چین 'شیطان' وائرس سے لڑ رہا ہے، شی جن پنگ

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

جاپان اور جرمنی نے بھی انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کردی ہے— فوٹو: اے ایف پی
جاپان اور جرمنی نے بھی انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کردی ہے— فوٹو: اے ایف پی

ووہان: چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک 'شیطان' وائرس سے مقابلہ کر رہا ہے جس نے اب تک 100 سے زائد لوگوں کی جان لے لی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ریمارکس بیجنگ میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ سے چین میں ہزاروں لوگوں کو متاثر کرنے والے اور درجنوں ممالک تک پہنچنے والے نوول کورونا وائرس پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش پر بات کرتے ہوئے کہی۔

واضح رہے کہ جاپان اور جرمنی نے بھی انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کردی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ وبا چین کے وسطی شہر ووہان کی ایک گوشت کی مارکیٹ سے شروع ہوئی، جہاں یہ انسانوں میں منتقل ہونے کے بعد پورے ملک میں پھیل گیا جس کی وجہ سے حکام کو ملک بھر میں سفری پابندیاں عائد کرنی پڑیں۔

کئی ممالک کو ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر ووہان میں پھنسے اپنے شہریوں کی بھی فکر لاحق ہے، جسے چینی حکام نے وبا کے پھیلنے کے پیش نظر سیل کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: چین: کورونا وائرس سے ہلاکتیں 106 ہوگئیں، متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرگئی

دوسری جانب ٹوکیو نے وائرس کے شکار شہر میں اپنا طیارہ اتارا ہے، جس میں وہاں پھنسے جاپانی شہریوں کو واپس لایا جائے گا جبکہ امریکی طیارہ بھی امریکی شہریوں کو واپس لینے آج وہاں پہنچے گا۔

اس کے علاوہ فرانس، جنوبی کوریا اور جرمنی سمیت دیگر ممالک بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

چینی صدر نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ادہانوم کو بتایا کہ 'چینی عوام کورونا وائرس کی نئی قسم سے لڑ رہے ہیں، یہ ایک شیطان ہے اور ہم اسے چھپنے نہیں دیں گے، حکومت شفافیت کا مظاہرہ کرے گی اور بروقت معلومات کی فراہمی جاری کرے گی'۔

ان کی یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی جب وسطی صوبے ہوبے میں مقامی صحت حکام کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے پر چینی سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ نظر آرہا تھا۔

خیال رہے کہ چین میں عالمی تشویش کا سبب بننے والے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے ہلاکتوں کی تعداد 106 تک پہنچ گئی جبکہ صرف چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 4 ہزار 515 تک پہنچ گئی۔

وبا کو قابو کرنے کے لیے چین نے لاک ڈاؤن کو توسیع دیتے ہوئے 17 شہروں تک بڑھا دیا جس کے نتیجے میں 5 کروڑ سے زائد افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

علاوہ ازیں چین نے نئے قمری سال کی چھٹیوں میں 3 دن کا اضافہ کر کے اتوار تک اسے بڑھا دیا تاکہ ملک بھر میں دفاتر اور فیکٹریز بند ہونے کے باعث لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کا حکومتِ پاکستان سے مدد کا مطالبہ

تاہم عالمی تجارت کے مرکز اور ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر شنگھائی میں حکومت نے چھٹیوں میں ایک ہفتے کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 9 فروری تک بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب سائنسدان اس وائرس کے حوالے سے زیادہ فکر مند اس لیے ہیں کہ یہ سارس وائرس سے ملتا جلتا ہے جو 800 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ نیا کورونا وائرس سارس یا زکام کی طرح آسانی سے لوگوں میں پھیلتا محسوس نہیں ہورہا کیوں کہ اب تک جو کیسز سامنے آئے اس میں متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ اور وہ طبی کارکنان شامل ہیں جن کا مریضوں سے رابطہ ہوا تھا۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز (وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔

عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔

سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا دوا دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔

مگر سال 2020 کے اوائل میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چین میں اس وائرس کی ایک نئی مہلک قسم دریافت کی جسے نوول کورونا وائرس یا این کوو کا نام دیا گیا۔

عام طور پر یہ وائرس اس سے متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چین کو اس وقت دوہری پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ووہان اور ہوبے گنجان ترین آبادی والے علاقے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کو کسی اور جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں بلکہ اس سے مرض اور پھیل جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔