’آزادی مارچ‘ سے متعلق ہدایت نامے سے دھرنا طویل ہونے کا اشارہ

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2019

ای میل

مقامی عہدیداران کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو اسلام آباد پہنچانے کے لیے کرائے کی گاڑیوں کا بندوبست کریں—تصویر: فیس بک
مقامی عہدیداران کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو اسلام آباد پہنچانے کے لیے کرائے کی گاڑیوں کا بندوبست کریں—تصویر: فیس بک

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت مخالف آزادی مارچ میں شرکت کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہمراہ کم از کم 4 سے 5 روز کا راشن اور اشیائے ضروریات لے کر آئیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوگیا کہ پارٹی کا اسلام آباد میں طویل دھرنا دینے کا ارادہ ہے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے اپنے کارکنان اور ہمدردوں کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق طالبعلم اپنے ہمراہ درسی کتب اور قرآن پاک لے کر آئیں تا کہ ان کی تعلیم کا حرج نہ ہو۔

خیال رہے کہ جے یو آئی (ف) کے زیرِ انتظام مدرسوں میں ہزاروں نوجوان طالبعلم زیرِ تعلیم ہیں جنہیں ’آزادی مارچ‘ میں استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

32 نکات پر مشتمل یہ ہدایت نامہ میڈیا کو بھی جاری کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی (ف) کی ذیلی تنظیم 'انصار الاسلام' پر پابندی عائد

قبل ازیں جے یو آئی (ف) کے صوبائی امیر مولانا راشد سومرو نے یہ ہدایات جاری کی تھیں، جس کے بعد دیگر صوبوں کے پارٹی رہنماؤں نے بھی یہ ہدایات جاری کردیں۔

اس سلسلے میں مقامی عہدیداران کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو اسلام آباد پہنچانے کے لیے کرائے کی گاڑیوں کا بندوبست کریں۔

اس کے علاوہ دھرنے کے متوقع شرکا کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے ساتھ کپڑوں کے کم از کم 2 جوڑے، بستر کی چادریں، کمبل، خشک میوہ جات، چھتریاں، موبائل فون چارجر، پانی کی بوتلیں وغیرہ لے کر آئیں اور اسلام آباد میں ایک ہفتے تک دھرنا دینے کے لیے تیار رہیں۔

تاہم مارچ کے شرکا کو لائسنس یافتہ یا غیر قانونی اسلحہ، چاقو، چھڑیاں اور لاٹھیاں نہ لانے کی تاکید کی گئی۔

مزید پڑھیں: جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ سے قبل ہی مدارس کی نگرانی شروع

اس کے ساتھ ساتھ انہیں مارچ کے دوران پُرامن رہنے، دوسروں کو بھی پُرامن رہنے کی ہدایت کرنے، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں پارٹی کے ضلعی گروپس کو اپنے ساتھ کسی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ایمبولینس اور ایک کرین لانے کی بھی ہدایت کی گئی تا کہ سڑک سے رکاوٹیں دور کی جاسکیں اور ایمبولینسوں میں نمک اور پانی کی بھی وافر مقدار رکھنے کا بھی کہا گیا ہے کہ اگر پولیس آنسو گیس فائر کرے تو ان کا استعمال کیا جاسکے۔

اس کے علاوہ شرکا کے لیے اپنے ہمراہ اپنا قومی شناختی کارڈ رکھنا ضروری ہوگا جبکہ کسی اجنبی کو مارچ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مذکورہ ہدایت نامے میں اسلام آباد میں خیمہ بستی بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس کے لیے انتباہ جاری کیا گیا کہ شرکا وہاں ایل پی جی سلنڈر استعمال نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا

اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا دھرنا کم از کم 7 روز کا ہوسکتا ہے جس میں مزید توسیع کا بھی امکان ہے۔

ادھر جے یو آئی (ف) سندھ کے مطابق حکومت مخالف مارچ کا آغاز کراچی-حیدرآباد موٹروے پر قائم ٹول پلازہ سے ہوگا جہاں سے شرکا گھوٹکی کے علاقے اوباڑو جائیں گے۔

دوسری جانب پارٹی کی مقامی انتظامیہ کو ان کے علاقوں میں موجود تمام مساجد اور مدرسے صاف رکھنے اور مارچ کے شرکا کی رہائش کا انتظام رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جہاں وائی فائی اور ٹیلی فون کی سہولت بھی انہیں میسر ہو۔

جے یو آئی (ف) نے اپنے کارکنان پر زور دیا کہ اپنی خواتین کو ’آزادی مارچ‘ کے دوران روزے رکھنے کی تاکید کریں۔


یہ خبر 23 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔