انٹیلیجنس ایجنسی کو الاٹ شدہ زمین کی قیمت وفاقی حکومت طے کرے گی

اپ ڈیٹ نومبر 16 2019

ای میل

2009 میں ایک شہری ادارے نے زون 4 میں 45 ایکڑ زمین ایجنسی کو الاٹ کی تھی —فائل فوٹو: فیس بک
2009 میں ایک شہری ادارے نے زون 4 میں 45 ایکڑ زمین ایجنسی کو الاٹ کی تھی —فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو الاٹ کردہ زمین کی لاگت جاننے کے لیے وفاقی حکومت کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ 2009 میں ایک شہری ادارے نے زون 4 میں 45 ایکڑ زمین ایجنسی کو الاٹ کی تھی جس کے لیے وزیراعظم کی منظوری لازمی تھی۔

وزیراعظم نے 2018 میں اس کے لیے منظوری دی تھی اور اب سی ڈی اے اس بات پر غور کررہا ہے کہ زمین کے لیے 2009 کی قیمت چارج کی جائے یا 2018 کی قیمت مقرر کی جائے۔

اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سی ڈی اے کو رقم ادا کی جانی تھی کیوں کہ مذکورہ زمین سرکاری رہائش گاہوں کے لیے خریدی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کی زمین فوج واپس لینا چاہتی ہے، سی ڈی اے

چنانچہ سی ڈی اے کے چیئرمین عامر علی احمد کی سربراہی میں ہونے والے سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آیا جس میں ذرائع کے مطابق تمام افراد کا موقف یہی تھا کہ زمین کی قیمت 2009 کے حساب سے طے کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے بورڈ مذکورہ معاملہ زمین کی قیمت اور ادائیگی کی قسطوں کے بارے میں رائے لینے کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوائے گا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ سال 2009 میں زمین کی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع گز تھی جبکہ گزشتہ برس جب وزیراعظم نے سمری منظور کی تو اس میں 2014 کی قیمت مقرر کردی گئی تھی جو 7 ہزار 200 روپے فی مربع گز تھی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: سی ڈی اے، وفاقی ایمپلائیز اور آرمی کے مابین اراضی کا تنازع ختم

اس حوالے سے ایک سی ڈی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ حکومت سے حکومت کا معاہدہ ہے یہ زمین سرکاری مقاصد کے لیے ایک سرکاری ایجنسی کے لیے خریدی گئی تو سہولت فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔

اسی اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ نے سیکڑ 1-11/2 میں گرڈ اسٹیشن کے لیے ایک زمین کی بھی منظوری دی تا کہ رہائشیوں کو درپیش بجلی کا مسئلہ حل ہوسکے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں سی ڈی اے کی ہاؤسنگ اسکیم پارک انکلیو 2 میں الاٹ کردہ پلاٹ کے لیے ادائیگیوں کو ری شیڈول کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ انکلیو انتظامیہ نے سی ڈی اے ٹیم کو روک کر خود تعمیرات گرادیں

خیال رہے کہ سی ڈی اے نے جنوری 2016 میں پارک انکلیو ایکسٹینشن میں 300 سے زائد پلاٹس فروخت کیے تھے اور اسے ایک سال کے عرصے میں اس علاقے میں ترقیاتی کام کروانے تھے جبکہ پلاٹ کے الاٹیز نے بروقت ادائیگیاں بھی کی تھیں۔

بعدازاں پلاٹ مالکان نے اپنی قسطیں جمع کروانا بند کردی تھیں کیوں کہ سی ڈی اے زمین پر ترقیاتی کاموں کا آغاز نہیں کرسکی تھی۔


یہ خبر 16 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔