‘فتح اللہ تنظیم دہشت گرد، پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے‘

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2016

ای میل

اسلام آباد: پاکستان کے 2 روزہ دورے پر آنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ترک صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے موقع پر، صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، مسلح افواج کے سربراہان، پنجاب، سندھ، بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ، پنجاب اور بلوچستان کے گورنرز بھی پارلیمنٹ میں موجود تھے۔

پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں موجود نہیں تھے۔

ترک صدر طیب اردگان نے ریکارڈ تیسری بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا — ڈان نیوز
ترک صدر طیب اردگان نے ریکارڈ تیسری بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا — ڈان نیوز

اپنے خطاب میں صدر اردگان نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں سے محبت اور خلوص کا اظہار کرتا ہوں، ترکی سے آپ سب کےلیے محبتیں سمیٹ کر لایا ہوں۔

پاک افغان تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ’ہم چاہتےہیں کہ پاکستان اورافغانستان کےتعلقات بہترہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم ایک خونی تنظیم ہے اور خطے کے لیے خطرہ ہے، اس کا نیٹ ورک 120 ممالک میں ہے اور گولن پنسلوانیہ سے اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ فیٹو کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، میں اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون پر مشکور ہوں۔

15 جولائی کو ترکی میں بغاوت کی کوشش کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’باغی طاقتوں سے ملنے والے اسلحے کے تانے بانے مغرب سےملتے ہیں، مغرب، داعش اور القاعدہ کی مدد کررہا ہے، داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘۔

شدت پسند تنظیم داعش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہوں‘۔

امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کے حوالے سے ترک صدر نے کہا کہ ’ترکی کے اندر بغاوت کی کوششوں کےخلاف کارروائی کررہےہیں،گولن 120ملکوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھا ہوا ہے‘۔

ترک صدر نے کہا کہ 15جولائی کی بغاوت کی مذمت کرنے والا پاکستان سب سے پہلا ملک تھا، ہم اس بھائی چارے کو دنیا بھر میں مقبول کریں گے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری عمل مستحکم ہوا ہے، پاکستان نے مسلم امہ کے لیے ایک اہم مثال پیش کی ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ سے تیسری مرتبہ خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک ترک تعلقات کونئی بلندی پر پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان اور ترکی کی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں، ہر طرح کی ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا‘۔

ترک صدر نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے خلاف ترکی کی جدوجہد جاری رہے گی، دہشت گرد تنظیموں کےخلاف ہمارا تعاون جاری وساری رہنا چاہیے‘۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کشمیر کا مسئلہ کشمیری بھائیوں کی خواہش کے مطابق حل ہونا چاہیے، ترکی مسئلہ کشمیر کے حوالے اپنی کوششیں اقوام متحدہ میں آگے بڑھائے گا، کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ ہیں، وہاں درد ناک واقعات پیش آرہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ تعلیم کےمیدان میں پیشرفت آگےبڑھائیں گے، پاکستان کے ساتھ انڈر گریجویٹ اوراعلیٰ تعلیم کے معاہدے طے پائیں گے۔

پاکستان ترکوں کا دوسرا گھر

وزیر اعظم نواز شریف اور ترک صدر کے درمیان وزیر اعظم ہاؤس میں ’ون آن ون ‘ ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ ترک صدر کو پاکستان میں خود آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکوں کو دوسرا گھر ہے، ترکی میں بغاوت کی ہونے والی کوشش سے پاکستان کو دھکچہ پہنچا، پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں نواز شریف اور ترک صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی — فوٹو / وزیر اعظم ہاؤس فیس بک
وزیر اعظم ہاؤس میں نواز شریف اور ترک صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی — فوٹو / وزیر اعظم ہاؤس فیس بک

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترک عوام نے بغاوت کی کوشش ناکام بناکر نئی تاریخ رقم کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں، ترکی صدر اردگان کی قیادت میں ترقی کے منازل طے کررہا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ’میں مسئلہ کشمیر پر امن حل پر زور دینے پر صدر اردگان کا مشکور ہوں‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان فتح اللہ گولن کے تمام ادارے بند کرے، ترکی

انہوں نے بتایا کہ ترک صدر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک نے 2017 کے آخر تک آزادانہ تجارت کے معاہدے پر بات چیت مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے حوالے سے پاکستان کی حمایت پر ترکی کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پاک ترک دوستی خطے میں استحکام کا ایک اہم عنصر ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا اور اسے مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ 2017 میں پاک ترک سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہوجائیں گے اور اس سنگ میل کو بھرپور طریقے سے منایا جائے گا۔

پاکستان کی دوستی ناقابل فراموش

وزیر اعظم نواز شریف اور ترک صدر طیب اردگان مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں — ڈان نیوز
وزیر اعظم نواز شریف اور ترک صدر طیب اردگان مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں — ڈان نیوز

ترک صدر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی دوستی اورساتھ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، پاکستان اورترکی مشکل وقت میں ایک ساتھ رہے‘۔

ترک صدر نے کہا کہ ’ہم اپنے تمام دوست ممالک کو فتح اللہ ٹیرر آرگنائزیشن (فیٹو) سے خبردار کررہے ہیں ، ہم اس معاملے پر پاکستان کی جانب سے دکھائی جانے والی یکجہتی اور اس گروپ کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرنے پر مشکور ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس تنظیم کو ختم کرنا ضروری ہے، یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان میں پاک ترک اسکولز کا پاکستان اور ترکی کے درمیان مشترکہ تعاون کے ذریعے بہترین طریقے سے خیال رکھا جائے گا‘۔

طیب اردگان نے کہا کہ ’پاک ترک اسکولز کے عملے کو 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دینا پاکستان کے تعاون اور یکجہتی کا ثبوت ہے ، اس تنظیم کو پاکستان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ترک عملے کی بے دخلی، والدین اور طلبہ پریشان

واضح رہے کہ ترکی فتح اللہ گولن سے وابستہ تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور 15 جولائی کو ہونے والی بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار گولن کو ٹھہراتا ہے۔

ترکی نے پاکستان سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاک ترک اسکولوں کے خلاف کارروائی کرے جس کے بعد پاکستان نے ان اسکولوں میں موجود ترک عملے کو 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ترکی میں بغاوت کے فوراً بعد مجھے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف ، صدر ممنون حسین اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے فون آئے، ہم پاکستان اور یہاں کے عوام کا اخلاص کبھی بھول نہیں سکتے‘۔

ترک صدر نے کہا کہ ’پاک افغان تعلقات بہتربنانےکے لیے کردار ادا کریں گے، پاکستان، افغانستان اورترکی دوست ہیں۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اوربھارت مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرسکتےہیں، کشمیر کے معاملے پر پاکستان کےمؤقف کی تائیدکرتےہیں‘۔

اردگان نے کہا کہ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی بھی باعث تشویش ہے اور ہم اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی کشیدہ صورتحال کشمیر میں موجود ہمارے بھائیوں اور بہنوں پر اثر انداز ہورہے ہیں اور اب ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ سیاسی، عسکری، تجارتی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کو مزیدوسعت دینےکاعزم رکھتےہیں، ترکی پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل تعاون کرےگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان چھوڑنے کے حکم پر ترک اساتذہ کا عدالت سے رجوع

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے جبکہ اس بات کی توثیق کی کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان 2017 تک آزادانہ تجارتی معاہدہ ہوجائے گا۔

دونوں سربراہان مملک کی ملاقات کے بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔

’ترکی پاکستان کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتا ہے‘

پاک ترکی سرمایہ کاری گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردگان نے کہا کہ ’ترکی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی ترقی سمجھتا ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ ترکی پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

ترک صدر کا استقبال

وزیر اعظم ہاؤس آمد پر ترک صدر کا شاندار استقبال کیا گیا، وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے انہیں خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر ترک صدر کے استقبال میں رسمی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور اس دوران دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ مسلح افواج کے چاک و چوبند دستوں نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف نے ترک صدر کا تعارف کابینہ کے ارکان سے کرایا جبکہ انہوں نے ترک وفد سے بھی ملاقات کی۔

ترک صدر رجب طیب اردگان آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ ان کے دورے کا مقصد باہمی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

نور خان ایئربیس پر آمد کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف ترک صدر طیب اردگان کا استقبال کررہے ہیں— فوٹو / اے پی پی
نور خان ایئربیس پر آمد کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف ترک صدر طیب اردگان کا استقبال کررہے ہیں— فوٹو / اے پی پی

طیب اردگان گزشتہ روز اپنی اہلیہ امینہ اردگان اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے تھے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

واضح رہے کہ 4 ماہ قبل جولائی میں ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی جسے ترک عوام نے ناکام بنادیا تھا اور اس واقعے کے بعد ترک صدر طیب اردگان کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔

بغاوت کے بعد ترک حکومت نے ایک لاکھ 10 ہزار کے قریب باغی فوجیوں، ججز اور ٹیچرز کو معطل، برطرف یا گرفتار کرلیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کی پاکستان آمد کے موقع سے قبل ہی وزارت داخلہ نے پاک ترک اسکولز اور کالجز کے ترک عملے کو 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا جو مبینہ طور پر امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے تحت چلائے جاتے ہیں۔

طیب اردگان نے فتح اللہ گولن پر بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا تھا اور پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ملک میں اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔

اپنے پیغام میں ترک صدر نے بغاوت کے دوران حکومت کا ساتھ دینے پر پاکستانی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

ترک صدر طیب اردگان ریکارڈ تیسری بار پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے اور وہ تین بار پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والی پہلی غیر ملکی شخصیت بن جائیں گے۔

طویل المدتی شراکت داری کی تجویز

ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے ترک ہم منصب طیب اردگان کا استقبال کیا — فوٹو / اے پی
ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے ترک ہم منصب طیب اردگان کا استقبال کیا — فوٹو / اے پی

اپنے دو روزہ دورے کا آغاز طیب اردگان نے صدر پاکستان ممنون حسین سے ملاقات سے کیا۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر ممنون حسین نے طویل المدتی دفاعی شراکت داری کی تجویز پیش کی اور طیب اردگان نے اس خیال کی حمایت کی۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع کے کئی معاہدے موجود ہیں ، ترکی پاکستان کو خالد کلاس آبدوزوں کی تجدید میں معاونت فراہم کررہا ہے جبکہ نیول فلیٹ ٹینکر کی تعمیر میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا پاکستان پہنچنے پر پرتپاک استقبال

ترکی نے پاکستان سے ایم ایف آئی 17 سپر مشاق طیارے خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی تھی۔

دفاع کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے کشمیر و افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور کے حوالے سے روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

صدر ممنون حسین نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں پاکستان کی حمایت پر ترک صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ترک صدر طیب اردگان کی آمد کے موقع پر شاہراہوں پر استقبالیہ بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں — فوٹو / اے پی
ترک صدر طیب اردگان کی آمد کے موقع پر شاہراہوں پر استقبالیہ بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں — فوٹو / اے پی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد ترک صدر لاہور کا دورہ کریں گے جہاں وزیر اعظم نواز شریف ترک صدر کے اعزاز میں شاہی قلعہ میں پر تکلف ضیافت کی میزبانی کریں گے۔

اس کے علاوہ پاک ترک جوائنٹ بزنس فورم کا اجلاس بھی لاہور میں ہوگا جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے پر آئندہ ماہ دستخط ہونے کا امکان ہے۔

ترکی نے پاکستان کی قابل تجدید توانائی کے سیکٹر اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔