پاکستان انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والے بدترین ممالک میں شامل، رپورٹ

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

پاکستان کی رینکنگ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ تنزلی آئی— فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کی رینکنگ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ تنزلی آئی— فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے رپورٹ جاری کرنے والے ادارے نے مسلسل 9ویں سال پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والا ملک قرار دے دیا۔

فریڈم ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2019 میں انٹرنیٹ آزادی سے متعلق 100 ممالک میں پاکستان ایک درجہ تنزلی کے بعد 27ویں نمبر سے 26ویں نمبر پر آگیا۔

فریڈم آن دی نیٹ سے متعلق سالانہ رپورٹ 2019 ' کرائسس آف سوشل میڈیا' میں پاکستان کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے 'آزاد نہیں' ملک قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ہرسال پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں جون 2018 سے مئی 2019 کے عرصے کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ اس عرصے میں عالمی سطح پر انٹرنیٹ آزادی میں کمی آئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی انٹرنیٹ آزادی کی درجہ بندی میں مسلسل 7ویں سال تنزلی

رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر کی حکومتیں سوشل میڈیا کو انتخابات پر اثر انداز ہونے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کررہی ہیں، رپورٹ میں اس رجحان کو ٹیکنالوجی کی ڈیجیٹل آمریت کا رجحان قرار دیا گیا۔

اسی طرح رپورٹ میں پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی سے متعلق 100 (بدترین ممالک) میں سے 26 ویں نمبر رکھا گیا، پاکستان کی درجہ بندی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ تنزلی آئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان رسائی میں رکاوٹ میں 25 سے 5ویں نمبر، مواد پر حدود کیلئے 35 میں سے 14ویں نمبر اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی میں 40 میں سے 7ویں نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 2018 میں آن لائن اظہار رائے پر قدغن رہی، رپورٹ

عالمی سطح پر پاکستان انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی آزادی سے متعلق دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے جبکہ خطے کے لحاظ سے ویتنام اور چین کے بعد پاکستان تیسرا بدترین ملک ہے۔

پاکستان کے حوالے سے تیار کی گئی رپورٹ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے تحریر کی تھی، ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ 'رواں برس کی درجہ بندی حکومتوں کی جانب سے قلیل مدتی اور رجعت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے'۔

انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے میں رکاوٹ بننے والے اداروں میں برسوں سے جاری قانون سازی اور سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے کہ جہاں پاکستان میں انٹرنیٹ زیادہ غیر محفوظ ہے۔

رسائی میں رکاوٹ

رپورٹ کے مطابق جون 2018 سے مئی 2019 کے دوران انٹرنیٹ رجسٹریشن میں معمولی اضافہ ہوا، پاکستان میں 6 کروڑ 70 لاکھ براڈ بینڈ کنیکشنز ہیں اور گزشتہ رپورٹ سے اب تک ان میں ایک کروڑ کا اضافہ ہوا۔

تاہم رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حالیہ چند برسوں میں دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ کی فراہمی سے متعلق حکومتی اقدامات میں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی انٹرنیٹ صارفین حکومتی سنسر شپ کی زد میں

اس میں مزید کہا گیا کہ حکام احتجاج، انتخابات مذہبی اور قومی تعطیلات پر اکثر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹیلی کمیونیکیشن سروسز میں خلل ڈالتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 کے عام انتخابات کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں اور وفاق کے زیر انتظام سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں انتخابی عرصے کے دوران موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل تھی۔

مواد کو محدود کرنا

رپورٹ میں جائزہ لیا گیا کہ حکام نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مختلف طریقوں سے خاموش کروانے کی کوششیں کیں۔

اس میں کہا گیا کہ صارفین کو توہین مذہب سے متعلق مواد آن لائن پوسٹ کرنے کے الزام میں سزائے موت بھی سنائی گئی تاہم انہوں نے اپنی سزاؤں پر اپیل دائر کی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاسی، مذہبی اور سماجی مواد پوسٹ کرنے والی 8 لاکھ سے زائد ویب سائٹس بلاک رہیں جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) غیر شفاف انداز میں مواد پر پابندی عائد کرتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ پرگستاخانہ مواد: عدالت کا حکومت کو فوری اقدامات کا حکم

اس میں مزید کہا کہ ریاستی اور دیگر عناصر پبلشرز، کانٹینٹ پروڈیوسرز پر مواد سے متعلق اضافی دباؤ ڈالتے رہے اور ایسے اقدامات کو اکثر رپورٹ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اکثر آن لائن تبصرہ نگاروں نے مذہب، توہین مذہب، سول-ملٹری تعلقات، علیحدگی پسند تحاریک، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے عنوان پر لکھتے ہوئے خود ساختہ سینسرشپ اختیار کی۔

اس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ غیرمصدقہ اکاؤنٹس آن لائن مواد پر اثر انداز ہوکر گمراہ کن اطلاعات پھیلارہے ہیں۔

صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی

رپورٹ کے مطابق جون 2018 تا مئی 2019 کے درمیان ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قانون نہ ہونے کے باعث حکومتی نگرانی اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ انتہائی تشویش کا باعث رہی۔

صارفین کو اپنی آن لائن سرگرمی کے ردعمل میں دھمکیوں، بلیک میلنگ اور بعض اوقات تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

مذکورہ رپورٹ میں جن ممالک کا جائزہ لیا گیا ان میں ایشیا کے 15 میں سے 13 ممالک میں سوشل میڈیا کی نگرانی تیاری کے مراحل میں ہے یا ان کا استعمال جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس فروری میں حکومتِ پاکستان نے انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف مواد کے خلاف نئے نظام کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا مانیٹرنگ میں اضافہ کیا۔

عالمی سطح پر انٹرنیٹ آزادی میں کمی

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 65 میں سے 33 ممالک میں انٹرنیٹ آزادی سے متعلق کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر پابندی سے گستاخانہ مواد ہٹ جائے گا؟

فریڈم ہاؤس کے صدر مائیک ابرامووٹز نے کہا کہ 'اکثر حکومتیں دیکھتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر سنسرشپ سے زیادہ پروپیگنڈا زیادہ اچھے سے کام کرتا ہے'۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس حوالے سے 65 ممالک کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ 38 ممالک میں سیاسی رہنما خفیہ آن لائن رائے قائم کرنے اور مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے لوگوں کو ملازمت پر رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں آن لائن رائے قائم کرنے کے لیے گمراہ کن اطلاعات کی تکنیک کو سب سے زیادہ استعمال کیا گیا۔


یہ خبر 6 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی