فلسطین: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی 'فائرنگ' سے 10 نمازی زخمی

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2020

ای میل

رکن اقوام متحدہ نے کہا کہ امریکی فیصلے کے بعد تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے—فوٹو: میڈل ایسٹ مانیٹر
رکن اقوام متحدہ نے کہا کہ امریکی فیصلے کے بعد تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے—فوٹو: میڈل ایسٹ مانیٹر
رکن اقوام متحدہ نے کہا کہ امریکی فیصلے کے بعد تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے—فوٹو: اناطولیہ
رکن اقوام متحدہ نے کہا کہ امریکی فیصلے کے بعد تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے—فوٹو: اناطولیہ

اسرائیلی پولیس نے یروشلم (بیت المقدس) کے اہم ترین مقام مسجد اقصیٰ میں گھس کر فائرنگ کرکے 10 نمازیوں کو زخمی کردیا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے امن کا تنازع منصوبہ پیش کیے جانے کے بعد اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر پہلا حملہ ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کابیت المقدس پرمتنازع فیصلہ ہواتو تعلقات منقطع ہوں،او آئی سی

ترکی کی 'انادولو' نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یروشلم اسلامک وقف آرگنائزیشن نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ سے 3 افراد کو گرفتار بھی کیا۔

ان کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں ربڑ کی گولیاں فائر کیں جس سے 10 افراد زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ ہزاروں فلسطینی خصوصی طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں اور اسرائیلی تسلط کو مسترد کرتے ہیں۔

اسرائیل نے 1967 میں مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران یروشلم کے مشرقی حصے پر قبضہ کیا تھا۔

حملہ اور جوابی حملہ

دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ شب کے آخری پہر میں حماس نے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اسرائیلی پولیس کے مطابق حماس کے ٹھکانوں سے 3 راکٹ فائر کیے گئے تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیلی پولیس کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ 'اسرائیل نے حماس کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے'۔

ان کے مطابق 'اسرائیل کے دفاعی نظام نے حماس کے ایک راکٹ کو ہوا میں ہی مار گرایا تاہم دیگر دو راکٹ کھلے میدان میں گرے'۔

امریکی فیصلے کے بعد تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے، رکن اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے پر فلسطینیوں کو 'صدمے' کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے تشدد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا۔

مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی امداد اور ورکس ایجنسی برائے فلسطین پناہ گزینوں (یو این آر ڈبلیو اے) کے قائم مقام سربراہ کرسچن سینڈرز نے کہا کہ 'ہمیں یقینی طور پر شدید خدشات ہیں کہ فلسطین سے متعلق امریکا کے متنازع امن منصوبے کے نتیجے میں جھڑپوں اور تشدد میں اضافہ ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بیت المقدس کے حوالے سے ممکنہ امریکی فیصلے کی مخالفت

انہوں نے جنیوا میں صحافیوں سے کہا کہ امریکی اقدام مقبوضہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ وہ مسلسل تسلط، ناکہ بندی اور تنازعات کے بعد تنازعات اور بحران کے بعد بحران میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں بہت سارے، لاتعداد فلسطینی صدمے کی حالت میں ہیں جنہیں یقین نہیں آرہا۔

واضح رہے کہ کرسچن سینڈرز ان دنوں جنیوا میں ہیں اور انہوں نے مشرق وسطیٰ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ضروری خدمات اور امداد کے لیے عطیات کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا کا امن منصوبہ

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم (بیت المقدس) اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگادی۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'اس طرح فلسطینیوں کے زیر کنٹرول علاقہ دگنا ہوجائے گا'۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کامقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

اس منصوبے میں امریکا نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادی اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔

منصوبے کے جواب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اوسلو معاہدے کے تحت سلامتی تعاون سے دستبردار ہونے پیغام پہنچا دیا۔

محمود عباس نے اسرائیلی وزیراعظم کو خبردار کیا ہے کہ اب فلسطین اوسلو کے معاہدے پر عملدرآمد سے آزاد ہے۔