ہالینڈ کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے خود کو الگ کرلیا

اپ ڈیٹ 24 اگست 2018

ای میل

دی ہیگ: ہالینڈ کے وزیر اعظم نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے اپنی حکومت کو الگ کر لیا۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے متنازع رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کا قبیح اعلان کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 'گیرٹ ولڈرز حکومت کے رکن نہیں اور نہ ہی یہ مقابلہ حکومت کا فیصلہ ہے۔'

مارک روٹے نے گیرٹ ولڈرز کی جانب سے اس متنازع مقابلے کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 'گیرٹ ولڈرز کا مقصد اسلام سے متعلق بحث کا آغاز نہیں بلکہ جذبات کو بھڑکانا ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'ہالینڈ میں لوگوں کو آزادی اظہار کی دیگر ممالک سے کئی گنا زیادہ آزادی ہے اور گیرٹ ولڈرز بھی ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن کابینہ یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ یہ اس کا اقدام نہیں ہے۔'

مزید پڑھیں: ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

واضح رہے کہ کہ ہالینڈ کے وزیر اعظم کی جانب سے یہ بیان متنازع مقابلے کے بعد پاکستان کی طرف سے شدید غم و غصے کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔

پاکستان نے 20 اگست کو گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے معاملے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلامی شعائر کی تضحیک پر پاکستان نے ہالینڈ کی حکومت سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہالینڈ کے ناظم الامور کو وفاقی کابینہ کے احتجاج اور فیصلے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے ہالینڈ میں تعینات پاکستانی سفیر کو حکومت اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفرا کے ساتھ بھی معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔

گیرٹ ولڈرز وہی شخص ہے جس نے پارلیمنٹ میں قرآن مجید کی ترسیل روکنے کا بل پیش کیا تھا، اس کے علاوہ یہ ہالینڈ میں خواتین کے پردے پر پابندی کا بل بھی پیش کرچکا ہے۔

مغربی ممالک میں اس سے قبل بھی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے اس طرح کے مقابلے منعقد کیے جاتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔