دنیا بھر میں فرائض کی انجام دہی پر 250 صحافیوں کو قید کیا گیا، سی پی جے

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

ویت نام اب بھی  چین کے بعد ایشیا کا دوسرا بدترین جیلر ہے جہاں 12 صحافی زیر حراست ہیں—تصویر: شٹر اسٹاک
ویت نام اب بھی چین کے بعد ایشیا کا دوسرا بدترین جیلر ہے جہاں 12 صحافی زیر حراست ہیں—تصویر: شٹر اسٹاک

کراچی: آمرانہ حکومتوں کی جانب سے تنقیدی میڈیا کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے مسلسل چوتھے سال 2019 میں بھی دنیا بھر میں کم از کم 250 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ کم از کم 250 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے باعث جیل میں ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 255 تھی۔

سی پی جے نے جب سے صحافیوں کی حراست کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے، اس وقت سے سب سے زیادہ صحافیوں کو سال 2016 میں حراست میں لیا گیا تھا جن کی تعداد 273 تھی، اس کے علاوہ چین، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے بعد سب سے برے جیلر ایریٹیریا، ویت نام اور ایران ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصر: معروف صحافی 5 سالہ سزا مکمل کرنے کے بعد رہا

سروے رپورٹ کے مطابق چین نے پریس پر سختیوں میں اضافہ جبکہ ترکی نے آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کردیا ہے لہٰذا اپنے فرائض انجام دینے کی وجہ سے رواں برس دنیا بھر میں صحافیوں کو حراست میں لینے کی تعداد بلند ترین ریکارڈ کے قریب رہی ہے جبکہ رہا کیے جانے والے صحافی مقدمے یا اپیل کے منتظر ہیں۔

گراف—ڈان اخبار
گراف—ڈان اخبار

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں آمریت، عدم استحکام اور احتجاج کی وجہ سے زیادہ تر صحافی گرفتار ہوئے بالخصوص سعودی عرب، جو دنیا کے تیسرے بدترین جیلر مصر کے برابر آگیا۔

سی پی جے کے مطابق ویت نام اب بھی چین کے بعد ایشیا کا دوسرا بدترین جیلر ہے، جہاں 12 صحافی زیر حراست ہیں جبکہ پورے امریکا میں صرف 3 صحافیوں کو جیل بھیجا گیا تھا۔

دنیا بھر میں قید صحافیوں کی اکثریت کو ریاست مخالف الزامات کا سامنا ہے جبکہ جھوٹی خبر کے الزام میں قید صحافیوں کی تعداد 30 ہے جو گزشتہ برس 28 تھی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں صحافیوں پر تشدد کا خاتمہ کیسے ممکن؟

صحافیوں کے خلاف الزامات کا استعمال، جسے مصری صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے، اس میں سال 2012 کے بعد سے تیزی آئی کیونکہ سی پی جے کے مطابق اسے معلوم ہوا کہ پوری دنیا میں صرف ایک صحافی کو الزام کا سامنا تھا۔

گزشتہ برس روس اور سنگاپور سمیت جابرانہ ممالک میں ’جعلی خبروں‘ کو جرم بنانے کے لیے قانون سازی کی گئی۔

رواں برس کے اعداد و شمار کے مطابق 4 برسوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ترکی دنیا کا بدترین جیلر نہیں بنا تاہم قیدیوں کی تعداد میں کمی ترک میڈیا کے لیے صورتحال بہتر ہونے کی نشاندہی نہیں۔

گزشتہ برس کے 68 قیدیوں کے مقابلے میں تعداد کم ہو کر 47 ہوجانا اس بات کا عکاس ہے کہ صدر رجب طیب اردوان نے آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کرنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں، جس میں 100 سے زائد نیوز اداروں کی بندش اور اس کے عملے کے خلاف دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصر میں میڈیا دفتر پر چھاپا، 3 صحافی گرفتار

سی جے پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی جیلوں میں موجود 98 فیصد صحافی مقامی ہیں جو اپنے ملک کی صورتحال پر رپورٹنگ کررہے تھے، اس کے ساتھ ساتھ 4 میں 3 صحافی غیر ملکی ہیں جو سعودی عرب میں قید ہیں جبکہ ایک چین میں زیر حراست ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیل میں موجود صحافیوں کی تعداد کا 8 فیصد یا 20 صحافی خواتین ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 13 فیصد تھی۔

سیاست صحافیوں کو جیل میں پہنچانے کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے بعد انسانی حقوق اور بدعنوانی کے الزامات آتے ہیں جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ زیر حراست صحافیوں کی نصف سے زائد تعداد آن لائن اشاعت کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: مصر: الجزیرہ چینل کے صحافی کی حراست میں 17ویں مرتبہ توسیع

اس ضمن میں سی پی جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جول سائمن نے کہا کہ ’ایک صحافی کی حراست بھی صریح ناانصافی ہے اور اس سے ان کے اہلِ خانہ، دوست احباب اور ساتھیوں پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں'۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال سیکڑوں صحافیوں کی حراست عالمی نظام معلومات کے لیے خطرہ ہے، جس پر ہم سب انحصار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جابرانہ حکومتیں اپنے معاشروں اور پوری دنیا کو اہم معلومات سے محروم رکھنے کے لیے ظالمانہ حربے استعمال کررہی ہیں۔


یہ خبر 12 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔