بھارت: بابری مسجد فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر نامناسب تبصرے،درجنوں افراد گرفتار

11 نومبر 2019

ای میل

'واٹس ایپ' گروپوں کو بھی اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا کہا گیا ہے، میڈیا رپورٹس — فائل فوٹو / اے پی
'واٹس ایپ' گروپوں کو بھی اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا کہا گیا ہے، میڈیا رپورٹس — فائل فوٹو / اے پی

بھارتی پولیس نے بابری مسجد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کے ذریعے مبینہ طور پر 'فرقہ ورانہ ہم آہنگی' کو نقصان پہنچانے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے دو روز قبل 1992 میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد سے شمالی شہر ایودھیا میں سیکیورٹی فورسز الرٹ ہیں اور مذہبی تہوار سے قبل ہی ہزاروں ہندو زائرین کے یہاں آنے کی وجہ سے بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار سڑکوں پر موجود ہیں۔

ہندو اور مسلم رہنماؤں کی جانب سے دونوں مذاہب کے ماننے والوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس نے گرفتاری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تبصروں سے 'فرقہ ورانہ ہم آہنگی' کو خطرہ تھا۔

پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد شمالی ریاست اتر پردیش سے، جہاں ایودھیا بھی واقع ہے، 77 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کیس کے فیصلے سے ہمیں نئی شروعات کا موقع ملا ہے، مودی

پولیس نے کہا کہ حکام 8 ہزار 200 سے زائد پوسٹس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایسی پوسٹس رپورٹ کرنا اور پوسٹ کرنے والوں کو پیغام ہٹانے کے لیے براہ راست میسج کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اترپردیش پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دو کیسز میں پولیس نے صارفین کو حکم دیا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ختم کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر پر 2 ہزار 800 سے زائد پوسٹس کو ہدف بنایا گیا، فیس بک پر مبینہ طور پر ایک ہزار 355 اشتعال انگیز تبصرے کیے گئے تھے جبکہ یوٹیوب پر 98 ایسی ویڈیوز ڈالی گئی تھیں۔

پولیس کے سائبر کرائم یونٹس نے کہا کہ وہ مشتبہ سوشل میڈیا پوسٹس کی شناخت کے لیے 'جذبات کا تجزیہ' کرنے والے پروگرامز استعمال کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے ایک اعلیٰ سطح کے عہدیدار نے کہا کہ کئی 'واٹس ایپ' گروپوں کو بھی اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہوا، دفتر خارجہ

سوشل میڈیا پر تبصروں کے ذریعے مبینہ طور پر 'فرقہ ورانہ ہم آہنگی' کو نقصان پہنچانے کے الزام میں وسطی ریاست مدھیا پردیش سے بھی 8 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ہندوؤں کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد آتش بازی کے ذریعے جشن منانے پر گوالیار شہر کے جیل وارڈن کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع زمین کے مالک رام جنم بھومی نیاس ہیں۔

ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ مندر کی تعمیر کے لیے 3 ماہ میں ٹرسٹ تشکیل دی جائے۔

اہم ترین اور 27 سال سے جای کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ آثارِ قدیمہ کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ بابری مسجد کے نیچے بھی تعمیرات موجود تھیں جو اسلام سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس بات کے اطمینان بخش شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد کسی خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد، لاہور گردوارا: مقدمہ ایک جیسا، بھارت کا فیصلہ اور پاکستان کا اور

سپریم کورٹ کے مطابق آرکیالوجیکل سروے انڈیا (اے ایس آئی) نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ متنازع زمین پر 12 ویں صدی عیسوی میں مندر تھا اور نہ ہی خاص طور پر یہ بتایا کہ بابری مسجد کے نیچے پائی جانے والی تعمیرات مندر کی تھیں۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ اے ایس آئی رپورٹ میں اس انتہائی اہم بات کا جواب نہیں دیا گیا کہ بابری مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی۔

یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔