بھارت: غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کا بل راجیا سبھا سے بھی منظور

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2019

ای میل

اس بل نے تاریخی غلطی کو سدھارا ہے، وزیر داخلہ امیت شاہ — فوٹو: بشکریہ ہندوستان ٹائمز
اس بل نے تاریخی غلطی کو سدھارا ہے، وزیر داخلہ امیت شاہ — فوٹو: بشکریہ ہندوستان ٹائمز

بھارت کی لوک سبھا کے بعد راجیا سبھا (ایوان بالا) نے بھی غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے سے متعلق ترمیمی بل 2019 کی منظوری دے دی۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق راجیا سبھا میں بل کے حق میں 125 اور مخالف میں 105 ووٹ ڈالے گئے۔

کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے بل کی منظوری پر کہا کہ بل کی منظوری سے چھوٹے ذہن اور متعصب طاقتوں کی فتح ہوئی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 'آج بھارت کی آئینی تاریخ کا تاریک دن ہے، یہ بل ہمارے آباؤ اجداد کے بھارت سے متعلق خیال سے متصادم ہے جس کے لیے وہ لڑے اور قربانیاں دیں اور اس کی جگہ ملک کو تقسیم اور مسخ شدہ بنا دیا گیا ہے جہاں مذہب، کسی کی قومیت کا تعین کرے گا۔'

یہ بھی پڑھیں: غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کا بل لوک سبھا میں پیش

قبل ازیں راجیا سبھا میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بل نے تاریخی غلطی کو سدھارا ہے۔

ایوان بالا میں بل پر بحث کے دوران انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر کی گئی تھی، یہ ایک تاریخی غلطی تھی جس کے باعث ہمیں یہ بل لانا پڑا۔'

راجیا سبھا میں بل پر چھ گھنٹے بحث ہوئی اور وزیر داخلہ کے جواب کے بعد اس پر ووٹنگ ہوئی۔

واضح رہے کہ لوک سبھا نے گزشتہ روز ہی ترمیمی بل کی منظوری دی تھی اور بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے اب بس صدر کے دستخط کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: شہریت بل سے مسلمانوں کو نکالنے پر ہزاروں افراد کا احتجاج

اس بل کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندوؤں سمیت دیگر اقلیتوں کو بھارت کی شہریت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

شہریت بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے چھ مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت کی فراہمی ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیر قانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا گیا ہے۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔