پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) کا جے یو آئی (ف) کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 02 نومبر 2019

ای میل

آزادی مارچ کے جلسے سے شہباز شریف نے بھی خطاب کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
آزادی مارچ کے جلسے سے شہباز شریف نے بھی خطاب کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا وہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں کہ وہ صرف عوامی جلسے میں شرکت کریں گے اور کسی دھرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت سے متعلق کوئی ہدایات بھی جاری نہیں کیں۔

اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے ڈان کو بتایا تھا کہ 'ہم صرف ایک دن کے لیے آئے ہیں'۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ: 2 دن کی مہلت ہے وزیراعظم استعفیٰ دے دیں، مولانا فضل الرحمٰن

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے انہیں آزادی مارچ میں صرف ایک روز کے لیے شرکت کرنے کا کہا تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے جوش و جذبے سے آزادی مارچ اور جلسے میں شرکت کی تھی، تاہم ان کی جماعت نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت کی کال نہیں دی تھی۔

اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کثیر الجماعتی کانفرنسز (ایم پی سی) اور رہبر کمیٹی کے اجلاس کے دوران واضح کردیا تھا وہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے۔

جب انہیں بتایا گیا کہ جے یو آئی (ف) کا دھرنا فی الحال صرف 2 دن کا ہے تو اس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے 2 روز کی مدت کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) کیا قدم اٹھائے گی۔

3نومبر کے بعد دھرنا جاری رہنے پر پاکستان پیپلزپارٹی کی شرکت کے امکان سے متعلق فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ اپنی جماعت سے تبادلہ خیال کیے بغیر اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

ساتھ ہی فرحت اللہ بابر نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دھرنے میں شرکت کی درخواست پر پیپلزپارٹی کے ممکنہ موقف پر بھی جواب دینے سے انکار کردیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے جنوبی پنجاب میں جلسوں سے خطاب کا ارادہ برقرار ہے۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے لیے رحیم یارخان جانا تھا لیکن موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے نہیں جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ: جے یو آئی (ف) کا قافلہ اسلام آباد میں داخل

ان کا کہن اتھا کہ پرواز کی منسوخی کی وجہ سے چیئرمین پیپلزپارٹی آزادی مارچ کے مقام پر پہنچے اور صدر مسلم لیگ(ن) شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ شرکا سے خطاب کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ کے جلسے سے خطاب میں حکومت کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان پر حکومت کرنے کا حق عوام کا ہے کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن سے قبل آزادی مارچ کے شرکا سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے خطاب کیا تھا اور حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔

یاد رہے کہ آزادی مارچ کا آغاز 27 مارچ کو کراچی سے ہوا تھا جو سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر گوجر خان پہنچا تھا اور 31 اکتوبر کی شب راولپنڈی سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔