھا ٹوٹل سجایا اور اننگز کے وقفہ کے دوران ہم جانتے تھے کہ اگر ابتدائی وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے تو جنوبی افریقہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، ہم یہ بھی جانتے تھے کہ شاداب خان اس پچ پر اہم ہوں گے کیونکہ عمران طاہر کو بھی پچ سے مدد ملی تھی۔

انہوں نے مزید لکھا کہ شاداب اور عماد وسیم نے نپی تلی بولنگ کی، ہم نے ابتدائی وکٹ جلد حاصل کی اور پھر اننگز کے درمیانی اوورز میں شاداب خان کی باؤلنگ شاندار رہی، محمد عامر اور وہاب ریاض نے دباؤ ڈالا اور اس نے کام کیا۔

ورلڈکپ کے اگلے میچز کے حوالے سے سرفراز نے لکھا کہ ہماری اگلی مخالف ٹیم نیوزی لینڈ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک خطرناک ٹیم ہے اور وہ اس وقت فارم میں بھی ہے لہٰذا ہمیں اپنی اسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، بیٹنگ میں ایک پلیٹ فارم قائم کرنا اور باؤلنگ میں ابتدائی وکٹیں لینا، یہی کامیابی کی ضمانت ہوگا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ کپ 2019: پاکستان نے ڈراپ کیچز میں تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا

کپتان نے میچ میں خراب فیلڈنگ کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فیلڈنگ پھر پریشان کن رہی ہے، ہمیں اسے بہت زیادہ بہتر کرنا ہوگا، ہم نے جنوبی افریقہ کے خلاف بھی بہت کیچز گرائے، اگر اچھی ٹیموں کو اس طرح اور اچھے بیٹسمینوں کو اس طرح موقع دیں گے تو وہ ہمیں خوب سزا دیں گے، اگلے چند دنوں میں ہم اضافی فیلڈنگ ڈرل کریں گے۔

قومی کپتان نے لکھا کہ ہماری کامیابی کسی کی بھی تنقید کا جواب نہیں ہے، ہم یہاں کرکٹ کھیلنے اور عالمی کپ جیتنے کے لیے آئے ہیں، اب ہمارا ہدف اگلے تین میچز ہیں، بدھ کو ہم ایک اور مضبوط اور ان فارم ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف میدان میں اْتریں گے۔

سرفراز نے کالم کے اختتام میں لکھا کہ ہم ہمیشہ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں، جب ہم جیت جاتے ہیں تو اس کوشش کی سب تعریف کرتے ہیں لیکن جب ہم ہارتے ہیں تو منفی چیز سامنے آجاتی ہے، آنے والے میچ میں کوشش ہوگی کہ غلطیاں نہ کریں۔