بابری مسجد، لاہور گوردوارا: مقدمہ ایک جیسا، فیصلے الگ الگ

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

لاہور میں گردوارے کی حفاظت مسلمانوں نے کی لیکن بھارت میں اس کے برعکس ہوا—فائل/فوٹو:ڈان
لاہور میں گردوارے کی حفاظت مسلمانوں نے کی لیکن بھارت میں اس کے برعکس ہوا—فائل/فوٹو:ڈان

بھارتی سپریم کورٹ نے صدیوں پرانی بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی مگر پاکستان میں اسی طرح کے مقدمہ لاہور کے شاہد گنج گوردوارا کا فیصلہ بالکل الٹ کیا گیا۔

ترک خبرایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق سولھویں صدی میں مغل بادشاہ بابر کے دور میں تعمیر بابری مسجد کی زمین صدیوں بعد ہندووں کے حوالے کردی گئی لیکن لاہور میں مسجد پر بنائے گئے گوردوارے کی زمین مسلمانوں کے بجائے سکھوں کے حوالے سے کردی گئی۔

بھارت اور پاکستان میں دائر ہونے والے دونوں مقدمات میں دعوے اور قانونی نکات ایک جیسے ہی تھے لیکن نتیجہ بالکل الگ نکلا۔

پاکستان سکھ کونسل کے چیئرمین سردار رمیش سنگھ کا کہنا تھا کہ ‘بابری مسجد اور شاہد گنج گوردوارا دونوں مقامات قانونی حوالے سے ملتے جلتے ہیں لیکن نتائج میں ایک جیسے نہیں ہیں’۔

مزید پڑھیں:بابری مسجد کی زمین پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا، بھارتی سپریم کورٹ

رپورٹ کے مطابق سردار رمیش سنگھ نے پاکستان بننے کے بعد گوردوارے کو مسجد میں تبدیل نہ کرنے پر مسلمان برادری کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت میں بابری مسجد کی زمین مسلم اقلیت سے لے لی گئی لیکن مسلمان اکثریتی ملک پاکستان میں گوردوارا بدستور سکھ اقلیت کے پاس ہے’۔

لاہور میں 1653 میں مسجد تعمیر ہوئی تھی جس کو رنجیت سنگھ کے دور میں گوردوارا بنایا گیاتھا—فائل/فوٹو:ڈان
لاہور میں 1653 میں مسجد تعمیر ہوئی تھی جس کو رنجیت سنگھ کے دور میں گوردوارا بنایا گیاتھا—فائل/فوٹو:ڈان

تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو لاہور میں شاہد گنج گوردوارا یا بھائی تارو سنگھ گوردوارا کی اور بابری مسجد تنازع میں کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے لیکن بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہاپسندوں نے گرایا تھا اور اب سپریم کورٹ نے اس زمین کو مندر کی تعمیر کے لیے ہندووں کے حوالے کردیا۔

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں شاہد گنج گردوارے کی جگہ پر لاہور کے کوتوال (پولیس سربراہ) نے 1653 میں ایک مسجد تعمیر کی تھی جو سکھوں کے مہاراجا رنجیت سنگھ کے قبضے کے بعد 1799 تک مسجد ہی رہی۔

رنجیت سنگھ نے جب افغان حکمرانوں کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا تو اس مسجد کو گوردوارے میں تبدیل کردیا گیا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:بابری مسجد کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہوا، دفتر خارجہ

انگریزوں نے 1849 میں لاہور پر اقتدار سنبھالا تو مسلمانوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ گوردوارے کو مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے لیکن عدالت میں اس وقت کے قانون کے مطابق درخواست مسترد کردی اور سوال اٹھایا کہ اس دعوے کے لیے 51 سال تاخیر کی گئی۔

بعد ازاں 2 مئی 1940 کو انگریز دور میں ہی لندن کی اعلیٰ کونسل نے مسلمانوں کے دعوے کو مسترد کردیا۔

مقامی مسلمانوں نے گوردوارے کا تحفظ کیا

سردار رمیش سنگھ نے بتایا کہ ‘1947 میں بڑے پیمانے پر ہجرت کے نتیجے میں گوردوارے کے اطراف میں سکھوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی، ایسی صورت حال میں اگر مقامی افراد گوردوارے کو مسجد بنانے پر اصرار کرتے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا’۔

پشاور میں سکھ برادری کے رہنما سردار چرنجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے بھارت کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

انہوں نے سترھویں صدی کے ایک سکھ اسکالر سے منسوب گوردوارا بابا بیبا سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پشاور میں مقامی مسلمانوں کے تعاون سے 5 برس قبل ایک اور گوردوارے کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے’۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ گوردوارا کو 1947 میں سکھوں کی پشاور سے بھارت ہجرت کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

سردار چرنجیت سنگھ پشاور کے علاوہ پنجاب میں منڈی بہاالدین اور گجرات میں مقامی مسلمانوں کی مدد سے مزید دو گوردوارے بھی حال میں دوبارہ کھل گئے ہیں۔

اناطولو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سردار رمیش سنگھ اور سردار چرنجیت سنگھ دونوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت کو حیران کن اور بدقسمتی قرار دیا کیونکہ جب سکھ اپنے بانی بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور پاکستان اور بھارت کی سرحد میں یاتریوں کے لیے کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرتار پور راہداری کا تاریخی افتتاح

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ مقدمہ طویل عرصے سے زیر التوا تھا، سپریم کورٹ مزید انتظار کرسکتی تھی لیکن فیصلے کے لیے یہی موقع چن لیا جب دونوں ملکوں کے درمیان بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے یہ قدم لیا گیا تھا’۔

خیال رہے کہ پشاور میں پاکستان میں بسنے والے سکھوں کی سب سے زیادہ تعداد آباد ہے جو 1960 کی دہائی میں ملحقہ قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوص سے کاروبار اور روزگار کے لیے آکر آباد ہوئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق 20 کروڑ آبادی کے حامل مسلمان ملک پاکستان میں 30 ہزار سے 40 ہزار سکھ آباد ہیں۔