وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

17 دسمبر 2019

ای میل

وزیر اعظم نے ملاقات میں اعلیٰ سطح کی اسٹریٹیجک تعاون کونسل کے چھٹے اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کیا — فوٹو: اے پی پی
وزیر اعظم نے ملاقات میں اعلیٰ سطح کی اسٹریٹیجک تعاون کونسل کے چھٹے اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کیا — فوٹو: اے پی پی

جنیوا: وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم کے میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماﺅں کی جنیوا میں پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پر سائیڈ لائن ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

وزیر اعظم نے اعلیٰ سطح کی اسٹریٹیجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) کے چھٹے اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کیا جو آئندہ سال اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا اور جس کے دونوں رہنما شریک صدر ہوں گے۔

عمران خان نے مسئلہ جموں و کشمیر پر بھرپور حمایت اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) رابطہ گروپ میں معاملے پر ترکی کے متحرک کردار کو سراہا۔

وزیر اعظم نے دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی میزبانی کے لیے ترکی کے اقدامات کی بھی تعریف کی اور عالمی برادری کی جانب سے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی حمایت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم پہلے عالمی پناہ گزین فورم کی مشترکہ صدارت کیلئے جنیوا پہنچ گئے

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اہم معاملات میں دونوں ممالک کی مشترکہ رائے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان پناہ گزینوں کے پہلے عالمی فورم کے آغاز کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موجود ہیں۔

انہوں نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بے بس اور بے وسیلہ پناہ گزین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے، دنیا سے ایسے حالات کا خاتمہ کرنا ہوگا جس سے لوگ مہاجر بنتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں متنازع شہریت بل کی منظوری کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جان لے کہ بھارت میں پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران جنم لے رہا ہے، 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ عوام محصور ہیں، جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔