عرب خاتون صحافی کو براہ راست کوریج کے دوران بوسہ دینے پر تنازع

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2019

ای میل

سامنے آنے والی ویڈیو میں راہ چلتے شخص کو اینکر کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے—اسکرین شاٹ
سامنے آنے والی ویڈیو میں راہ چلتے شخص کو اینکر کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے—اسکرین شاٹ

مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک لبنان میں رواں ماہ اکتوبر سے جاری مظاہروں کی کوریج کرنے والی خاتون صحافی کو براہ راست نشریات کے دوران راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ دیے جانے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔

لبنان میں رواں ماہ اکتوبر کے آغاز میں اس وقت مظاہرے شروع ہوئے تھے جب حکومت نے واٹس ایپ کالز پر ٹیکس کی تجویز دی تھی۔

حکومت نے واٹس ایپ پر ٹیکس کی تجویز ابتر مالی حالات اور حکومت کی آمدنی بڑھانے کی وجہ سے دی تھی لیکن حکومت کو یہ تجویز مہنگی پڑگئی اور عوام سڑکوں پر نکل آیا۔

ان ہی مظاہروں کے دوران لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے بھی ڈھائی سال تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کے بعد گزشتہ ماہ 29 اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

مظاہروں میں نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
مظاہروں میں نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں—فوٹو: اے ایف پی

سعد حریری دوسری مدت کے لیے 2016 میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ 2009 سے 2011 تک بھی وزیر اعظم رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد لبنانی حکومت کے دیگر وزرا نے بھی اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم ملک کے انتہائی ابتر معاشی حالات کی وجہ سے مظاہروں میں کمی نہیں ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق لبنان کا قرض بڑھ کر 86 ارب ڈالر سے زائد ہو چکا ہے جو اُس کی کل شرح نمو کا 150 فیصد ہے۔

اکتوبر کے وسط سے لبنان میں مظاہرے شروع ہوئے—فوٹو: رائٹرز
اکتوبر کے وسط سے لبنان میں مظاہرے شروع ہوئے—فوٹو: رائٹرز

بڑھتے عالمی قرضوں اور ابتر معاشی حالت کی وجہ سے مظاہرین حکمرانوں سے مستعفی ہونے سمیت معاشی اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان ہی مظاہروں میں شامل ایک شخص کی جانب سے مظاہروں کی براہ راست کوریج کرنے والی خاتون صحافی کو گال پر بوسہ دیا، جس کے بعد لبنانی سوشل میڈیا پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

گلف نیوز کے مطابق اسکائے نیوز عربیہ کی خاتون اینکر ڈیرن الہالو کو ایک شخص نے براہ راست کوریج کے دوران بوسہ دیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے طرح طرح کے تبصرے کیے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون اینکر کو راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ دیے جانے کی ویڈیو معروف صحافی و اینکر نیشان نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’انقلابی بوسہ‘۔

نیشان کی جانب سے ویڈیو شیئر کرنے کے بعد دیگر کئی صارفین نے بھی اس پر مذاق کیا اور اس پر طرح طرح کے تبصرے کیے۔

مزید پڑھیں: لبنان کے وزیر اعظم شدید مظاہروں کے بعد مستعفی

تاہم انسانی حقوق کی کارکن جارجز عیزی نے نیشان کی ویڈیو کو ہی شیئر کرتے ہوئے راہ چلتے شخص کی جانب سے خاتون اینکر کو دیے گئے بوسہ کو نامناسب قرار دیا۔

سعد حریری نے 29 اکتوبر کو استعفیٰ دیا تھا—فوٹو: رائٹرز
سعد حریری نے 29 اکتوبر کو استعفیٰ دیا تھا—فوٹو: رائٹرز

جارجز عیزی نے راہ چلتے شخص کی جانب سے خاتون اینکر کو بوسہ دیے جانے کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مزاحیہ کہنا غلط ہے۔

اسی طرح مظاہرے میں شامل شخص کی جانب سے خاتون اینکر کو براہ راست نشریات کے دوران بوسہ دیے جانے پر دیگر لبنانی سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بھی بحث دکھائی دی۔

جہاں کچھ افراد نے اسے مزاحیہ قرار دیا، وہیں کئی افراد نے راہ چلتے شخص کی حرکت کو ہراسانی سے تشبیہہ دی۔

مظاہروں میں یونیورسٹی کی طالبات بھی شامل ہو رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
مظاہروں میں یونیورسٹی کی طالبات بھی شامل ہو رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی