ترک صدر کا دورہ پاکستان، 14 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے

اپ ڈیٹ 06 فروری 2020

ای میل

ترک صدر آخری مرتبہ 2016 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں پاکستان آئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ترک صدر آخری مرتبہ 2016 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں پاکستان آئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

ترک صدر رجب طیب اردوان دورہ پاکستان کے دوران 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر اسد قیصر نے بتائی، انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے تمام پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں کوالالمپور سربراہی اجلاس میں پاکستان کے شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد ترک صدر کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ یہ دوسری ملاقات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا دورہ پاکستان ملتوی، تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا

اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان 17 دسمبر کو جنیوا میں پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔

جس کے 3 روز بعد 20 دسمبر کو ترک صدر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی دھمکی کے باعث کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'پاکستان کو معاشی دشواریوں کے باعث سعودی عرب کی خواہشات پر عمل کرنا پڑا'۔

قبل ازیں گزشتہ برس 11 اکتوبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 23 اکتوبر کو سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کریں گے۔

بعدازاں 17 اکتوبر کو ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ ان کا دورہ ملتوی ہوگیا ہے اور نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، اس موقع پر دورہ ملتوی کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

تاہم اس وقت ترکی شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن میں مصروف تھا جس کے باعث امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے تھے۔

چنانچہ اب ترک صدر 13 فروری کو 2 روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات انتہائی گرمجوش اور مضبوط ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی اخلاقی سفارتی حمایت اور مدد کی ہے۔

اس کے علاوہ ترکی، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کا بھرپور حامی بھی ہے، جس نے ببانگ دہل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا پاکستان پہنچنے پر پرتپاک استقبال

واضح رہے کہ ترک صدر آخری مرتبہ 2016 میں اپنی اہلیہ اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے دورے حکومت میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے ترک صدر کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں شرکت کا بائیکاٹ کیا تھا۔