اسلام مخالف ڈچ سیاستدان کے قتل کی منصوبہ بندی پر پاکستانی کو سزا

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2019

ای میل

ملزم نے دہشت گردی کے کسی مقصد کی تردید کی — فائل فوٹو / اے ایف پی
ملزم نے دہشت گردی کے کسی مقصد کی تردید کی — فائل فوٹو / اے ایف پی

ڈچ عدالت نے اسلام مخالف سیاستدان گیرٹ ویلڈرز کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے پاکستانی شخص کو 10 سال قید کی سزا سنادی۔

اس شخص نے گیرٹ ویلڈرز کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے بعد انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق اس شخص کو، جس کی مقامی میڈیا نے جنید کے نام سے شناخت کی، فیس بک پر ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد دی ہیگ میں ٹرین اسٹیشن سے اگست 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فیس بک پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں جنید کا کہنا تھا کہ وہ گیرٹ ویلڈرز کو جہنم واصل کرنا چاہتا ہے اور دیگر افراد پر اس سلسلے میں اس کی مدد کرنے پر زور دیا تھا۔

دی ہیگ کی ضلعی عدالت کے ججز نے فرانس سے آنے والے اس 27 سالہ شخص کو دہشت گردی کے مقصد کے ساتھ قتل کی منصوبہ بندی اور دیگر کو دہشت گردی کے لیے اکسانے کا مجرم قرار دیا۔

مزید پڑھیں: ہالینڈ:اسلام مخالف جماعت کی گستاخانہ کارٹون کے مقابلے کی مذموم کوشش

پریزائیڈنگ جج جین وین اسٹین نے کہا کہ 'ملزم نے ایک سے زائد بار کہا کہ گیرٹ ویلڈرز کی موت ایک اچھا عمل ہوگا۔

پراسیکیوشن کی جانب سے جنید کو 6 سال قید کی استدعا کی گئی تھی جس میں جج نے مزید 4 سال کا اضافہ کیا۔

جج جین وین اسٹین کا کہنا تھا کہ 'اس کے علاوہ ملزم ڈچ جمہوریت کے دل ایک پارلیمانی عمارت میں گیرٹ ویلڈرز کا قتل کرنا چاہتا تھا۔'

تاہم ملزم نے دہشت گردی کے کسی مقصد کی تردید کی۔

جنید نے ٹرائل کے دوران کہا کہ وہ امن پسند ہے اور فرانس سے نیدرلینڈز صرف گیرٹ ویلڈرز کے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے خلاف احتجاج کے لیے آیا تھا۔

ان کی فیس بک پر پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو ایک لاکھ 53 ہزار سے زائد افراد نے دیکھی تھی اور اسے 14 ہزار بار شیئر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہالینڈ کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے خود کو الگ کرلیا

عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنید، گیرٹ ویلڈرز کو کس طرح قتل کرنے کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا تاہم ججز کا کہنا تھا کہ جنید کی گرفتاری کے بعد ریکارڈ کی گئی ان کی فون کال میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ اپنے ساتھ کچھ مخصوص چیزیں رکھے ہوئے تھے جن کے بغیر اُن کا مشن مکمل نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ اگست 2018 میں دائیں بازو کے سیاستدان گیرٹ ویلڈرز نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے دو ماہ بعد پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے شدید غصہ ظاہر کرنے کے بعد اس مقابلے کو منسوخ کردیا تھا۔

گیرٹ ویلڈرز مہاجرین مخالف اور اسلام مخالف بیانات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں جنہیں ڈچ حکومت کی طرف سے چوبیس گھنٹے حفاظت فراہم کی گئی ہے۔